logo logo
AI Search

طلاق کے بعد پیدا ہونے والی بیٹی وراثت کی حقدار ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

طلاق کے بعد پیدا ہونے والی بچی کا باپ کی وراثت میں حصہ ہوگا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

 کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ زید نے دو شادیاں کی تھیں، پہلی بیوی سے چار بیٹے پیدا ہوئے اور بیوی پھر سے حاملہ تھی کہ زید نے اسے طلاق دیدی، طلاق کے کم و بیش چار سے پانچ ماہ بعد لڑکی پیدا ہوئی،جس پر پہلی بیوی کی عدت مکمل ہوئی اور دوسری بیوی سے چار بیٹے اور دو بیٹیاں پیدا ہوئیں، اب زید کا انتقال ہو چکا ہے، تو سوال یہ ہے کہ زید کی وراثت میں دیگر بیٹے اور بیٹیوں کی طرح اُس بیٹی کا حق بھی ہو گا جو طلاق کے بعد پیدا ہوئی یا پھر وہ وراثت کی حقدار نہیں کہلائے گی؟ اور اگر وراثت میں اس کا حق بنتا ہے، تو کسی بھائی بہن کا اسے والد کی وراثت سے محروم کر دینا کیسا ہے؟ زید اپنی زندگی میں اسے اپنی بیٹی ہی تسلیم کرتا تھا۔

جواب

پوچھی گئی صورت میں طلاق کے بعد پیدا ہونے والی لڑکی زید کی ہی بیٹی ہے اور شرعی طور پر دیگر بہن بھائیوں کی طرح وہ بھی اپنے والد کی وراثت کی حقدار ہے، پھر جب وہ اپنے والد کی وارث ہے، تو اسے والد کی میراث سے محروم کرنا صریح ظلم، سخت ناجائز و حرام اور کبیرہ گناہ ہے، لہذا جو بھی اسے شرعی حصہ سے محروم کرے گا، سخت گناہ گار اور عذابِ نار کا حقدار ہو گا اور قرآن و حدیث میں ایسے افراد کے لئے سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں، اس لئے جب بھی وراثت تقسیم کی جائے، بقیہ ورثاء کے ساتھ اس لڑکی کو بھی مالِ وراثت میں اس کا پورا حق دیا جائے۔

اولاد کی وراثت کے متعلق ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ- لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-﴾ترجمۂ کنز الایمان: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔ (پارہ4، سورۃ النساء، آیت 11)

طلاق کے بعد مدتِ حمل میں پیدا ہونے والی لڑکی، زید کی بیٹی اور اس کی وارث ہے۔  فتاوی عالمگیری میں ہے: لو طلقھا بعد الدخول، ثم جاءت بولد یثبت النسب الی سنتین و تنقضی العدۃ بہ‘‘ ترجمہ: اگر کسی شخص نے دخول کے بعد بیوی کو طلاق دی، پھر وہ بچہ پیدا کرے، تو (وقتِ طلاق سے)دو سال کی مدت تک بچہ جننے کی صورت میں اس بچے کا نسب مذکورہ شخص سے ثابت ہو گا اور اس کی ولادت پر عورت کی عدت پوری ہو جائے گی۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الطلاق، الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب، جلد 1، صفحہ 537، مطبوعہ بیروت)

فقیہ ملت حضرت علامہ مولانا مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ سے سوال ہو اکہ طلاق کی عدت میں پتہ چلا کہ عورت حاملہ ہے، تو حمل والے بچے کا کیا حکم ہوگا؟ تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: اگر وقتِ طلاق سے دو سال یا اس سے کم پر لڑکا پیدا ہوا، تو وہ طلاق دینے والے شوہر کا ہے ۔ ۔ ۔ اور زید کی موت کے بعد بچہ اس کی جائیداد کا وارث بھی ہو گا۔ (فتاوی فیض الرسول، جلد 2، صفحہ 323،شبیر برادرز، لاہور)

کسی کا مالِ وراثت کھا جانا زمانہ جاہلیت کا دستور ہے۔ اللہ عزوجل قرآن کریم میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَ تَاْکُلُوْنَ التُّرَاثَ اَکْلًا لَّمًّا﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور میراث کا سارا مال جمع کر کے کھا جاتے ہو۔ (پارہ 30، سورۃ الفجر، آیت 19)

اس آیت کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے: یہاں کفار کی تیسری خرابی اور ذلت کا بیان ہے کہ تم میراث کا مال کھا جاتے ہو اور حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتے اور عورتوں اور بچوں کو وراثت کا حصہ نہیں دیتے، بلکہ ان کے حصے خود کھا جاتے ہو، جاہلیت میں یہی دستور تھا۔ اس بیان کردہ ظلم میں بہت سی صورتیں داخل ہیں اور فی زمانہ جو چچا، تایا قسم کے لوگ یتیم بھتیجوں کے مال پر قبضہ کر لیتے ہیں یا روٹین میں جو بہنوں، بیٹیوں یا پوتیوں کو وراثت نہیں دی جاتی، وہ بھی اسی میں داخل ہے کہ شدید حرام ہے۔ (تفسیرِ صراط الجنان، جلد 10، صفحہ 668، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

کسی وارث کی میراث نہ دینے سے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: من فر من ميراث وارثه، قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة“ ترجمہ: جو وارث کو میراث دینے سے بھاگے، اللہ قیامت کے دن جنت سے اس کی میراث قطع فرما دے گا۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا، صفحہ 194، مطبوعہ کراچی)

میراث میں بہنوں کو حصہ نہ دینے کے متعلق اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لڑکیوں کو حصہ نہ دینا حرامِ قطعی ہے اور قرآن مجید کی صریح مخالفت ہے۔قال اللہ تعالی: ﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ- لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِۚ-﴾۔ (فتاوی رضویہ، جلد 26، صفحہ 314، رضا فاؤنڈیشن، لاہور(

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Pin-6922
تاریخ اجراء: 06 شعبان المعظم 1443ھ / 10 مارچ 2022ء