مدرسے کے چندے سے عملے کو قرض دینا کیسا؟
مدرسے کے چندے سے مدرسےکے عملے کو قرض دینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مدرسے کے عمومی چندے کی رقم سے مدرسے کے عملے (جیسے مدرسین، خادمین وغیرہ) کو قرض دیا جا سکتا ہے، جبکہ وہ یہ رقم دو، تین ماہ کے اندر واپس کر نے کا کہیں؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مدرسہ کا چندہ دراصل ان اخراجات کے لیے دیا جاتا ہے جو مدرسہ کے عمومی امور سے متعلق ہوں، مثلاً مدرسہ کی تعمیر و مرمت، مدرسین و عملے کی تنخواہیں، طلبا کی ضروریات اور صفائی ستھرائی وغیرہ کے اخراجات۔ اسے اِنہی مصارف میں خرچ کرنا لازم ہے۔ ذاتی استعمال میں لانا، کسی کو بطورِ قرض دینا یا مصارفِ مدرسہ کے علاوہ کسی اور کام میں استعمال کرنا، ناجائز و گناہ ہے، لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مدرسے کے عمومی چندے کی رقم سے مدرسے کے عملے کو قرض دینے کی ہر گز اجازت نہیں۔ اگر کسی نے دیا، تو چندے کی جتنی رقم بطورِ قرض دی گئی، اتنی رقم کا تاوان مدرسہ کو ادا کرنا لازم ہوگا اور اس سے سچی توبہ بھی کرنی ہوگی۔
مدرسہ کا چندہ دراصل ان اخراجات کے لیے دیا جاتا ہے جو مدرسہ کے عمومی امور سے متعلق ہوں، چنانچہ صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: ”جب عطیہ و چندہ پر آمدنی کا دار و مدار ہے، تو دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہلِ خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائیداد وقف کرے، اُسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صَرف کی جاسکتی ہے، دوسرے میں صرف کرنا، جائز نہیں، مثلاً اگر مدرسہ کے لیے ہو، تو مدرسہ پر صَرف کی جائے اور مسجد کے لیے ہو، تو مسجد پر (خرچ کرنا ضروری ہے)۔“ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 42، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
مدرسہ کی رقم بطورِ قرض دینا، ناجائز و گناہ ہے، جیسا کہ علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں:
جامع الفصولين ليس للمتولي ايداع مال الوقف و المسجد الا ممن في عياله و لا اقراضه فلو اقرضه ضمن و كذا المستقرض
ترجمہ: جامع الفصولین میں ہے: متولی کے لیے جائز نہیں کہ اپنے اہل و عیال کے سوا کسی اور کے پاس وقف اور مسجد کے مال کو امانت کے طور پر رکھے اور نہ اس کا قرض دینا جائز ہے، لہٰذا اگر اس (وقف یا مسجد کے مال) کو قرض دیا، تو تاوان لازم ہوگا اور ایسے ہی قرض لینے والا ہے (کہ اس کے لیے بھی مالِ وقف اور مسجد کے مال سے قرض لینا جائز نہیں ہے)۔ (العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاویٰ الحامدیۃ، جلد 1، صفحہ 229، مطبوعہ دار المعرفة، بیروت)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ”متولی کو روا (یعنی جائز) نہیں کہ مالِ وقف کسی کو قرض دے یا بطورِ قرض اپنے تَصرف میں لائے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 574، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
ایک اور مقام پر سوال ہوا کہ ”دو مدرسوں کے متولی کو ایک وقف کا مال دوسرے میں صَرف کرنا بطورِ قرض روایا ناروا؟ تو جواباً ارشاد فرمایا: ناجائز ہے،
لان الاقراض تبرع و التبرع اتلاف فی الحال و الناظر للنظر لاللاتلاف
(کیونکہ قرض دینا تبرع ہے اور تبرع فی الحال تلف کرنا ہے، جبکہ متولی تو حفاظت کے لئے ہوتا ہے ، نہ کہ تلف کرنے کےلئے)۔(فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 570-569، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
مدرسہ کا چندہ بطورِ قرض دینا، ناجائز اور دیا، تو اس کا تاوان لازم ہونے کے متعلق اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مسجد، خواہ غیر مسجد کسی کی امانت اپنے صرف میں لانا، اگرچہ قرض سمجھ کر ہو، حرام و خیانت ہے، توبہ و استغفار فرض ہے اور تاوان لازم، پھر دے دینے سے تاوان اداہوگیا، وہ گناہ نہ مٹا جب تک توبہ نہ کرے۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 489، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: FSD-9588
تاریخ اجراء: 05 جمادی الاولیٰ 1447ھ/28 اکتوبر 2025 ء