logo logo
AI Search

مدرسے کا چندہ کاروبار میں لگانا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مدرسے کے اضافی چندے کو کاروبار میں لگانا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

مدارس کے اضافی چندے کو کاروبار میں لگانا کیسا، تاکہ ان کی آمدن سے مدارس کا نظام چلتا رہے۔؟

جواب

مدارس و مساجد کا چندہ عمومی طور پر مدارس و مساجد میں کیے جانے والے عمومی اخراجات مثلاً مدرسین کی تنخواہوں، امام و مؤذن، خادمین کے وظائف اور صفائی ستھرائی میں ہونے والے اخراجات وغیرہ کے لیے دیا جاتا ہے، کاروبارمیں لگانے کے لیے نہیں دیا جاتا، لہذا اسے اِنہی معروف مصارف میں استعمال کرنا ضروری ہے، کسی کاروبار میں لگانے کی ہر گز اجازت نہیں ہے۔

امام اہلسنت، امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا:

مسجد کا جو پیسہ جمع ہے اسے کسی منفعت پر خرید وفروخت تجارت کرسکتے ہیں، مسجد کے جمع مال افزود کےلئے؟

تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواب میں فرمایا:

تجارت میں نفع نقصان دونوں کا احتمال ہے اور کارکنوں میں امین و خائن دونوں طرح کے ہوتے ہیں اور مال وقف میں شرط واقف سے زیادت کی اجازت نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 420، 421، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

فتاوی امجدیہ میں ہے جب عطیہ و چندہ پر آمدنی کا دارومدار ہے، تو دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہلِ خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائیداد وقف کرے، اُوسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صَرف کی جاسکتی ہے، دوسرے میں صرف کرنا، جائز نہیں، مثلاً اگر مدرسہ کے لیے ہو، تو مدرسہ پر صَرف کی جائے اور مسجد کے لیے ہو، تو مسجد پر۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 3، صفحہ 42، مکتبہ رضویہ، کراچی)

چندے کے بارے میں سوال جواب نامی کتاب میں ہے سوال: مسجِد یا کسی مذہبی یاسَماجی اِدارے کا چندہ کثیر مقدار میں جمع ہو گیا ہو تو کیا اُسے کاروبار میں لگا سکتے ہیں؟ جواب: خواہ کیسا ہی نَفْع بَخش کاروبار ہو،نہیں لگا سکتے۔ چاہے اُس کی آمدنی اُسی ادارے کے لئے استِعمال کرنے کی نیّت ہو۔ (چندے کے بارے میں سوال جواب، صفحہ 77، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4726
تاریخ اجراء: 18شعبان المعظم1447ھ / 07فروری2026ء