وقف قبرستان پر قبضہ کرنا اور کچرا پھینکنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
وقف قبرستان پر قبضہ کرنے یا اس میں کوڑا پھینکنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک بہت بڑا وقف قبرستان ہے، جس کے کچھ حصے میں قبریں بنی ہیں، اور کافی حصہ ابھی خالی پڑا ہے، اس میں کچھ لوگ قبروں کے علاوہ وقف جگہ پر قابض ہیں، بعض لوگوں نے وہاں پر ذاتی لکڑیاں رکھی ہوئی ہیں، اور کئی لوگ وہاں کوڑا بھی پھینکتے ہیں، تو ان کا یہ عمل کیسا ہے؟
جواب
جو جگہ ایک مرتبہ قبرستان کے لیے وقف کر دی گئی، وہ بندوں کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی خاص ملکیت میں چلی گئی، اب اس میں وقف کی تغییر و تبدیلی جائز نہیں، جو جگہ جس مقصد کے لیے وقف ہو، اسی میں اس جگہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور مقصد میں اس کو استعمال کرنا اگرچہ رفاہ عامہ کے لیے ہی ہو، نا جائز و حرام ہے، حتی کہ اگر واقف خود بھی وقف میں کوئی تبدیلی کرنا چاہے تو وہ بھی نہیں کر سکتا، لہذا اس قبرستان کی وقف جگہ پر قابض ہونا اور اس میں ذاتی تصرف کرنا نا جائز و حرام ہے۔ اسی طرح قبرستان کی جگہ پر کوڑا کرکٹ پھینکنا بھی جائز نہیں ہے، کیونکہ کوڑا کرکٹ سے بدبو اور گندگی پھیلتی ہے۔ لہذا جو لوگ قبرستان کی جگہ پر قابض ہیں، ان پر لازم ہے کہ اپنا تصرف ختم کر کے اس جگہ کو فوراً خالی کر دیں، اسی طرح کوڑا کرکٹ وہاں سے اٹھایا جائے اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سچے دل سے ان گناہوں پر توبہ کی جائے۔ اور باقی مسلمانوں پر فرض ہے کہ اپنی استطاعت کے مطابق کوشش کریں اور قبرستان کی جگہ کو نا جائز تصرفات سے خالی کروائیں، جو با وصف قدرت منع نہ کرے، وہ بھی گناہگار ہے۔
وقف میں شرائط واقف کی اتباع لازم ہے، سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: وقف میں شرائط واقف کا اتباع واجب ہے، اشباہ و النظائر میں ہے:
شرط الواقف کنص الشارع فی وجوب العمل بہ۔
واجب العمل ہونے میں واقف کی شرط شارع کی نص کی طرح ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 16 ص 225 رضا فاؤنڈیشن لاھور)
وقف مکمل ہونے کے بعد اس میں تغییر کا اختیار کسی کو نہیں ہے، سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے، وقف مالک حقیقی جل و علا کی ملک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔ (فتاوی رضویہ جلد 16 ص 232 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وقف کو ذاتی استعمال میں لانا، اس پر قابض ہونا نا جائز و حرام ہے، قبروں پر غلاظت و گندگی پھینکنا ناجائز و حرام ہے، سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: قبرستان وقف ہے اور وقف میں اپنی سکونت کا مکان بنانا وقف بیجا ہے اور اس میں تصرف بیجا حرام ہے، پھر اگر اس قطعہ میں قبور بھی ہوں، اگرچہ نشان مٹ کر ناپید ہو گئی ہوں، جب تو متعدد حراموں کا مجموعہ ہے، قبروں پر پاؤں رکھنا ہوگا، چلنا ہوگا، بیٹھنا ہوگا، پیشاب پاخانہ ہوگا، اور یہ سب حرام ہے۔ اس میں مسلمانوں کو طرح طرح ایذا ہے اور مسلمان بھی کون، اموات کہ شکایت نہیں کر سکتے، دنیا میں عوض نہیں لے سکتے، بے وجہ شرعی مسلمانوں کی ایذا اللہ و رسول کی ایذا ہے۔ اللہ و رسول کو ایذا دینے والا مستحق جہنم۔ اسی طرح اگر قبرستان کے قریب مکان بنایا، پاخانے یا دھوبیوں کے غلیظ پانی کا بہاؤ قبور پر رکھا تو یہ بھی سخت حرام ہے اور جو با وصف قدرت اسے منع نہ کرے، وہ بھی مرتکب حرام ہے۔۔۔ امام ابن امیر الحاج حلیہ میں نوادر و تحفۃ الفقہاء و بدائع و محیط وغیرہ سے نقل فرماتے ہیں:
أبا حنیفۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرہ وطء القبر و القعود أو النوم أو قضاء الحاجۃ إلیہ۔
امام ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے قبر پر چلنا، بیٹھنا، سونا، قضائے حاجت کرنا مکروہ قرار دیا ہے۔۔۔ تنویر الابصار میں ہے:
یکرہ بول و غائط فی مقابر۔
قبرستان میں پیشاب و پاخانہ مکروہ ہے۔
رد المحتار میں ہے:
لأن المیت یتأذی بما یتأذی بہ الحی و الظاھر أنھا تحریمۃ لأنھم نصوا علیٰ أن المرور فی سکۃ حادثۃ فیھا حرام فھذا أولیٰ۔
اس لیے کہ مردے کو بھی اس چیز سے اذیت ہوتی ہے، جس سے زندے کو اذیت ہوتی ہے، اور ظاہر ہے کہ یہ مکروہ تحریمی ہے، اس لیے کہ علماء نے تصریح فرمائی ہے کہ قبرستان کے اندر نو پیدا راستے سے گزرنا حرام ہے تو یہ بدرجہ اولیٰ حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ جلد 9 ص 409، 410 رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جس چیز سے زندہ کو اذیت و تکلیف ہوتی ہے، اس سے مردہ کو بھی اذیت ہوتی ہے، نیز مردہ مسلمان کی عزت و حرمت بھی زندہ کی طرح ہی ہے، سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: علمائے کرام کا اتفاق ہے کہ مسلمان کی عزت مردہ و زندہ برابر ہے۔ محقق علی الاطلاق رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فتح القدیر میں فرماتے ہیں:
الاتفاق علیٰ أن حرمۃ المسلم میتا کحرمتہ حیا۔
اس بات پر اتفاق ہے کہ مردہ مسلمان کی عزت و حرمت زندہ مسلمان کی طرح ہے۔۔۔
سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
المیت یؤذیہ فی قبرہ ما یؤذیہ فی بیتہ۔
مردے کو قبر میں بھی اس بات سے ایذا ہوتی ہے، جس سے گھر میں اسے اذیت ہوتی۔ علامہ مناوی شرح میں فرماتے ہیں:
أفاد أن حرمۃ المؤمن بعد موتہ باقیۃ۔
اس حدیث شریف سے معلوم ہوا کہ مسلمان کی حرمت موت کے بعد بھی ویسے ہی باقی ہے۔۔
سیدنا حضرت ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
أذی المؤمن فی موتہ کأذاہ فی حیاتہ، رواہ أبی بکر بن أبی شیبۃ۔
مسلمان مردہ کو ایذا دینا ایسا ہے جیسے زندہ کو ایذا دینا، اسے ابو بکر بن ابی شیبہ نے روایت کیا۔
علماء فرماتے ہیں:
المیت یتأذی بما یتأذی بہ الحی۔
جس بات سے زندوں کو ایذا پہنچتی ہے، مردے بھی اس سے تکلیف پاتے ہیں۔ (فتاوی رضویہ جلد 9 ص 441, 442 رضا فاؤنڈیشن لاھور)
و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: PIN-7726
تاریخ اجراء: 10 شوال المکرم1447ھ / 30مارچ 2026ء