logo logo
AI Search

وقفی قبرستان میں سے راستہ بنانا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وقفی قبرستان میں سے راستہ دینے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرے والد مرحوم نے ایک جگہ قبرستان کے لئے وقف کی تھی، جس پر پرانی قبریں بھی ہیں، اور نئی بھی بن رہی ہیں، بھائی نے الگ ایک پلاٹ فروخت کیا تھا، جس کے ایک طرف سرکاری راستہ موجود ہے، جبکہ دوسری طرف اہل محلہ اپنے طور پر سڑک بنا رہے ہیں، جس شخص نے بھائی سے پلاٹ لیا ہے، وہ بضد ہے، کہ مجھے قبرستان کی زمین سے راستہ دیا جائے، کیا شریعت میں ایسا کرنا جائز ہے ؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جس شخص نے آپ کے بھائی کا پلاٹ خریدا ہے، اس کو قبرستان سے راستہ دینا شرعاً جائز نہیں؛کیونکہ وقف سے متعلق اصول یہ ہے کہ جب کوئی جگہ وقف کردی جاتی ہے، تو یہ بندے کے ملک سے نکل کر خالص اللہ تعالیٰ کی ملکیت میں چلی جاتی ہے، اس کے بعد اسے نہ تو بیچا جاسکتا ہے، نہ کسی کو دیا جا سکتا ہے، اور نہ کسی دوسری چیز سے تبدیل کیا جا سکتا ہے، بلکہ جس مقصد کے لیے اس جگہ کو وقف کیا جائے، اسی مقصد میں اسے استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے۔

وقف کی مفتی بہ تعریف کے متعلق تنویر الابصار میں ہے "هو حبسها على ملك اللہ تعالى وصرف منفعتها على من أحب" ترجمہ: وقف کہتے ہیں کہ کسی چیز کو اللہ تعالی کی ملکیت پہ روک لینا اور اس کی منفعت اس پہ صرف کرنا جو اسے محبوب ہو۔ (تنویر الابصار و در مختار مع ر د المحتار، جلد 6، ص 518، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہار شریعت میں ہے ”وقف کے یہ معنی ہیں کہ کسی شے کو اپنی ملک سے خارج کر کے خالص عزوجل کی ملک کر دینا اسطرح کہ اُسکا نفع بند گانِ خدا میں سے جس کو چاہے ملتا رہے۔“ (بہار شریعت، ج 2، حصہ 10، ص 523، مکتبۃ المدینہ)

وقف کے حکم کے متعلق تنویر الابصار میں ہے "فإذا تم ولزم لا يملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن" ترجمہ: جب وقف تام و لازم ہو جائے تو وہ کسی کی ملک نہیں رہتا، نہ کسی کو اس کا مالک بنایا جا سکتا ہے، نہ ہی اسے عاریتاً دیا جا سکتا اور نہ ہی رہن رکھا جا سکتا ہے۔ (تنویر الابصار و در مختار مع ر د المحتار، جلد 6، ص 539، 540، مطبوعہ: کوئٹہ)

بحرالرائق میں ہے ''الوقف لا یملک ولا یباع' ' ترجمہ: وقف نہ ملکیت میں آتا ہے اور نہ اسے بیچا ہی جا سکتا ہے۔ (بحر الرائق، ج 5، ص 223، دار الکتاب الاسلامی)

وقف میں تبدیلی جائز نہیں ، جیسا کہ عقود الدریہ، شامی اور فتاوی ہندیہ و دیگر کتبِ فقہ میں ہے "لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ“ ترجمہ: وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں۔ (فتاوٰی ہندیہ، کتاب الوقف، الباب الرابع عشر فی المتفرقات، جلد 2، صفحہ 490، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاویٰ رضویہ میں وقف میں تبدیلی کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں: "وہ حرام ہے حتی کہ متولی بھی جو وقف پر ولایت رکھتا ہے نہ کہ اجنبی، حتی کہ علماء نے تغییرِ ہیئت کی بھی بے اذن واقف اجازت نہ دی ۔" (فتاوی رضویہ، جلد 9، صفحہ 465، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وقف کو اس کے مقصد پر باقی رکھنے کے متعلق فتح القدیر اور رد المحتار میں ہے،: ”الواجب ابقاء الوقف علی ما کان علیہ“ ترجمہ: وقف جس حالت پر تھا، اسی حالت پر اس کو باقی رکھنا واجب ہے۔ (فتح القدیر، کتاب الوقف، جلد 06، صفحہ 212، مطبوعہ: کوئٹہ)

امام اہلسنت امام احمد رضا خان قادری رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا: ”قبرستان میں مدرسہ یا کوئی مکان یا مسجد بنانا جائز یا نہ؟"

اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”قبرستان وقف میں کوئی تصرف خلاف وقف جائز نہیں، مدرسہ ہو خواہ مسجد یاکچھ اور۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 16، صفحہ 150، 151، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد آصف عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5401

تاریخ اجراء:25 ربیع الاول 1448ھ/08 ستمبر 2026ء