logo logo
AI Search

قبرستان میں مسجد اور مزار بنانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

قبرستان میں مزار اور مسجد بنانے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک قدیمی وقفی قبرستان ہے، اس میں ایک بزرگ کا مزار بھی ہے، کچھ عرصہ قبل کچھ قبروں کو مسمار کر کے قبرستان کی کچھ جگہ کو مزار کے کاموں کے لیے مزار کے احاطے میں شامل کر لیا گیا، اور اس کے ساتھ ہی ایک مسجد بھی قبرستان کی اسی جگہ پر بنا دی گئی، اب وہاں قبروں کے نشان بھی نہیں ہیں، اب وہاں اسی مسجد کی توسیع کی ضرورت ہے تو کیا اس حصے کو مسجد کی توسیع کے لیے استعمال کر کے اس کو مسجد میں شامل کر سکتے ہیں؟

جواب

سوال میں دو چیزوں کا ذکر کیا گیا ہے، ایک قبرستان کے لیے وقف جگہ پر مسجد اور مزار کا احاطہ بنانا اور دوسرا اس کام کے لیے مسلمانوں کی قبروں کو مسمار کرنا، پہلے جزء کا جواب یہ ہے کہ جو جگہ ایک مرتبہ قبرستان کے لیے وقف کر دی گئی، وہ بندوں کی ملک سے نکل کر اللہ تعالیٰ کی خاص ملکیت میں چلی گئی، اب اس میں وقف کی تغییر و تبدیلی جائز نہیں، جو جگہ جس مقصد کے لیے وقف ہو، اسی میں اس جگہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے، اس کے علاوہ کسی اور مقصد میں اس کو استعمال کرنا، اگرچہ رفاہ عامہ مثلاً مسجد یا مدرسہ بنانے کے لیے ہی ہو، یا کسی مزار کے احاطے کو بڑا کرنے کے لیے ہو، نا جائز و حرام ہے، حتی کہ اگر واقف خود بھی وقف میں کوئی تبدیلی کرنا چاہے، تو نہیں کر سکتا۔ لہذا قبرستان کے لیے وقف کی گئی زمین میں ابتداءً مسلمانوں کی قبروں کو مسمار کر کے مزار کا احاطہ بنانا اور مسجد بنانا ایک تو تغییر وقف ہے جو کہ نا جائز و حرام ہے، لہذا وہاں کے مسلمانوں پر لازم ہے کہ قبرستان کے لیے وقف زمین پر سے مسجد اور مزار کے احاطہ کے لیے بنائی گئی عمارت کو ختم کر کے دوبارہ اس کو اپنی اصل حالت پر کر دیں، اور یہ بھی خیال رہے کہ جب یہ جگہ قبرستان کے لیے وقف ہے تو یہاں پر بنائی گئی مسجد، مسجد نہیں ہے، اور اس کا حکم بھی مسجد والا نہیں ہےکہ وقف میں تبدیلی جائز نہیں۔

دوسرے جزء کا جواب یہ ہے تغییر وقف کے ساتھ ساتھ اس میں مزید خرابی یہ ہے کہ جب اس جگہ پرمسجد اور مزار کا احاطہ بنانے سے پہلے مسلمانوں کی پرانی قبریں بھی تھیں، تو ان کو مسمار کر کے، بلڈوز کر کے وہاں اس طرح کے تصرفات کرنا مزید حرام در حرام ہے، کہ اس تصرف کی وجہ سے مسلمانوں کی قبروں کی بے حرمتی ہوئی، اب اگر اس مسجد اور احاطے کو مزید وسعت دیں گے تو مزید قبروں کی بے حرمتی ہو گی، لوگ ان قبروں پرچلیں پھریں گے، پاؤں رکھیں گے، تو وہ قبریں اور ان کی حرمت پامال ہو گی، کسی مسلمان کی قبر پر چلنا، پاؤں رکھنا،بیٹھنا، ناجائز و حرام ہے،کہ اس میں مردے کو ایذا دینا ہے اورمردے کو بھی اس چیز سے ایذا ہوتی ہے، جس سے زندہ کو ایذا ہوتی ہے، بلکہ اگر کسی پرانے قبرستان میں نیا راستہ پیدا ہوا، تو اس راستے میں چلنا بھی حرام ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اسی طرح جن کے اقربا ایسی جگہ دفن ہوں کہ ان کے گرد اور قبریں ہو گئیں اور اسے ان قبور تک دوسری قبروں پر پاؤں رکھے بغیر جانا نا ممکن ہو، تو اس کے لیے حکم ہے کہ وہ دور ہی سے فاتحہ پڑھے اور قبر کے پاس نہ جائے۔

نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و سلم فرماتے ہیں: ”لأن أمشی علی جمرۃ أو سیف أو أخصف نعلی برجلی أحب إلی من أن أمشی علی قبر مسلم۔“ بے شک چنگاری یا تلوار پر چلنا یا جوتا پاؤں سے گانٹھنا مجھے اس سے زیادہ پسند ہے کہ میں کسی مسلمان کی قبر پر چلوں۔ (سنن ابن ماجہ، ص 112، مطبوعہ کراچی)

ایک اور مقام پر نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم فرماتے ہیں: ”لأن یجلس أحدکم علی جمرۃ فتحرق ثیابہ فتخلص إلی جلدہ خیر لہ من أن یجلس علی قبر“ یعنی تم میں سے کوئی شخص چنگاری پر بیٹھے، یہاں تک کہ وہ چنگاری اس کے کپڑے جلا کر اس کی جلد تک پہنچ جائے، یہ اس کے لیےاس سے بہتر ہے کہ وہ کسی مسلمان کی قبر پر بیٹھے۔ (صحیح المسلم شریف، جلد 1، ص 312، مطبوعہ کراچی)

مسلمان کی قبر کو مسمار کرنا اور کھولنا حرام ہے،رد المحتار میں ہے: ”النبش حرام“ قبر کھود نااور کھولنا حرام ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار ج 3، ص 167، مطبوعہ پشاور)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”مسلمان کی قبر بلا وجہ شرعی کھود کر برابر کر دینا حرام ہے، فتاوی خیریہ میں ہے: ”و قد صرحوا بحرمۃ النبش لغیر ضرورۃ“۔ رد المحتار میں ہے: ”النبش حرام۔ (فتاوی امجدیہ، ج 3، ص 4، مکتبہ رضویہ، کراچی)

سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن قبرستان میں مدرسہ اور کتب خانہ بنانے کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں: ”وقف کی تبدیل جائز نہیں، جو چیز جس مقصد کے لیے وقف ہے اسے بدل کر دوسرے مقصد کے لیے کر دینا روا نہیں، جس طرح مسجد یا مدرسہ کو قبرستان نہیں کر سکتے، یونہی قبرستان کو مسجد یا مدرسہ یا کتب خانہ کر دیناحلال نہیں۔ سراج وہاج پھر فتاوی ہندیہ میں ہے: ”لا یجوز تغیر الوقف عن ھیأتہ فلا یجعل الدار بستاناً و لا الخان حماماً و لا الرباط دکاناً إلا إذا جعل الواقف إلی الناظر ما یری فیہ مصلحۃ الواقف اھ“۔ وقف کو اس کی ہیئت سے تبدیل کرنا، جائز نہیں، لہذا گھر کا باغ بنانا اور سرائے کا حمام بنانا اور رباط کا دکان بنانا، جائز نہیں، ہاں جب واقف نے نگہبان پر معاملہ چھوڑ دیا ہو کہ وہ ہر وہ کام کر سکتا ہے جس میں وقف کی مصلحت ہو تو جائز ہے، اھ

قلت: جب ہیئت کی تبدیلی جائز نہیں تو اصل مقصود کی تغییر کیونکر جائز ہو گی۔“ (فتاوی رضویہ، ج 9، ص 457، مطبوعہ، لاھور)

سیدی اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کو تغییر وقف کا کوئی اختیار نہیں، تصرف آدمی اپنی ملک میں کر سکتا ہے، وقف مالک حقیقی جل و علا کی ملک خاص ہے، اس کے بے اذن دوسرے کو اس میں کسی تصرف کا اختیار نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 16، ص 232، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-7318
تاریخ اجراء: 10 ربیع الثانی 1445ھ / 26 اکتوبر 2023ء