امام کا چھٹیاں کرنے کے باوجود پوری تنخواہ لینا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام کا چھٹیاں کرنا اور تنخواہ پوری لینا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر امام امامت میں خلاف عرف و شرع غیر حاضریاں کرے، کوئی نائب بھی نہ دے اور تنخواہ پوری لے تو اس کے متعلق کیا حکم شرعی ہے؟
جواب
اگر یہ صورت واقعی ہے کہ امام خلاف عرف و شرع غیر حاضریاں کرے، نائب بھی نہ دے اور تنخواہ پوری لے تو تنخواہ لینے والا امام اور جان بوجھ کر تنخواہ دینے والی انتظامیہ دونوں خائن و گنہگار ہیں، اور اپنے اپنے عہدوں سے برطرف کیے جانے کے سزاوار ہیں، اصحاب اختیار پر واجب ہے کہ ان کو ان کے عہدوں سے معزول کردیں۔ اور امام پر لازم ہے کہ جتنی تنخواہ ایسی لی کہ اس پر اس کا استحقاق نہیں تھا، اتنی رقم مسجد میں اپنے پلے سے جمع کروائے۔ فتاوی خیریہ میں ہے "سئل فی رجل بیدہ وظیفۃ امامۃ علی مسجد کل یوم اوقات الصلوات الخمس فی کل یوم بعثمانی وقد تناول جمیع المعلوم من قیم الوقف والحال انہ قد کان ام فی بعض الاوقات دون بعض فھل لایستحق المعلوم الا بمقدار ما باشر والباقی یرجع علیہ بہ ویکون موفر الجھۃ الوقف ام کیف الحال (اجاب) الذی تحصل من کلام البحر ان مقتضی کلام الخصاف انہ لایستحق الا بمقدار ما باشر" ترجمہ: ایک شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جس کے ہاتھ میں کسی مسجد میں پنج وقتہ نمازوں میں امامت کرنے کا وظیفہ تھا بحساب ایک عثمانی (روپیہ) یومیہ، اور اس نے متولی سے تمام تنخواہ وصول کرلی جبکہ صورت حال یہ ہے کہ وہ بعض اوقات امامت کراتا رہا اور بعض اوقات غیر حاضر رہا، تو کیا وہ صرف انہی دنوں کی تنخواہ کا مستحق ہے جن میں اس نے امامت کرائی اور باقی دنوں کی تنخواہ متولی اس سے واپس لے گا اور اس طرح وہ جہت وقف کا پورا حق اداکرنے والا ہوگا یا کیاصورت حال ہوگی ؟ تو جواب دیا کہ: کلام بحر سے جو حاصل ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ خصاف کے کلام کا تقاضا یہی ہے کہ جن دنوں کی امامت اس نے کرائی صرف انہی دنوں کی اجرت کا مستحق ہے۔ (فتاوی خیریہ علی ھامش تنقیح الحامدیۃ، کتاب الوقف، ج 01، ص 307، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار میں ہے "فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم" ترجمہ: وقف کے کسی منصب پر کام کرنے والے پر واجب ہے کہ اپنے منصب کی ذمہ داری بجا لائے یا اس شخص کے لئے چھوڑ دے جو یہ خدمت کرے ورنہ گنہگار ہوگا۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الوقف، ج 06، ص 666، مطبوعہ کوئٹہ)
اس سے ظاہر ہوا کہ اگر امام اپنی ذمہ داری پوری نہ کرتا ہو تو اس پر لازم ہے کہ عہدے سے بری ہوجائے ورنہ گنہگار ہوگا اور جب گناہ کے کام پر کوئی اصرار کرے تو ارباب اختیار پر لازم ہوتا ہے کہ اس گناہ کو ختم کرنے کے لیے خود اقدام کریں کہ ازالہ گناہ فرض ہے، جیسے بیع فاسد کو اگر عاقدین ختم نہ کریں تو حاکم پر لازم ہوتا ہے کہ ختم کر دے لہذا صورت مسئولہ میں اگر امام خود ذمہ داری نہیں چھوڑ رہا تو ارباب اختیار پر لازم ہے کہ اسے ذمہ داری سے ہٹادیں تاکہ ازالہ گناہ ہو اور خاص طور پر جب وہ اس کے ساتھ تنخواہ بھی پوری لے رہا ہے تو زیادہ گنہگار ہے۔
