logo logo
AI Search

میرے مرنے کے اگلے دن یہ مکان مسجد کا ہے، کیا یہ وقف ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا اس طرح کہنے سے مکان وقف ہوجائے گا کہ میرے مرنے کے اگلے دن یہ مسجد کا ہے ؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کا بیان ہے کہ آج سے تقریبا تین سال پہلے حالتِ صحت میں، میں نے مسجد کے اس وقت کے صدر صاحب کے سامنے اپنے مکان کیلئے یوں الفاظ کہے: ” جب تک میں زندہ ہوں تب تک میں اس میں رہوں گا جب میں مرجاؤں تومیرے مرنے کے اگلے دن یہ مسجد کا ہے۔“ میں نے پہلے بھی یہی الفاظ کہے تھے اور اب بھی یہی کہتا ہوں، ان الفاظ کے آگے پیچھے کچھ نہیں کہا تھا، جب پہلے یہ الفاظ کہے تھے تو یہ بھی کہا تھا کہ میں چونکہ غریب آدمی ہوں لہٰذا اگر ہوسکے تو مسجد سے میری خدمت کردی جائے۔

مسجد کے صدر صاحب بھی اس بات کا اقرار کررہے ہیں کہ اسی طرح کے الفاظ زید نے کہے تھے، چنانچہ مسجد کے صدر صاحب، مسجد کو مکان دینے کے صلے میں، زید کو مسجد کے چندے سے ماہانہ دو ہزار روپے دیتے رہے۔صدر صاحب کو اس بات کا بھی اقرار ہے کہ انہوں نے ماہانہ دو ہزار زید کو دئیے ہیں۔ محلے والوں کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ شرعی مسئلہ اس بارے میں پوچھنا چاہتے ہیں کہ آیا زید کے الفاظ جو اوپر ذکر کیے گئے ان سے مکان کا مسجد کیلئے وقف ہونا ثابت ہوتا ہے یا نہیں ؟ نیز صدر صاحب جو ماہانہ دو ہزار روپے زید کو مسجد کے چندے سے دیتے رہے تو کیا یہ دینا جائز تھا یا نہیں ؟ اب تک یہ دو ہزار کی رقم تقریبا ستر ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اب مسجد کی انتظامیہ دوسری بنی ہے وہ چاہتی ہے کہ اگر وہ مکان مسجد کیلئے وقف ہوچکا ہے تو اسے مسجد کے نام پر منتقل کروایا جائے۔ اس کیلئے شرعی رہنمائی درکار ہے۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں یہ مکان مسجد کیلئے وقف نہیں ہوا بلکہ فی الحال زید کی ملکیت پر باقی ہے کیونکہ زید کے الفاظ میں، اپنی حالتِ حیات میں وقف کرنے کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ زید کے یہ الفاظ کہ ”مرنے کے اگلے دن یہ مسجد کا ہے“ ان الفاظ میں بھی وقف کا کوئی لفظ موجود نہیں ہے، اس لئے یہ مکان وقف تو نہیں ہوسکتا کہ وقف ہونے کیلئے وقف کے مخصوص الفاظ موجود نہیں ہیں، البتہ یہاں مسجد کی تملیک درست ہوسکتی ہے کہ زید اپنے انتقال کے بعد مکان کو مسجد کی ملکیت میں دینے کی بات کررہا ہے، اور مرنے کے بعد جو تملیک ہوتی ہے وہ وصیت کہلاتی ہے، مرنے کے اگلے دن تملیک کرنا بھی وصیت ہی کہلائے گا، بیچ کے ایک دن کے وقفے سے وصیت ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ لہذا یہ مکان کو مسجد کی ملکیت میں دینے کی وصیت ہوئی۔ اس وصیت میں اگرچہ ”مسجد پر خرچ کرنے “ کے الفاظ نہیں ہیں، اس کے باوجود امام محمد رحمہ اللہ کے مفتی بہ قول کے مطابق یہ وصیت درست ہے اور مسجد کے مصالح پر اسے خرچ کیا جائے گا۔

