ایک مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں لگا سکتے ہیں؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ایک مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں لگانا کیسا ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہماری مسجد کافی پرانی ہے اور الحمد للہ اس کے ساتھ لوگوں کا تعاون بہت اچھا ہے، جس کی وجہ سے مسجد کا چندہ وافر مقدار میں جمع ہے۔ ابھی ہمارے قریب اہلسنت و جماعت کی ایک نئی مسجد بنی ہے، اس میں چندہ نہ ہونے کے برابر ہے، جس کی وجہ سے مسجد کی ضروریات بڑی مشکل سے پوری ہو پاتی ہیں۔ پوچھنا یہ ہے کہ کیا ہماری مسجد کے جمع شدہ چندے میں سے کچھ رقم دوسری مسجد کو دے سکتے ہیں، تاکہ فی الوقت اس کی ضروریات بآسانی پوری ہو سکیں ؟ یاد رہے کہ مسجد کا جمع شدہ چندہ مسجد کی عمومی ضروریات کے لئے ہے، کسی خاص مد میں نہیں۔
جواب
پوچھی گئی صورت میں ایک مسجد کا چندہ دوسری مسجد میں دینا شرعاً جائز نہیں ہے، کیونکہ مسجد کا چندہ اسی مسجد کی ضروریات کے لئے ہوتا ہے، نہ کہ کسی اور مسجد کے لئے، لہذا وہ چندہ اسی مسجد میں استعمال کرنا ضروری ہے، اگر دوسری مسجد میں استعمال کریں گے، تو سخت گناہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہوں گے اور دینے والوں پر توبہ کے ساتھ ساتھ اس کا تاوان بھی لازم ہو گا۔ البتہ اگر آپ کی مسجد میں خاص دوسری مسجد کے لئے چندہ کر لیا جائے، تو وہ چندہ دوسری مسجد میں لگا سکتے ہیں، بلکہ ایسی صور ت میں وہ چندہ اسی دوسری مسجد میں لگانا ضروری ہوگا، کہ وہ اسی کے لئے جمع کیا گیا ہے اور یہی دوسری مسجد کے چندے کے مسئلے کا عمدہ حل بھی ہے۔
ضروری تنبیہ : مسجد اللہ کا گھر ہے، اس کی آباد کاری اور اس کی ضروریات پوری کرنا بہت بڑے اجر کا باعث ہے، لہذا اہلِ علاقہ کو چاہئے کہ وہ مسجد کے ساتھ تعاون کریں، تاکہ اس کی ضروریات بآسانی پوری ہو سکیں۔
مسجد انتظامیہ کے پاس چندے کی رقم بطورِ امانت ہوتی ہے اور بلا اجازتِ شرعی چندہ دوسری مسجد میں خرچ کرنا امانت میں خیانت ہے، جو حرام اور گناہ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی ارشاد فرماتا ہے: ﴿یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَخُوْنُوا اللّٰهَ وَ الرَّسُوْلَ وَ تَخُوْنُوْۤا اَمٰنٰتِكُمْ وَ اَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ﴾ ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ اور رسول سے خیانت نہ کرو اور نہ جان بوجھ کر اپنی امانتوں میں خیانت کرو۔ (پ 9، س الانفال، آیت 27)
اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اٰیۃ المنافق ثلاث: اذا حدث کذب واذا وعد اخلف واذا اؤتمن خان‘‘ ترجمہ: منافق کی تین نشانیاں ہیں: جب بات کرے، تو جھوٹ بولے، وعدہ کرے، تو اسے توڑ دے اور جب اس کے پاس امانت رکھی جائے، تو اس میں خیانت کرے۔ (صحیح بخاری، ج 1، ص 10، مطبوعہ کراچی)
مسجد کی آمدنی اسی مسجد کے مصارف میں خرچ کی جائے گی۔ چنانچہ تنویر الابصار اور در مختار میں ہے: ’’(يبدا من غلته بعمارته) ثم ما هو اقرب لعمارته كامام مسجد ومدرس مدرسة يعطون بقدر كفايتهم، ثم السراج والبساط کذالک الی آخر المصالح“ ترجمہ: اور وقف کی آمدنی سب سے پہلے اس کی عمارت پر لگائی جائے گی، پھر اس پر جو کے قریب تر ہو، جیسے مسجد کا امام اور مدرسہ کا مدرس، ان کو بقدر کفایت وقف کی آمدنی سے دیا جائے گا، پھر چراغ اور چٹائی پر، اسی طرح آخر تک مصالح پر خرچ کیا جائے گا۔ (تنویر الابصار مع در مختار ، ج 4، ص 466 تا 468، مطبوعہ، دار الفکر، بیروت)
