logo logo
AI Search

تعمیر مسجد کے لئے کیا گیا چندہ استعمال نہ ہوا تو حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسجد بنانے کے لئے چندہ جمع کیا لیکن مسجد نہ بن سکی، تو چندے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ایک جگہ نئے سرے سے مسجد بنانے کے لئے کچھ لوگوں نے چندہ جمع کیا، لیکن کسی وجہ سے وہاں مسجد نہیں بن سکی، اب وہ چندہ جمع کرنے والوں کے پاس موجود ہے اور اس کا ریکارڈ موجود نہیں کہ کس نے دیا اور کتنا دیا، تو کیا یہ کسی جائے نماز، یا کسی مسجد میں صرف کیا جا سکتا ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں چندہ دینے والے جن افراد کا علم ہے انہیں (اور اگر وہ نہ ہوں تو ان کے ورثاء کو) ان کی رقم واپس کر دی جائے اور اگر وہ اجازت دیں تو کسی بھی نیک کام میں خرچ کر سکتے ہیں، البتہ چندہ دینے والے جن افراد کے بارے میں کچھ علم نہ ہو سکے تو ان کا دیا ہوا چندہ اسی طرح کے کام میں مثلاً موجودہ صورت میں کسی دوسری مسجد کی تعمیر میں خرچ کر دیں، اس رقم کو کسی اور کام میں ہر گز خرچ نہیں کر سکتے۔

اعلیٰ حضرت اما م احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن سے سوال ہوا کہ مسجد کی تعمیر کے لئے جمع کیا ہوا چندہ بچ گیا تو اسے کسی دوسرے نیک کام میں خرچ کر سکتے ہیں؟ تو آپ علیہ الرحمہ نے جواباً ارشاد فرمایا: ”چندہ کا جو روپیہ کام ختم ہوکربچے، لازم ہے کہ چندہ دینے والوں کو حصہ رسد واپس دیا جائے یا وہ جس کام کے لئے اب اجازت دیں اس میں صرف ہو، بے ان کی اجازت کے صرف کرنا حرام ہے، ہاں جب ان کاپتہ نہ چل سکے تواب یہ چاہئے کہ جس طرح کے کام کے لئے چندہ لیا تھااسی طرح کے دوسرے کام میں اٹھائیں مثلا تعمیر مسجد کا چندہ تھا مسجد تعمیر ہوچکی تو باقی بھی کسی مسجد کی تعمیر میں اٹھائیں، غیر کام مثلا تعمیرِ مدرسہ میں صرف نہ کریں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 206، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4781
تاریخ اجراء: 08 رمضان المبارک1447ھ/26 فروری 2026ء