logo logo
AI Search

مشترکہ جگہ کو بعض شرکاء کا وقف کرنا

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مسجد کے لیے وصیت کی گئی تو وہ مال غریب کو دینا کیسا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دين و مفتيان شرع متين اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر عورت نے یہ وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میرے اس زیور کو مسجدمیں دے دینا، اور وہ زیور اس کے کل مال کی تہائی کے اندر اندر ہی ہے۔ اب اس کی وفات کے بعد اس کے ورثاء یہ چاہتے ہیں کہ وصیت والے زیور کو مسجدمیں دینے کے بجائے اپنے ایک بیمار غریب رشتہ دار کو دے دیں تاکہ وہ اپنی کا علاج کروا سکے۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ کیا ورثہ کو اس بات کی اجازت ہے؟

جواب

مسجدمیں اپنا مال دینے کی وصیت شرعا درست ہے اور صورت مسئولہ میں اس عورت نے جب مسجدکے لیے اپنے زیورکی وصیت کی تھی تو ایسی صورت میں اس زیور کو مسجدمیں ہی دیا جائے گا، مسجدکے بجائے کسی غریب بیمار کو نہیں دیں گے۔ فتاوی ہندیہ میں ہے "و لو أوصى بأن ينفق ثلثه على المسجد جاز و يصرف على عمارته و سراجه" ترجمہ: اور اگر کسی نے وصیت کی کہ اس کے مال کے تہائی کو مسجد پر خرچ کیا جائے تو یہ درست ہے اور اس کی عمارت اور اس کے چراغ پر صرف کیا جائے گا۔ (فتاوی ہندیہ، ج 06، ص 96، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں سوال ہوا "زید نے اپنی جائداد کے کرایہ کی آمدنی میں یہ وصیت کی کہ کچھ رقم معین مکہ شریف و مدینہ شریف و بغداد شریف کے سادات کو دی جائے اور باقی رقم میں چند ایام مقررہ میں طعام پکا کر مساکین کو کھلایا جائے اور کچھ رقم معین دو مسجدوں میں دی جائے مگربعد فوت زید کے اس جائداد کے متولیان یہ کرتے ہیں کہ بجائے سادات کے امیروں کی سفارش سے اس رقم کوواسطے شادی کردینے ان لڑکیوں کے جن کے والدین غریب ہیں دیتے ہیں وردیگر رقم معین کودومسجدوں میں دیتے ہیں اور باقی رقم معین میں چند ایام مقررہ میں طعام پکارکر تھوڑا مساکین میں اور تھوڑا ذی ثروت لوگوں کوکھلاتے ہیں۔ زید کی وصیت کے بموجب کیاجائے وہ درست ہے یا جو متولیان کرتے ہیں وہ درست ہے؟ جوکارخیر ہو، موافق حکم شریعت جواب عنایت ہو۔"

اس کے جواب میں فرمایا: "جو رقم اس نے دونوں مسجدوں کے لئے معین کی ہے وہ انہیں کودی جائے گی، جو رقم اس نے مساکین کے کھانے کے لئے معین کی ہے اس میں سے اہل ثروت کودینادرست نہیں، اورجو رقم سادات حرمین طیبین و بغداد مقدس کے لئے معین کی ہے اگر انہیں بلادطیبہ کے سادات مساکین کو بھیجی جائے تو بہتر ہے ورنہ یہاں کے مساکین پربھی صرف ہو سکتی ہے قید بلاد کا اتباع ضروری نہیں۔" (فتاوی رضویہ، ج 25، ص 648، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11003
تاریخ اجراء: 02 جمادی الاولی 1443ھ / 07دسمبر 2021ء