دو شوہروں سے ہونے والی اولاد کا وراثت میں حق
بسم اللہ الرحمن الرحيم
دو شوہروں سے ہونے والی ساری اولاکو عورت کی وراثت ملے گی
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
عورت کے پیٹ سے جو بھی اولاد پیدا ہو، خواہ وہ ایک نکاح سے پیدا ہو، یا طلاق یا شوہر کی وفات کے بعد دوسری جگہ نکاح کرنے کی صورت میں دوسرے نکاح سے پیدا ہو، وہ ساری اس کی اولادہے، لہذا عورت کی وفات کے بعد وہ ساری اولاد، اس کے مالِ وراثت کی حق دار ہوگی۔
میت کی اولاد کے حصہ سے متعلق اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ- لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-﴾ ترجمہ کنز العرفان: اللہ تمہیں تمہاری اولاد کے بارے میں حکم دیتا ہے، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ (پارہ 4، سورۃ النساء، آیت: 11)
فتاوٰی فیضِ رسول میں ایک سوال (نور محمد کی والد ہ سبحانی بیگم نے بعدِ وفاتِ شوہر مرتضیٰ خان سے عقد کیا، اب سوال یہ ہے کہ سبحانی بیگم کی وراثت نور محمد خان اور اختری بیگم جو علاتی بہن ہے کے مابین تقسیم ہوگی؟ ملخصاً) کے جواب میں ہے: ”سبحانی بیگم کے انتقال کے وقت اگر اس کے ماں باپ اور شوہر وغیرہ نہ تھے، صرف اس کا لڑکا نور محمد خان تھا اور اختری بیگم نور محمد کی علاتی بہن ہے، جیسا کہ سوال میں مذکور ہے یعنی وہ سبحانی بیگم کی لڑکی نہیں بلکہ اس کے سابق شوہر خضر محمد کی دوسری عورت سے ہے، تو اس صورت میں سبحانی بیگم کی کل جائیداد کا وارث صرف نور محمد ہے، اختری بیگم کا اس میں کوئی حصہ نہیں، اور اگر سبحانی بیگم کے بطن سے ہے یعنی نور محمد کی اخیافی (ماں شریک) بہن ہے تو قرآنِ مجید کی آیتِ کریم: ﴿لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ کے مطابق 2 / 3 نور محمد کا اور 1 / 3 اختری بیگم کا ہے۔“ (فتاوٰی فیضِ رسول، کتاب الفرائض، جلد 02، صفحہ 709، نشان منزل، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فراز عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5292
تاریخ اجراء: 28 صفر المظفر 1448ھ / 12 اگست 2026ء