مسجد کی بجلی سے قبرستان میں بلب جلانا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد کی بجلی سے قبرستان میں بلب جلانے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسجد کے میٹر سے بجلی لے کر قبرستان میں بلب جلانا کیسا ؟
جواب
مسجد کے میٹر سے بجلی لے کر قبرستان میں بلب جلانا ناجائز و گناہ ہے، کیونکہ مسجد کی تمام اشیا، مسجد کے کاموں کے لیے ہی وقف ہوتی ہیں، انہیں کسی دوسرے مقصد یعنی قبرستان وغیرہ کے لیے استعمال کرنا، وقف کا خلافِ مصرف استعمال ہے، اور وقف کا خلافِ مصرف استعمال جائز نہیں۔ نہر الفائق میں ہے "الواجب ابقاء الوقف علٰی ماکان علیہ" ترجمہ: وقف کو اپنی اصل حالت پر باقی رکھنا واجب ہے۔ (النهر الفائق شرح كنز الدقائق، جلد 3، صفحہ 320، مطبوعہ کراچی)
بہار شریعت میں ہے "مسجد کی اشیا، مثلاً لوٹا، چٹائی وغیرہ کو کسی دوسری غرض میں استعمال نہیں کر سکتے، مثلاً لوٹے میں پانی بھر کر اپنے گھر نہیں لے جا سکتے، اگرچہ یہ ارادہ ہو کہ پھر واپس کر جاؤں گا۔ اُس کی چٹائی اپنے گھر یا کسی دوسری جگہ بچھانا، ناجائز ہے۔ یو ہیں مسجد کے ڈول، رسی سے اپنے گھر کے ليے پانی بھرنا یا کسی چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا، ناجائز ہے۔" (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 10، صفحہ 561، 562، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4928
تاریخ اجراء:02 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ/20 اپریل 2026ء