logo logo
AI Search

وضو میں سر کے مسح کا طریقہ

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وضو میں سر کے مسح کرنے کا طریقہ

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ وضو میں سر کے مسح کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب

مرد و عورت دونوں کےلئے وضو میں چوتھائی سر کا مسح کرنا فرض، اور پورے سرکا مسح کرنا سنت مؤکدہ ہے، اگر کسی نے پورے سر کا مسح نہ کیا بلکہ اس سے کم کیا تو وضو ہو جائے گا، لیکن بلا عذراس کی عادت بنا لینے سے وہ گنہگار ہوگا۔

کتب فقہ میں پورے سر کا مسح کرنے کے دو طریقے منقول ہیں، جن میں سے پہلا طریقہ بہتر اور مستحب ہے، البتہ! دوسرے طریقے پر عمل کرنے سے بھی سنت ادا ہو جائے گی، لہذا اگر مشکل سے بچنے کے لیے کوئی اس پر بھی عمل کرتا ہے تو شرعاً حرج نہیں۔ دونوں طریقے یہ ہیں:

(1) دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے اور کلمے کی انگلیاں چھوڑ کر بقیہ تین تین انگلیوں کے سرے ملا کر پیشانی پر رکھے اور فقط یہ انگلیاں سر سے ٹچ کرتے ہوئے ان کو گُدی کی طرف اس طرح کھینچ کر لائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں ، پھر فقط ہتھیلیوں سے سر کی دونوں جانبوں کا مسح کرتے ہوئےپیشانی تک لے آئے۔

(2) انگوٹھے اور انگلیوں کے علاوہ دونوں ہاتھوں کی تین تین انگلیاں اور ہتھیلیاں، پیشانی سے گدی کی طرف اس طرح کھینچ کر لائے کہ پورے سر کا مسح ہو جائے۔ پھر بیان کردہ دونوں طریقوں میں انگوٹھوں کے ساتھ کانوں کے بیرونی حصے، اور کلمے کی انگلیوں سے اندرونی حصے کا مسح کرے۔

علامہ ابوبکر حدادی رحمۃ اللہ علیہ ”الجوہرۃ النیرہ“ میں پورے سر کے مسح کے سنت مؤکدہ ہونے اور اس کے طریقے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”و الاستيعاب سنة مؤكدة على الصحيح و صورته أن يضع من كل واحدة من اليدين ثلاث أصابع على مقدم رأسه و لا يضع الإبهام و لا السبابة و يجافي بين كفيه و يمدهما إلى القفا ثم يضع كفيه على مؤخر رأسه و يمدهما إلى مقدم رأسه ثم يمسح ظاهر أذنيه بإبهاميه و باطنهما بمسبحتيه كذا في المستصفى و يمسح رقبته بظهر اليدين“ ترجمہ: اور پورے سر کا مسح کرنا صحیح قول کے مطابق سنتِ مؤکدہ ہے۔ ۔ ۔ اور اس کی صورت یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی تین تین انگلیوں کو سر کے اگلے حصے (پیشانی) پر رکھے، اور انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو الگ رکھے، اور اپنی ہتھیلیوں کو سر سے دور رکھے اور انگلیوں کو گدی (گردن کی پشت) تک کھینچ کر لے جائے، پھر وہاں سے اپنی ہتھیلیوں کو سر کے پچھلے حصے پر رکھ کر آگے پیشانی کی طرف لائے، پھر اپنے دونوں انگوٹھوں کے پیٹ سے کانوں کے ظاہر (بیرونی سطح) کا اور شہادت کی انگلیوں سے کانوں کے باطن (اندرونی حصہ) کا مسح کرے، جیسا کہ مستصفیٰ میں ہے، اور اپنی انگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے۔ (الجوهرة النيرة، کتاب الطهارۃ، باب الوضوء، جلد 1، صفحہ 33، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

فتاوی رضویہ میں ہے: ”وضو میں مسح سر کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی ساری ہتھیلیاں انگلیوں کے سرے تک تر کرے (لوگ جو فقط انگلیاں بھگو لیتے ہیں، نہ چاہیے)، پھر دونوں انگوٹھے اور کلمے کی انگلیاں اور ہتھیلیاں جدا رکھ کر باقی تین تین انگلیاں پوری (نہ فقط پورے جس طرح جاہل کرتے ہیں)، پیشانی پر رکھ کر آخر سر تک (ہاتھ جاکر) پھیرے (نہ جس طرح جاہل پچھڑتے ہوئے ہاتھ لے جاتے ہیں کہ کہیں لگے کہیں نہیں)، پھر سر کی دونوں کروٹیں دونوں ہتھیلیوں سے مسح کرے اور کانوں کا پچھلا حصہ دونوں انگوٹھوں کے پیٹ سے مسح کرے اور اگلا حصہ کلمے کی انگلیوں کے پیٹ سے اور ہتھیلیوں کی پشت گردن پر پھیرے ۔ ۔ ۔ ۔ مسح سر میں ادائے سنّت کو یہ بھی کافی ہے کہ انگلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھے اور ہتھیلیاں سر کی کروٹوں پر اور ہاتھ جا کر گدی تک کھینچا لے جائے۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 04، صفحہ 621، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ بہارِ شریعت میں سر کے مسح کا مستحب طریقہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”مسحِ سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمے کی اُنگلی کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین اُنگلیوں کا سرا، دوسرے ہاتھ کی تینوں اُنگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گُدّی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور کلمہ کی اُنگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصہ کا مسح کرے اور انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سَطح کا اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ دوم، صفحہ 298، مکتبۃ المدینہ کراچی)

