مسجد کا چندہ غیر مصرف میں لگانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد کا چندہ غیر مصرف میں لگانے پر تاوان
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ مسجد کی جگہ جن لوگوں نے دی تھی انھوں نے مسجد سے متصل کچھ جگہ اپنے عزیزوں کی قبروں کے لیے چھوڑی تھی، جس پر چند قبریں بنی ہوئی بھی ہیں۔ ان قبروں کے آگے قبلہ رخ پر کچھ جگہ ابھی بھی خالی پڑی ہے۔ مسجد انتظامیہ نے بعد میں مالک زمین سے اجازت لے کر وہ جگہ مسجد میں شامل کرنے کے خیال سے فی الحال بغیر پوچھے اس جگہ کی سائیڈوں والی کچھ دیواریں مسجد کے چندے کی رقم سے تعمیر کردی ہیں۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ اس تعمیر پر مسجد کے چندے سے رقم لگانے کا کیا حکم ہے؟
جواب
سوال میں بیان کی گئی صورت میں وہ جگہ جب فی الحال مسجد میں شامل نہیں تو اس جگہ کسی بھی قسم کی تعمیرات وغیرہ میں مسجد کے چندے کی رقم استعمال کرنا شرعا ہرگز درست نہیں۔ بلکہ یہ مسجد کا چندہ غیر مصرف میں استعمال کرنا ہے، جو کہ ناجائز و گناہ ہے اور ایسا کرنے والوں پر اس سے توبہ اور اتنی رقم کا تاوان مسجد کو ادا کرنا لازم ہے۔
اس حکم کی تفصیل یہ ہے کہ مسجد کا عمومی چندہ اور دیگر ذرائع آمدن ،مسجد کے مصالح و معروف مصارف کے لئے ہوتے ہیں۔ عرف و مصالحِ مسجد کے علاوہ میں ان کا خرچ کرنا خلافِ مصرف استعمال ہوگا، اور کسی بھی وقف کا خلافِ مصرف استعمال جائز نہیں ہوتا۔ تو دریافت کی گئی صورت میں انتظامیہ نے مسجد کا چندہ جب خلافِ مصرف ان خارجِ مسجد دیواروں کی تعمیر میں خرچ کردیا تو اس کی وجہ سے ان پر توبہ و تاوان لازم ہوگیا۔ لہذا ان پر لازم ہے کہ اتنی ہی رقم اپنی جیب سے مسجد کو دیں، اور سچی توبہ بھی کریں؛ کہ رقم دے دینے سے تاوان تو ادا ہو جائے گا، مگر اس غلط تصرف کا گناہ نہ مٹے گا جب تک سچی توبہ نہ کریں۔
نیز یہ بات خوب ذہن نشین رہے کہ مسجد کمیٹی یا کوئی بھی اتھارٹی مسجد کے اوقاف خلافِ مصرف استعمال کرنے کی ہرگز مجاز نہیں۔ وقف کسی کی ملکیت نہیں ہوتا کہ اس میں من چاہے ذاتی تصرفات وجود میں لائے جائیں۔ بلکہ وقف خالص ملکِ الٰہی عزوجل ہے، جس میں شریعت کی اجازت کے بغیر کوئی تصرف نہیں کیا جا سکتا۔
امام اہل سنت، اعلی حضرت، امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ فتاوی رضویہ میں فرماتے ہیں: وقف کو اس کے مقصد سے بدلنا جائز نہیں، شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ (یعنی واقف کی شرط وجوبِ عمل میں شارع علیہ الصلٰوۃ و السلام کی نص کی مثل ہے)۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 546، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور جگہ فرماتے ہیں: مسجد کی آمدنی مصالح مسجد کے لئے ہوتی ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 16، صفحہ 445 رضا فاؤنڈیشن لاہور)
نیز فرمایا: جو چیز جس غرض کےلئے وقف کی گئی، دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائز ہے، اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدہ کی ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 452، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ایک اور فتوے میں فرماتے ہیں: وقف جس غرض کے لیے ہے، اُس کی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو، دوسری غرض میں صَرف کرنی حرام ہے۔ وقفِ مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی، نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 205، 206، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
متولی کا مالِ وقف بطور قرض استعمال کرنے کے سوال کے جواب میں فتاوی رضویہ میں فرمایا: حرام، حرام؛ لأنہ تعدی علی الوقف و القیم اقیم حافظ لامتلف․ (ترجمہ: کیونکہ یہ وقف پر زیادتی ہے، حالانکہ متولی کو بطورِ محافظ مقرر کیا جاتا ہے نہ کہ ضائع کرنے والا۔) (پھر کسی کو قرض دینے کا جواب دیا:) نہ، لأنہ صرف فی غیر المصرف․ (یعنی یہ جائز نہیں، کیونکہ یہ مال وقف غیرِمصرف میں استعمال کرنا ہے۔) (فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 570، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
اسی فتاوی رضویہ میں ہے: مسجد اور اس کے متصل کوئی شے نہ متولی کی ملک ہے، نہ مصلیوں کی، نہ کسی غیر خدا کی۔ وہ سب خالص ملک الٰہی عزوجل ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 509، رضا فاؤنڈیشن لاہور)
مالِ مسجد خلافِ مصرف استعمال کرنے والے کے بارے میں فرمایا: توبہ و استغفار فرض ہے، اور تاوان لازم پھر دے دینے سے تاوان ادا ہوگیا، وہ گناہ نہ مٹا جب تک توبہ نہ کرے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 489، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ، مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جب عطیہ و چندہ پر آمدنی کا دار ومدار ہے، تو دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہل خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائداد وقف کرے، اسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صَرف کی جاسکتی ہے۔ دوسرے میں صَرف کرنا، جائز نہیں؛ مثلاً اگر مدرسہ کے لیے ہو تو مدرسہ پر صَرف کی جائے، اور مسجد کے لئے ہو تو مسجد پر، اور قبرستان کی حد بندی کے لئے ہو تو اس پر۔ (فتاویٰ امجدیہ، جلد 3، صفحہ 42، مکتبہ رضویہ، کراچی)
بہار شریعت میں ہے: مسجد کی ……… چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا ناجائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 10، صفحہ 561، 562 مکتبۃ المدینہ)
فتاوی خلیلیہ میں ارشاد فرمایا: مسجد کی اشیاء صرف مسجد میں استعمال ہوسکتی ہیں مسجد کے علاوہ کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کرسکتے۔ (فتاوی خلیلیہ، جلد 2، صفحہ 579، ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
امیر اہل سنت، حضرت علامہ مولانا الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ فتاوی رضویہ شریف کے حوالے سے فرماتے ہیں: مسجد کے نام پر ملا ہوا چندہ وہاں کے عرف کے مطابق استعمال کرنا ہوگا؛ مَثَلاً امام، مُؤَذِّن اور خادِم کی تنخواہیں، مسجِد کی بجلی کا بِل، عمارتِ مسجِد یا اُس کی اَشیا کی حسبِ ضَرورت مَرَمَّت، ضَرورتِ مسجِد کی چیزیں مَثَلاً لوٹے، جھاڑو، پائیدان، بتّی، پنکھے، چَٹائی وغیرہ۔ (چندے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 26، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2640
تاریخ اجراء: 07 رمضان المبارک 1447ھ / 25 فروری 2026ء