لہذا زید اگر انہیں الفاظ پر قائم رہتا ہے تو زید کے انتقال کے بعد (کفن دفن کے ضروری اخراجات، اسی طرح اگر کوئی قرض ہو، تو وہ ادا کرنے کے بعد ) اگر یہ مکان تہائی ترکے یا تہائی سے بھی کم کی مقدار تک پہنچے گا تب تو یہ مسجد کو دیا جائے گا، اگر یہ مکان، کل ترکے کی تہائی سے زائد ہو تو تہائی کی مقدار مسجد میں دی جائے گی باقی حصہ ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا، ان ورثاء میں سے بالغ ورثاء اپنا اپنا حصہ بھی مسجد کو دینا چاہیں تو دے سکتے ہیں۔

یہاں تک تو مکان کا معاملہ تھا، اب رہا یہ معاملہ کہ صدر صاحب نے ماہانہ زید کو دو ہزار روپے مسجد کے چندے میں سے دئیے جس کا صدر صاحب اقرار بھی کررہے ہیں تو یہ ایک ناجائز وگناہ کا معاملہ ہے کیونکہ اگر زید کا مکان، اس کی زندگی میں بھی مسجد کیلئے وقف ہو جاتا تب بھی مسجد کے چندے کا وہ مصرف نہیں تھے کہ ان کو مسجد کے چندے سے دو ہزار روپے دئیے جاتے، لہٰذا صدر نے مسجد کے چندے کو اس کے مصرف کے علاوہ میں جان بوجھ کر خرچ کیا ہے، اس لئے صدر اور زید دونوں گناہ گار ہوئے، انہیں اس سے توبہ کرنی لازم ہے اور اب صدر صاحب پر یہ بھی لازم ہوگا کہ جتنی رقم انہوں نے زید کو دی ہے اتنی رقم مسجد کو واپس کریں۔

وقف کے الفاظ کے بارے میں تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:

”رکنہ الالفاظ الخاصۃ کارضی ھذہ صدقۃ موقوفۃ موبدۃ علی المساکین ونحوہ من الالفاظ کموقوفۃ للہ تعالیٰ او علی وجہ الخیر اوالبر“

ترجمہ: وقف کا رکن خاص الفاظ ہیں جیسے یہ کہنا کہ میری یہ زمین ہمیشہ کیلئے مساکین پر صدقہ موقوفہ ہے اور اسی طرح کے دوسرے الفاظ جیسے اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے یا نیکی یا بھلائی کے کاموں کیلئے وقف ہے۔ (تنویرالابصار مع درمختار، جلد6، صفحہ 521، مطبوعہ کوئٹہ)

وقف کے الفاظ کے بارے میں فتاوی بحر العلوم میں ہے: ”صرف عمل سے وقف ثابت نہیں ہوتا چاہے مصارف خیر میں زندگی بھر خرچ کرتا رہے کہ وقف کا رکن الفاظ مخصوصہ کا ادا کرنا ہے۔“ (فتاوی بحرالعلوم، جلد5، صفحہ 44، مطبوعہ لاہور)

کوئی چیز مسجد کو دی جائے اور وہ وقف نہ ہوسکے تو تملیک ِ مسجد کے اعتبار سے اسے لیا جاسکتا ہے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے:

”اذا تصدق بدارہ علی مسجد او علی طریق المسلمین، تکلموا فیہ والمختار أنہ یجوز کالوقف کذا فی الذخیرۃ۔رجل أعطى درهما فی عمارة المسجد أو نفقة المسجد أو مصالح المسجد صح، لأنه وان كان لا يمكن تصحيحه وقفا، یمکن تصحیحہ تمليكا بالهبة للمسجد فاثبات الملك للمسجد على هذا الوجه صحيح “

ترجمہ: اپنے گھر کو کسی مسجد پر صدقہ کیا یا مسلمانوں کے راستے کیلئے صدقہ کیا تو اس میں فقہاء کو کلام ہے، البتہ مختار یہ ہے کہ یہ وقف کی طرح جائز ہے، اسی طرح ذخیرہ میں ہے۔کسی شخص نے مسجد کی تعمیر یا مسجد کے اخراجات یا مصالح مسجد کیلئے کوئی درہم دیا تو یہ درست ہے، کیونکہ اگرچہ اس کو وقف کے طور پر درست نہیں مانا جا سکتا، مگر اسے مسجد کیلئے ہبہ کے طور پر درست مانا جا سکتا ہے اور اس طریقے پر مسجد کی ملکیت ثابت کرنا، درست ہے۔ (فتاوی ھندیہ، جلد 2، صفحہ  429، مطبوعہ بیروت)