پہلا طریقہ ہی بہتر و مستحب ہے، اس پر تفصیلی کلام کے متعلق فتاوی جامعہ اشرفیہ میں ہے: ”مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قدس سرہ فتاویٰ رضویہ جلد اول ص: 258 کے حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں: سارے سر کا مسح سنت ہے اور اس کا جو یہ طریقہ بعض نے رکھا ہے کہ: ہر ہاتھ کی تین انگلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھے انگوٹھا اور کلمے کی انگلی اور ہتھیلی نہ لگائے، ان چھ انگلیوں کو آگے سے گدی تک وسط سر پر لے جائے اور ہتھیلیوں سے سر کے کروٹوں پر مسح کرے اور کانوں کے پچھلے حصے کو انگوٹھوں اور اگلے کو انگشتان شہادت کے پیٹ، اور گردن کے پچھلے حصے کو انگلیوں کی پشت سے مسح کرے"۔ اس طریقے کی کچھ حاجت نہیں، اس میں تکلفات ہیں اور وہ بھی بلا وجہ۔ بلکہ سارے ہاتھ سر کے آگے سے گدی تک کھینچ لے جائے یوں کہ سر کے اگلے حصے میں وسط سر پر دونوں طرف انگلیاں رکھے اور سر کے کروٹوں پر ہتھیلیاں اس میں سر کا استیعاب ہو جائے گا۔ پھر اسی کے ص: 730 کے حاشیہ پر تحریر فرمایا: ”مسح سر میں ادائے سنت کو یہ بھی کافی ہے کہ انگلیاں سر کے اگلے حصے پر رکھے اور ہتھیلیاں سر کے کروٹوں پر اور ہاتھ جما کر گدی تک کھینچتا لے جائے۔

لیکن اسی (فتاویٰ رضویہ) میں ایک صفحہ پہلے ص: 729 کے حاشیہ میں تحریر فرمایا: ”وضو میں مسح سر کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ اپنی ساری ہتھیلیاں انگلیوں کے سرے تک تر کرے، پھر دونوں انگوٹھے اور کلمے کی انگلیاں اور ہتھیلیاں جدا رکھ کر باقی تین تین انگلیاں پوری پیشانی پر رکھ کر آخر سر تک ہاتھ جما کر پھیرے پھر سر کی دونوں کروٹیں دونوں ہتھیلیوں سے مسح کرے۔

پہلی عبارت سے یہ متبادر ہوتا ہے کہ راجح یہی طریقہ ہے جو خانیہ سے منقول ہوا کہ ہتھیلیوں اور انگلیوں سمیت ایک ہی بار پورے سر کا مسح کر لیں اس لیے کہ فرمایا: "اس میں تکلفات ہیں" لیکن ص: 729، 730 کی عبارتیں اس پر نص ہیں کہ بہتر دوسرا طریقہ ہے۔ اس لیے کہ ص: 730 پر پہلے طریقے کو فرمایا۔ مسح راس میں ادائے سنت کو یہ بھی کافی ہے۔ اس سے خود مستفاد کہ دوسرا طریقہ بہتر ہے بلکہ ص: 729 کی عبارت نص صریح ہے کہ دوسرا طریقہ بہتر ہے۔ صاف فرمایا: مسح سر کا بہتر طریقہ یہ ہے، پھر اصل فتوے میں "ما استحسنوا فی صفة مسح الرأس" یہ بھی اسی کی دلیل ہے۔ اب بحث یہ رہ جاتی ہے کہ یہ طریقہ مستحب ہے کہ نہیں۔ استحسان سے استحباب پر دلیل لائی جا سکتی ہے اگرچہ یہ بھی کلیۃً صحیح نہیں لیکن باعتبار اغلب و اکثر درست ہے اسی لیے بہار شریعت میں اسے مستحب کہا۔

ہاں اس طریقے کے مستحب ہونے کی سب سے قوی دلیل جو اصل فتوے کے اخیر میں عربی عبارت میں فرمایا: ”و زاد غیر الخلاصة و المنية هكذا روت عائشة رضي اللہ تعالى عنها مسح رسول اللہ صلى اللہ تعالى عليه و سلم“ کہ جب یہ طریقہ خود حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے مروی ہے تو کم از کم اس کے مستحب ہونے میں کیا شبہہ۔ هذا ما عندي و العلم بالحق عند اللہ تعالى وعلمه أجل و أتم۔ ( فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 05، صفحہ 32 - 34، مطبوعہ جامعہ اشرفیہ ہند)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی 
فتوی نمبر: FatwaQA-016
تاریخ اجراء: 12 ربیع الاول 1448ھ / 25 اگست 2026ء