مسجد کے چندے کے کثیر احکام وقف کی آمدنی جیسے ہوتے ہیں اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ وقف کی آمدن کے مصارف پر تفصیلی کلام کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں: ’’حکم شرعی یہ ہے کہ اوقاف میں پہلی نظر شرطِ واقف پر ہے، یہ زمین و دکانیں اس نے جس غرض کے لئے مسجد پر وقف کی ہوں، ان میں صرف کیا جائے گا، اگرچہ وہ افطاری و شیرینی و روشنی، ختم ہو اور اس کے سوا دوسری غرض میں اس کا صرف کرنا حرام، حرام، سخت حرام، اگرچہ وہ بناء مدرسہ دینیہ ہو ’’فان شرط الواقف کنص الشارع صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم‘‘ ترجمہ: واقف کی شرط ایسے ہی واجب العمل ہے جیسے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نص۔ حتی کہ اگر اس نے صرف تعمیرِ مسجد کے لئے وقف کی، تو مرمت شکست و ریخت کے سوا مسجد کے لوٹے چٹائی میں بھی صرف نہیں کر سکتے، افطاری وغیرہ درکنار ۔۔الخ‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص485 تا 486، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اور صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی ارشاد فرماتے ہیں: ’’جب عطیہ و چندہ پر آمدنی کا دارومدار ہے، تو دینے والے جس مقصد کے لیے چندہ دیں یا کوئی اہلِ خیر جس مقصد کے متعلق اپنی جائیداد وقف کرے، اُسی مقصد میں وہ رقم یا آمدنی صَرف کی جاسکتی ہے، دوسرے میں صرف کرنا، جائز نہیں ۔‘‘ (فتاوی امجدیہ، ج 3، ص 42، مطبوعہ، مکتبہ رضویہ، کراچی)
مسجد کی آمدنی اگرچہ بہت زیادہ ہو، تب بھی دوسری مسجد میں استعمال نہیں کر سکتے۔ چنانچہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’وقف جس غرض کے لئے ہے اسکی آمدنی اگرچہ اس کے صرف سے فاضل ہو، دوسری غرض میں صرف کرنی حرام ہے، وقف مسجد کی آمدنی مدرسہ میں صرف ہونی درکنار، دوسری مسجد میں بھی صرف نہیں ہوسکتی، نہ ایک مدرسہ کی آمدنی مسجد یا دوسرے مدرسہ میں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 205تا 206، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مزید ایک مقام پر اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن سے سوال ہوا: ایک مسجد کی ملکیت دیگر مسجد میں خرچ کرنا درست ہے یا نہیں؟ مسجد کا پیسہ مدرسہ میں خرچ کرے تو درست ہوگا یانہیں؟
تو اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ’’دو نوں صورتیں حرام ہیں، مسجد جب تک آباد ہے، اس کا مال نہ کسی مدرسے میں صرف ہوسکتا ہے، نہ دوسری مسجد میں، یہاں تک کہ اگر ایک مسجد میں سو چٹائیاں یا لوٹے حاجت سے زیادہ ہوں اور دوسری مسجد میں ایک بھی نہ ہو، تو جائز نہیں کہ یہاں کی ایک چٹائی یا لوٹا دوسری مسجد میں دے دیں۔
در مختار میں ہے: ” اتحد الواقف والجھۃ وقل مرسوم بعض الموقوف علیہ، جاز للحاکم ان یصرف عن فاضل الوقف الاخر الیہ، لانھما حینئذ کشیء واحد وان اختلف احدھما بان بنی رجلان مسجدین اورجل مسجدا ومدرسۃ ووقف علیھما اوقافا لایجوز لہ ذلک‘‘ ترجمہ: دو وقفوں کا واقف بھی ایک ہو اور ایک ہی چیز پر وقف ہوں، ان میں ایک کی آمدنی کم ہو جائے، تو حاکم کو جائز ہے کہ دوسرے وقف کی بچث سے اس پر خرچ کرے، اس لئے کہ اس حالت میں وہ دونوں گویا ایک ہی چیز ہیں اور اگر واقف دو ہوں یا جدا جدا چیزوں پر وقف ہوں جیسے دو شخصوں نے دو مسجدیں بنائیں یا ایک شخص نے ایک مسجد اور ایک مدرسہ بنایا اور ان پر جائدادیں وقف کیں، تو اب حاکم کو بھی جائز نہیں کہ ایک کا مال دوسرے میں صرف کرے۔
رد المحتار میں ہے: ”المسجد لایجوز نقل مالہ الی مسجد اٰخر‘‘ ترجمہ: جائز نہیں کہ ایک مسجد کا مال دوسری مسجد کو لے جائیں۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 280 تا 281، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد فرحان افضل عطاری
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر: GUJ-0166
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر 1448ھ/28 جولائی 2026ء