موت کے بعد جو تملیک ہو، وہ وصیت کہلاتی ہے۔ مجمع الانہر میں ہے:

”(الوصية) فی الشرع (تمليك مضاف الى ما بعد الموت) يعنی بطريق التبرع سواء كان عينا أو منفعة“

ترجمہ: شریعت کی رو سے تبرعا کسی چیز کا موت کے بعد مالک بنا دینا وصیت کہلاتا ہے، چاہے وہ چیز عین ہو یا منفعت ہو۔ (مجمع الانھر، جلد 4، صفحہ417 ، مطبوعہ بیروت)

انتقال کے ایک دن بعد کی تملیک بھی وصیت ہی شمار ہوگی۔ تحفۃ الفقہاء، بدائع الصنائع اور محیط برہانی میں ہے:

”واللفظ للمحیط: اذا قال لعبده: أنت حر بعد موتی بيوم أو قال: شهر فهذا لا يكون مدبرا، وهذا التصرف ايصاء بالعتق، حتى لا يعتق بعد موت المولى بمضی يوم أو مضی شهر ما لم يعتقه الوصی“

ترجمہ: اگر غلام سے کہا کہ تم میری موت کے ایک دن یا ایک مہینے بعد آزاد ہو تو یہ غلام مدبر نہیں بنے گا بلکہ یہ الفاظ، عتق کی وصیت کہلائیں گے، اسی وجہ سے مولی کی وفات کے ایک دن یا ایک مہینہ بعد بھی یہ خودبخود آزاد نہیں ہوگا جب تک وصی آزاد نہ کرے (محیط برہانی، جلد 4، صفحہ 66، مطبوعہ بیروت)

بدائع الصنائع میں اس غلام والے مسئلے کی وجہ تحریرکرتے ہوئے فرمایا:

” فجعلوه وصية بالاعتاق لأن تصرف العاقل يحمل على الصحة ما أمكن، وأمكن حمله على الوصية بالاعتاق بعد مضی شهر بعد الموت فيحمل عليها“

ترجمہ: فقہاء نے اسے اعتاق کی وصیت اس لئے شمار کیا کہ عاقل کا تصرف جہاں تک ممکن ہو، صحت پر محمول کیا جاتا ہے، اور یہاں موت کے ایک مہینہ گزرنے کے بعد اعتاق کی وصیت پر محمول کرنا، ممکن ہے لہذا اسی پر محمول کریں گے۔ (بدائع الصنائع، جلد5 ، صفحہ 374، مطبوعہ بیروت)

مسجد کے بارے میں وصیت کا حکم بیان کرتے ہوئے ردالمحتار میں معراج کے حوالے سے فرمایا:

”أوصی بشیئ للمسجد الحرام لم یجزالا أن یقول: ینفق علی المسجد، لأنہ لیس من أھل الملک، وذکر النفقۃ بمنزلۃ النص علی مصالحہ، وعند محمد: یصح ویصرف الی مصالحہ تصحیحا لکلامہ۔“

ترجمہ: مسجد الحرام کیلئے کسی چیز کی وصیت کی تو یہ جائز نہیں ہے، جب تک یہ نہ کہے کہ اسے مسجد پر خرچ کیا جائے، کیونکہ مسجد، ملکیت کی اہل نہیں ہے، جب خرچ کرنے کا ذکر کرے گا تو یہ نص ہوجائے گی کہ مسجد کے مصالح پر خرچ کرنے کیلئے یہ چیز دی جا رہی ہے (تو اب یہ وصیت درست ہوجائے گی۔) امام محمد کے نزدیک مسجد کیلئے وصیت کرنا بھی درست ہے اور وصیت کرنے والے کے کلام کو درست معنی پر محمول کرتے ہوئے یہی مراد لیا جائے گا کہ مصالح پر خرچ کرنے کیلئے دی گئی ہے۔ (ردالمحتار، جلد 10، صفحہ 357، مطبوعہ بیروت)

اس کے تحت جدالممتار میں فرمایا:

”وبقول محمد أفتی مولانا صاحب البحر“

ترجمہ: صاحب البحر نے امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتوی دیا ہے۔ (جدالممتار، جلد 7، صفحہ  193، مطبوعہ بیروت)

