وقف کی گئی کتاب بیچنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مدرسے کے لئے وقف کی گئی کتاب بیچنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
سوال یہ ہے کہ سیدی شیخ مجدد الف ثانی علیہ الرحمۃ کی کتاب "مکتوبات امام ربانی"کسی نے ایک مدرسے کے لیے وقف کی ہے، اس کتاب کو باقاعدہ کوئی پڑھتا نہیں ہے، البتہ !کبھی کبھار پڑھتے ہیں، جیسے سال میں ایک دو بندے، کسی شخص کو وہ کتاب بہت پسند ہے، تو کیا وہ مارکیٹ ریٹ سے زائد پیسے دے کر، وہ کتاب مدرسے سے خرید سکتا ہے؟
جواب
دریافت کی گئی صورت میں اس کتاب کی خرید و فروخت جائز نہیں ہے، اس لیے کہ یہ وقف ہے، اور جب کوئی چیز وقف ہوجاتی ہے، تو وہ بندے کی ملکیت میں نہیں رہتی، لہذا اس کی خرید و فروخت جائز نہیں ہوتی۔
در مختار میں ہے "فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن" ترجمہ: جب وقف تام اور لازم ہوجائے تو نہ وہ کسی کی ملکیت رہتا ہے اور نہ ہی کسی کواس کا مالک بنایا جاسکتا ہے، نہ اسے عاریتاً دیا جاسکتا ہے اور نہ اسے رہن رکھا جاسکتا ہے۔
اس کے تحت علامہ شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه“ ترجمہ: یعنی نہ تو وقف شدہ چیز وقف کرنے والے کی ملکیت میں رہتی ہے اور نہ ہی اس کا کسی کو مالک بنا سکتے ہیں یعنی وقف کسی دوسرے کے لیے بیع وغیرہ کے ذریعے تملیک کو قبول نہیں کرتا اس لیے کہ اپنی ملکیت سے خارج چیز کا کسی دوسرے کو مالک بنانا محال ہے۔ (الدر مختار مع رد المحتار، جلد 6، صفحہ 539، 540، مطبوعہ کوئٹہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا محمد ابو بکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4900
تاریخ اجراء:28 شوال المکرم1447ھ/17اپریل 2026ء