وارث اور غیر وارث دونوں کے لیے کی گئی وصیت کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وارث اور غیر وارث دونوں کے لیے کی گئی وصیت کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ چند ماہ قبل میری ساس کا انتقال ہو گیا ہے، انہوں نے اپنی زندگی میں سب کے سامنے یہ وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد زیورات میں سے کنگن میری بیٹی کو (جو میری زوجہ ہیں) دیدینا اور بالیاں اور لاکٹ نواسی کو (جو میری بیٹی ہے، اسے) دیدینا۔ اب ساس کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء کسی وجہ سے یہ زیور وصیت کے طور پر دینے پر رضا مند نہیں ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ زیور بھی وراثت کے طور پر ہی تقسیم ہو، تو ہمیں اس بارے میں قرآن وحدیث کی روشنی میں حکمِ شرع سے آگاہ کر دیجئے۔
نوٹ: سائل نے وضاحت کی ہے کہ مرحومہ کے ترکے میں اس زیور کے علاوہ نقدی اور ایک پلاٹ بھی موجود ہے اور وصیت والے زیور کی مارکیٹ ویلیو کل مال کے تہائی (3/1) سے کم بنتی ہے اور تمام ورثاء عاقل بالغ ہیں۔
جواب
سوال میں دو افراد کے متعلق وصیت کا ذکر کیا گیا ہے، دونوں کی وصیت کا حکم بالترتیب ملاحظہ فرمائیں:
(١) مرحومہ نے اپنی بیٹی (یعنی آپ کی زوجہ) کو کنگن دینے کی وصیت کی تھی، لیکن دیگر ورثاء اس وصیت کے نفاذ پر رضا مند نہیں ہیں، تو یہ وصیت اُن کی بیٹی کے حق میں نافذ نہیں کی جائے گی، کیونکہ وارث کے لئے وصیت کرنا دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں، ہاں! اگر بقیہ ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اس کے نافذ کرنے پر راضی ہو جائیں، تو اس پر عمل کیا جا سکتا ہے، لیکن پوچھی گئی صورت میں چونکہ ورثاء آپ کی زوجہ کو یہ کنگن بطورِ وصیت دینے پر رضا مند نہیں ہیں، لہذا بقیہ مالِ وراثت کے ساتھ ان کنگن کو بھی تمام ورثاء میں شرعی حصص کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔
(٢) مرحومہ نے بالیاں اور لاکٹ اپنی نواسی (یعنی آپ کی بیٹی) کو دینے کی وصیت کی تھی، تو یہ وصیت بلاشبہ درست ہے اور اسے نافذ بھی کیا جائے گا، کیونکہ اجنبی (یعنی غیر وارث) کے حق میں کی جانے والی وصیت مرحوم کے کل مال کے تہائی حصے میں ورثاء کی رضا مندی کے بغیر بھی نافذ کی جا سکتی ہے اور جیسا کہ سوال میں وضاحت کی گئی ہے کہ بالیوں اور لاکٹ کی مارکیٹ ویلیو کل مالِ وراثت کے تہائی سے کم بنتی ہے، تو شرعی طور پر یہ دونوں چیزیں آپ کی بیٹی کو بطورِ وصیت ورثاء کی اجازت کے بغیر بھی لینے کا حق حاصل ہے۔
وارث کے لئے وصیت کے متعلق سنن ابن ماجہ میں ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ان اللہ قسم لکل وارث نصیبہ من المیراث، فلا تجوز لوارث وصیۃ‘‘ ترجمہ: بے شک اللہ عزوجل نے ہر وارث کے لئے ترکے میں اس کا حصہ مقرر فرما دیا، پس وارث کے لئے وصیت کرنا، جائز نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا، صفحہ 194، مطبوعہ کراچی)
سنن ابی داؤد، سنن دار قطنی و کنز العمال میں ہے: واللفظ للثانی: ’’لا وصیۃ لوارث الا ان یجیز الورثۃ‘‘ یعنی کسی وارث کے لئے وصیت نہیں مگر یہ کہ ورثاء اسے جائز کر دیں۔ (سنن دار قطنی، کتاب الوصایا، جلد 5، صفحہ 267، مطبوعہ بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے: ’’(ومنها) ان لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فان كان لا تصح الوصية،۔۔۔ لو اوصى لبعض ورثته، فاجاز الباقون جازت الوصية‘‘ ترجمہ: وصیت درست ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ موصٰی (جس کے لئے وصیت کی جا رہی ہے) وصیت کرنے والے کی موت کے وقت اس کا وارث نہ بنتا ہو، پس اگر ایسا ہوا، تو وصیت درست نہیں ہو گی، ۔۔۔ اگر کسی نے بعض ورثاء کے لئے وصیت کی اور بقیہ نے اس کو جائز کر دیا، تو یہ وصیت درست ہو جائے گی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوصایا، جلد 6، صفحہ 433 تا 434، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے: ’’زوج وارث ہے اور وارث کے لئے وصیت بے اجازت دیگر ورثہ باطل ہے کہ ثلث وغیرہ کسی حصے میں نافذ نہیں ہو سکتی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 19، صفحہ 285، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
اجنبی کے لئے وصیت کے بارے میں تبیین الحقائق میں ہے: ’’تصح الوصية للاجنبي بالثلث من غير اجازة الوارث ولا تجوز بما زاد على الثلث‘‘ ترجمہ: اجنبی کے لئے ثلث مال میں ورثاء کی اجازت کے بغیر بھی وصیت درست ہے، لیکن ثلث مال سے زائد (بغیر اجازتِ ورثاء) وصیت درست نہیں۔ (تبیین الحقائق، کتاب الوصایا، جلد 6، صفحہ 182، مطبوعہ ملتان)
سیدی اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ سے غیر وارث کے لئے تہائی مال تک کی جانے والی وصیت کے متعلق سوال ہوا، تو جواباً ارشاد فرمایا: ’’احمد بن محمد کے نام جائدادِ مملوک میں ثلث کی وصیت تو بدیہی الصحت والنفاذ ہے،۔۔ (کیونکہ) نہ احمد بن محمد باوجود حامد وارث، نہ وصیت قدرِ ثلث سے متجاوز کہ کل یا مقدارِ زائد میں اجازتِ ورثاء کی احتیاج ہوتی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 307، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-6848
تاریخ اجراء: 02 ذو القعدۃ الحرام 1442ھ/12 جون 2021ء