فتاوی رضویہ میں ہے "بیع فاسد ہوئی ۔۔۔۔پس بائع و مشتری دونوں گنہگار ہوئے اور دونو ں پر بحکم شرع واجب ہے کہ اپنے اس بیع کو فسخ کریں ان میں جو کوئی نہ مانے دوسرا بے اس کی رضامندی کے کہہ دے میں نے اس بیع کو فسخ کیا فوراً فسخ ہوجائے گی اور اگر دونو ں فسخ کرنا نہ چاہیں اور حاکم شرع کو خبر ہو تو وہ جبر ا فسخ کردے کہ گناہ کا زائل کرنا فرض ہے۔ " (فتاوی رضویہ، ج 17، ص 153-154، رضا فاونڈیشن، لاہور)
منحۃ الخالق میں ہے "وينزع لو خائنا إن عزل الخائن واجب" ترجمہ: اور متولی اگر خائن ہو تو اسے معزول کر دیا جائے گا کہ خائن کو معزول کرنا واجب ہے۔ (منحۃ الخالق علی ھامش البحر الرائق، کتاب الوقف، ج 05، ص 392، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے "جبکہ امام التزام امامت نہیں کرتا کبھی وقت بے وقت آ جاتا ہے اور حرف بھی صاف مسموع نہیں ہوتے، اور سائل کا بیان ہے کہ وہ دیندار متقی بھی نہیں، تو نہ خدمت پوری کرتا ہے نہ خدمت کے مناسب ہے، ضرور مستحق معزولی ہے، بلکہ دو امر اخیر اگر نہ بھی ہوتے توصرف پہلی بات اسے تنخواہ مقرر لینا اور مال مسجد سے دینا دونوں کے حرام کرنے کو کافی ہے، در مختار کتاب الوقف فروع فصل نہر الفائق سے: "فیجب علیہ خدمۃ وظیفۃ او ترکھا لمن یعمل والااثم۔" (ترجمہ: اس پر واجب ہے کہ اپنے منصب کی ذمہ داری بجا لائے یا اس شخص کے لئے چھوڑ دے جو یہ خدمت کرے ورنہ گنہگار ہوگا۔) جتنی مدتوں وہ کبھی کبھی آیا اور تنخواہ پوری دی گئی حساب کرکے اوقات حاضری کی تنخواہ مجرا کرنا لازم ہے، اس پر فرض ہے کہ واپس دے، اور متولی پر فرض ہے کہ واپس لے۔۔۔۔ بلکہ انصافاً وہ متولی یا مہتمم کہ اس حالت پر اسے پوری تنخواہ دیتا رہا وہ بھی مستحق عزل ہے کہ بلا استحقاق دینے سے مال مسجد پر متعدی ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 457-458، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں سوال ہوا "متولی مسجد نے مسجد کے پیسہ میں خیانت کی ایسے شخص کو متولی رکھنا جائز ہے یانہیں؟"
اس کے جواب میں فرمایا: "جب ا س نے مال وقف میں خیانت کی اس کا معزول کرنا واجب۔" (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 582، رضا فاونڈیشن، لاہور)
فتاوی رضویہ میں ہے "ہاں غایت درجہ حرج مرض کو سال میں ایک ہفتہ کی اجازت ہو سکتی ہے یا زیادہ چاہے تو اپنا عوض یعنی نائب دے جائے بغیر اس کے نہ غیر حاضری کی اجازت نہ مہتممان وقف کو روا کہ اسے ایسی طویل رخصت دیں اگر دی تو تنخواہ حلال نہیں نہ اسے لینا جائز، نہ ان کو دینے کا اختیار اگر دیں گے تو یہ خود مال وقف میں خائن ہوں گے اور اس کے ساتھ یہ بھی معزول کئے جائیں گے ۔" (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 209، رضا فاونڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد عرفان مدنی
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-10638
تاریخ اجراء: 17 شوال المکرم 1442 ھ/ 29 مئی 2021ء