مسجد میں موبائل چارج کرنا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
مسجد میں موبائل چارج کرنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نمازی حضرات مسجد میں موبائل چارج کر سکتے ہیں یا نہیں؟ یونہی امام مسجد، مؤذن یا خادم وغیرہ کے موبائل چارج کرنے کا کیا حکم ہے؟
سائل: غلام رسول(جیابگا، رائیونڈ، لاہور)
جواب
مسجد کی سہولیات کے اخراجات اور اس میں استعمال ہونے والی بجلی کے بل وغیرہ ہمارے ہاں چونکہ عموماً چندے سے ادا کئے جاتے ہیں۔ اس حوالے سے حکم یہ ہے کہ اگر چندہ دینے والے نے اسے کسی خاص کام میں استعمال کرنے کا کہا ہے تو اسی میں استعمال کرنا لازم ہے اور اگر اس کی طرف سے صراحت معلوم نہ ہو تو اسے مسجد کے سابق رواج کے مطابق استعمال کرنا ہوگا۔ آج کل چندہ دینے والوں کی طرف سے عموما کوئی صریح مصرف معلوم نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ مطلقا مسجد کے لئے چندہ دیتے ہیں۔ لہذا ایسے موقع پر لامحالہ اسے پہلے سے رائج عرف کے مطابق استعمال کیا جائے گا۔ موبائل چارج کرنا ایک ایسا معاملہ کہ عام مساجد کے اندر موبائل چارج کرنے کا عرف نہیں ہے۔ اس لئے مسجد میں موبائل چارج کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ البتہ اگر کوئی مسجد ایسی ہو کہ لوگوں کا عام رواج اس میں موبائل فون چارج کرنے کا ہو اور چندہ دینے والے یہ جاننے کے باوجود بغیر کوئی قید لگائے چندہ دیتے ہوں تو گویا وہ دلالتاً اس اجازت کے ساتھ دیتے ہیں کہ ان کے چندے سے یہ معروف کام بھی کر سکتے ہیں۔ وہاں پر موبائل چارج کرنے کی اجازت ہوگی۔ نیز جہاں عرف کی وجہ سے اجازت ہو گی، تو وہ حسب عرف سب کیلئے ہو گی اور نہیں ہو گی تو کسی کیلئے نہیں ہو گی۔ لہذا صورت مسئولہ میں عمومی طور پر نمازی، امام، مؤذن یا خادم وغیرہ کسی کو بھی ایسی مسجد میں موبائل چارج کرنے کی اجازت نہیں ہے، جہاں پہلے سے موبائل چارج کرنا معروف نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی مسجد کے حجرے وغیرہ میں امام، مؤذن یا خادم کو رہائش دی ہوئی ہے تو چونکہ حجرہ، مسجد کی ضروریات میں سے ہے اور رہائش کے لوازمات میں سے بجلی کا بقدر عرف ذاتی معاملات میں استعمال بھی ہے۔ اسی استعمال میں سے موبائل کا چارج کرنا بھی ہے کہ یہ بھی آج کل کی رہائش کے لوازم میں سے ہے۔ لہذا وہاں اپنی رہائش کے مقام پر امام وغیرہ کو موبائل چارج کرنے کی اجازت ہوگی۔
چنانچہ فتاوی عالمگیری میں مسجد کے چراغ کے استعمال کے متعلق لکھا ہے ’’لووقف علی دھن السراج للمسجد لایجوز وضعہ جمیع اللیل بل بقدر حاجۃ المصلین و یجوز الی ثلث اللیل و نصفہ اذااحتیج الیہ للصلٰوۃ فیہ کذا فی السراج الوھاج و لا یجوز ان یترک فیہ کل اللیل الافی موضع جرت العادۃ فیہ بذٰلک کمسجد بیت المقدس و مسجد النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم و المسجد الحرام اوشرط الواقف ترکہ فیہ کل اللیل کماجرت بہ العادۃ فی زماننا کذافی البحرالرائق‘‘ ترجمہ: اگر مسجد کے چراغ کے تیل کے لئے کوئی وقف کیا توتمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہ ہوگا بلکہ صرف نمازیوں کی ضرورت کے مطابق اور تہائی رات تک جائز ہے، اور اگر مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے اس کی ضرورت ہوتو نصف رات تک جائز ہے، یونہی السراج الوہاج میں ہے۔ اور تمام رات چراغ روشن رکھنا جائز نہیں، ہاں ایسے مقامات جہاں ایسی عادت جاری ہوگئی جیسا کہ مسجد بیت المقدس ، مسجد نبوی اور مسجد حرام میں ہے، یاواقف نے تمام رات روشن رکھنے کی شرط لگار کھی ہو جیسا کہ ہمارے زمانہ میں یہ عادت بن چکی ہے، بحرالرائق میں یونہی ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الوقف، الباب الحادی عشر فی المسجد، الفصل الثانی، ج 2، ص 459، مطبوعہ کوئٹہ)
امام اہل سنت امام احمدرضاخان علیہ رحمۃا لرحمن فرماتے ہیں: جو چیز جس غرض کے لئے وقف کی گئی دوسری غرض کی طرف اسے پھیرنا ناجائز ہے اگرچہ وہ غرض بھی وقف ہی کے فائدہ کی ہو کہ شرط واقف مثل نص شارع صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم واجب الاتباع ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ولہٰذا خلاصہ میں تحریر فرمایا کہ جو گھوڑا قتال مخالفین کے لئے وقف ہوا ہوا سے کرایہ پر چلانا ممنوع و ناجائز ہے۔‘ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 452، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
بہار شریعت میں ہے: مسجد کی ۔ ۔ ۔ چھوٹی سے چھوٹی چیز کو بے موقع اور بے محل استعمال کرنا ناجائز ہے۔ (بہار شریعت ج 2، حصہ 10، ص 561، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وقار الفتاوی میں ہے: مسجد کی بجلی یا کسی اور چیز کا استعمال مسجد کی ضرورتوں کے علاوہ کسی شخص کیلئے بھی جائز نہیں ہے۔ (وقار الفتاوی، ج 2، ص 334، بزم وقار الدین، کراچی)
امیر اہلسنت علامہ مولانا محمد الیاس عطار قادری دامت برکاتہم العالیہ اپنی تصنیف چندے کے بارے میں سوال جواب میں جشن ولادت پر مسجد کے چندے سے اس میں چراغاں کرنے کے سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: اگر چندہ دینے والوں کی صراحتا یا دلالتا اجازت ہو تو کرسکتے ہیں ورنہ نہیں۔ صراحتا سے مراد یہ ہے کہ مسجد کے لئے چندہ لیتے وقت کہدیا کہ ہم آپ کے چندے سے جشنِ ولادت اور گیارھویں شریف، شبِ براء ت وغیرہ بڑی راتوں کے مواقع پرنیز رمضان المبارک میں مسجد میں روشنی بھی کریں گے اور اس نے اجازت دیدی۔ دلالتاً یہ ہے کہ چندہ دینے والے کو معلوم ہے کہ اس مسجد پر جشن ولادت اور دیگر بڑی راتوں کے مواقع پر اور رمضان المبارک میں چراغاں ہوتا ہے اور اس میں مسجد ہی کا چندہ استِعمال کیا جاتا ہے۔ (چندے کے بارے سوال و جواب، ص20، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11336
تاریخ اجراء: 01 صفر المظفر 1444ھ / 29 اگست 2022ء