مسجد کے قرآن پاک مدرسے میں استعمال کرنا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد کے لیے وقف قرآن پاک مدرسے میں استعمال کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مسجد کے لیے وقف کیا گیا قرآن پاک، مدرسہ میں پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
اگر مدرسہ مسجد کے اندر ہی لگتا ہے، تو وہاں رہتے ہوئے مسجد پر وقف قرآن پاک، مدرسے کے بچے پڑھ سکتے ہیں، اور اگر مدرسہ علیحدہ کسی بلڈنگ میں ہے، تو اس صورت میں مسجد پر وقف قرآن پاک اس مدرسے میں نہیں لے جاسکتے، کہ مسجد کے لیے قرآن پاک وقف کرنے کا مقصد مسجد کے اندر رہتے ہوئے ہی ان سےتلاوت کرنا ہوتا ہے۔
در مختار میں ہے
”وفي الدرر: وقف مصحفا على أهل مسجد للقراءة إن يحصون جاز وإن وقف على المسجد جاز ويقرأ فيه“
ترجمہ: اور درر میں ہے کہ اگر اہل مسجد پر قراءت کے لیے مصحف وقف کیا، اگر وہ گنے جا سکتے ہیں تو جائز ہے۔ اور اگر مسجد پر وقف کیا تو جائز ہے اور اسے مسجد میں ہی پڑھا جائے گا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، جلد 6، صفحہ 560، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: "جو چیز جس غرض کے لئے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائز ہے اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے لئے فائدہ کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع صلی اﷲ تعالی علیہ وسلم واجب الاتباع ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 452، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد قاسم عطاری دامت برکاتہ العالیہ اپنی کتاب وقف کے شرعی مسائل میں ارشاد فرماتے ہیں: ”مسجد پر قرآن مجید وقف کیا تو اس مسجد میں جس کا جی چاہے اس میں تلاوت کر سکتا ہے دوسری جگہ لے جانے کی اجازت نہیں کہ اس طرح وقف کرنے والے کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ اس مسجد میں قرآن پڑھا جائے اور اگر وقف کرنے والے نے صراحت کردی ہے کہ اسی مسجد میں تلاوت کی جائے جب تو بالکل ظاہر ہے کیونکہ اس کی شرط کے خلاف نہیں کیا جاسکتا۔“ (وقف کے شرعی مسائل، صفحہ 25، صدیقی پبلشرز)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4741
تاریخ اجراء: 23 شعبان المعظم 1447ھ/12 فروری 2026ء