ایک مدرسے کی آمدنی دوسرے پر خرچ کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مختلف مدارس کے مفتش کے تنخواہ ایک مدرسے کی آمدنی سے دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر ایک شخص تین مدرسوں کا متولی ہو اور ہر مدرسے کا چندہ الگ الگ جمع ہوتا ہو اور وہ تینوں مدرسوں پر ایک مفتش مقرر کرے، تو کیا اس مفتش کی تنخواہ کسی ایک مدرسے کے مکان کے کرائے سے ادا کی جاسکتی ہے؟
جواب
مدرسے کے لیے جمع کیا گیا چندہ، یاوقف شدہ جائیداد (جیسے مکان یا دکان) کی آمدنی دراصل اُسی مدرسے کے ساتھ خاص ہوتی ہے، اس لیے شرعاً لازم ہے کہ اُس چندے یا آمدنی کو خاص اُسی مدرسے کے ضروری اخراجات میں صرف کیا جائے۔ ایک مدرسے کی آمدنی کو دوسرے مدرسے کے اخراجات میں لگانا شرعاً جائز نہیں۔ لہذا صورتِ مسئولہ میں مفتش کو تینوں مدرسوں کے چندے یا آمدنی سے برابر برابر تنخواہ دی جائے گی، کسی ایک مدرسے کی آمدنی سے پوری تنخواہ ادا کرنا شرعاًدرست نہیں۔ اگر متولی اس کے خلاف کرے گا اور ایک مدرسے کی رقم کو دوسرے میں خرچ کر دے گا، تو اس پر تاوان لازم ہوگا، یعنی جتنی رقم دوسرے مدرسے میں خرچ ہوگی، اتنی رقم اُسے اپنی جیب سے مدرسے کو ادا کرنا لازم ہوگا اور توبہ بھی کرنی ہوگی۔
چنانچہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے: ’’(اتحد الواقف والجهة وقل مرسوم بعض الموقوف عليه) بسبب خراب وقف أحدهما (جاز للحاكم أن يصرف من فاضل الوقف الآخر عليه) لأنهما حينئذ كشيء واحد (و إن اختلف أحدهما) بأن بنى رجلان مسجدين أو رجل مسجدا و مدرسة و وقف عليهما أوقافا (لا) يجوز له ذلك‘‘ ترجمہ: اگر واقف اور جہت وقف ایک ہو، اب کسی وقف کے خراب ہو جانے کی وجہ سے بعض موقوف علیہ مستحقین کا وظیفہ کم پڑجائے، تو حاکم کے لیے جائز ہے کہ دوسرے وقف کی زائد آمدنی میں سے اس پر خرچ کرے، کیونکہ اس صورت میں دونوں ایک ہی چیز کی طرح ہیں۔ اور اگر واقف یا جہت وقف میں کوئی مختلف ہو (یا واقف اور جہت وقف دونوں ہی مختلف ہوں) مثلاً دو مختلف افراد نے دو علیحدہ علیحدہ مسجدیں بنائی ہوں، یا ایک نے مسجد اور دوسرے نے مدرسہ بنایا ہو اور دونوں کے لیے الگ الگ اوقاف وقف کیے ہوں، تو ایسی صورت میں ایک کے وقف کی آمدنی دوسرے پر خرچ کرنا جائز نہیں۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: (قوله: اتحد الواقف و الجهة) بأن وقف وقفين على المسجد أحدهما على العمارة و الآخر إلى إمامه أو مؤذنه و الإمام و المؤذن لا يستقر لقلة المرسوم للحاكم الدين أن يصرف من فاضل وقف المصالح، و العمارة إلى الإمام و المؤذن باستصواب أهل الصلاح من أهل المحلة إن كان الوقف متحدا لأن غرضه إحياء وقفه، و ذلك يحصل بما قلنا عن البزازية و ظاهره اختصاص ذلك بالقاضي دون الناظر ۔۔۔ (قوله: بأن بنى رجلان مسجدين) الظاهر أن هذا من اختلافهما معا أما اختلاف الواقف ففيما إذا وقف رجلان وقفين على مسجد
ترجمہ: (مصنف کا قول: واقف اور جہت ایک ہو) یعنی ایک شخص نے دو وقف کیے ہوں جو دونوں ایک ہی مسجد کے لیے ہوں، لیکن ان میں سے ایک مسجد کی تعمیر کے لیے ہو اور دوسرا امام یا مؤذن کے لیے ہو، اور امام و مؤذن کے لیے مقررہ وظیفہ کم ہونے کی وجہ سے وہ مستقل نہ رہ سکے۔ تو اس صورت میں حاکم کے لیے جائز ہے کہ وہ اہلِ محلہ کے نیک و صالح لوگوں کی رائے کے مطابق مسجد کی تعمیر کے وقف کی زائد آمدنی میں سے امام اور مؤذن کو دے دے، بشرطیکہ وقف ایک ہی ہو، کیونکہ واقف کا مقصد اپنے وقف کو باقی اور آباد رکھنا ہوتا ہے، اور یہ مقصد اسی طریقے سے حاصل ہو جاتا ہے جیسا کہ ہم نے بزازیہ سے نقل کیا۔ اور اس عبارت سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اختیار صرف قاضی (شرعی حاکم) کو حاصل ہے، متولی (ناظر) کو نہیں۔ (مصنف کا قول: یعنی دو آدمیوں نے دو مسجدیں بنائی ہوں) ظاہر یہ ہے کہ یہ صورت دونوں (واقف اور جہت وقف ) کے ایک ساتھ اختلاف کی ہے۔ اور اگر صرف واقف کا اختلاف ہو تو وہ اس صورت میں ہے کہ دو آدمیوں نے ایک مسجد کے لیے دو الگ الگ وقف کیے ہوں۔ (تنویر الابصار مع در مختار ورد المحتار، جلد 6، صفحہ 553، دار المعرفۃ، بیروت)
سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: وقف جس غرض کےلئے ہے اس کی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو، دوسری غرض میں صرف (خرچ) کرنی حرام ہے (لہذا) وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی، نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 205، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک وقف کی آمدنی دوسرے پر خرچ کردی تو متولی پر تاوان لازم ہوگا، چنانچہ سیدی اعلی حضرت علیہ الرحمۃ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: جو صرف ہو گیا ان کا تا وان منتظمین پر لازم ہے ان سے وصول کیا جائے اور ان کا معزول کرنا واجب ہے کہ وہ غاصب و خائن ہیں اگر صورت مذکورہ واقعیہ ہے ۔۔ درمختار میں ہے: ’’ینزع وجوبا بزازیہ و لو الواقف درر فغیرہ بالاولی غیر مأمون‘‘ متولی سے وجوباً وقف واپس لیا جائیگا (بزازیہ) اگرچہ خود واقف ہو (درر) لہذا غیر واقف اگر متولی ہوتو بدرجہ اولیٰ اس سے وقف واپس لیا جائیگا درانحالیکہ وہ امین نہ ہو (بلکہ خائن ہو)۔ و اللہ تعالٰی اعلم۔ (ت) (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 469، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1177
تاریخ اجراء: 10 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 28 اپریل 2026ء