تہائی سے زائد کی وصیت مسجد کیلئے کی اور ورثاء تہائی سے زائد پر راضی نہ ہوں تو تہائی میں ہی وصیت نافذ ہوگی۔ العقود الدریہ میں ہے:

”(سئل) فيما اذا أوصى رجل بجميع ماله ينفق فی مصالح مسجد كذا ثم مات عن تركة وورثة لم يجيزوا ذلك فهل تصح وتنفذ من الثلث؟ (الجواب): نعم أوصى بشیء للمسجد لم تجز الوصية الا أن يقول الموصی: ينفق عليه لأنه ليس بأهل للتمليك، والوصية تمليك وذكر النفقة بمنزلة الوقف على مصالحه وعند محمد يجوز لأنه يحمل على الأمر بالصرف الى مصالحه تصحيحا للكلام وبقول محمد أفتى مولانا صاحب البحر“

ترجمہ: سوال یہ کیا گیا کہ ایک شخص نے اپنے تمام مال کو فلاں مسجد کے مصالح میں خرچ کرنے کی وصیت کی، اس کے بعد جب انتقال ہوا تو ورثاء، وصیت کو نافذ کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ اس صورت میں کیا تہائی مال میں وصیت درست کہلائے گی اور نافذ کی جائے گی؟(الجواب): جی ہاں! اگر کسی نے مسجد کیلئے کسی چیز کی وصیت کی تو یہ وصیت جائز نہیں ہے، البتہ اگر وصیت کرنے والا ساتھ میں یہ بھی کہے کہ: مسجد پر خرچ کی جائے، تو اب وصیت درست ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد تملیک کی اہل نہیں ہے اور وصیت میں تملیک ہی کی جاتی ہے، خرچ کرنے کا ذکر کرنا ایسے ہی ہے جیسے مسجد کے مصالح پر وقف کرنا، (اس لئے خرچ کرنے کا ذکر جب کیا تو وصیت درست ہوجائے گی۔) امام محمد کے نزدیک مسجد کیلئے وصیت جائز ہے(اگرچہ خرچ کرنے کا ذکرنہ کرے) کیونکہ مسجد کیلئے وصیت کو اسی پر ہی محمول کریں گے کہ وہ مسجد کے مصالح پر ہی خرچ کی جائے تاکہ وصیت کرنے والے کے کلام کو درست مانا جاسکے۔امام محمد کے قول پر ہی مولانا صاحب البحر نے فتوی دیا ہے۔ (العقود الدریہ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ، جلد 2، صفحہ 497، مطبوعہ کراچی)                                       

مسجد کی رقم کسی غریب، فقیر کو نہیں دے سکتے، اس کے بارے میں فتاوی عالمگیری میں ہے

”الفاضل من وقف المسجد ھل یصرف الی الفقراء قیل لایصرف وانہ صحیح“

ترجمہ: وقف مسجد سے جو زائد ہوجائے کیا اسے فقراء میں خرچ کرسکتے ہیں تو صحیح قول کے مطابق اسے خرچ نہیں کرسکتے۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 2، صفحہ 463، مطبوعہ کوئٹہ)

مسجد کی آمدنی مسجد کے علاوہ کسی دوسرے مصرف میں خرچ کی، اس کے بارے میں اعلی حضرت امام اہل سنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں ”اس پر توبہ فرض ہے اور تاوان ادا کرنا فرض ہے جتنے دام اپنے صرف میں لایا تھا اگر یہ اس مسجد کا متولی تھا تو اسی مسجد کے تیل بتی میں صرف کرے دوسری مسجد میں صرف کردینے سے بری الذمہ نہ ہوگا اور اگر متولی نہ تھا تو جس نے اسے دام دئے تھے واپس کرے کہ تمہارے دئے ہوئے داموں سے اتنا خرچ ہوا اور اتنا باقی رہا تھا کہ میں تمہیں دیتا ہوں لانہ ان کان متولیا فقد تم التسلیم والا بقی علی ملک المعطی: یعنی اگر متولی تھا تو مسجد کوپیسوں کی تسلیم کرنا مکمل ہوگیا ورنہ وہ دینے والے کی ملکیت پر باقی رہیں گے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 461، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابومحمد محمد فراز عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0095
تاریخ اجراء:02 ربیع الآخر 1447ھ/26 ستمبر 2025 ء