وراثت کی تقسیم میں اپنا حصہ معاف کرنا
تقسیمِ وراثت میں اپنا حصہ معاف کرنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا، ان کے والدین کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا، ان کے ورثاء میں ایک زوجہ، تین بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں، اب معلوم یہ کرنا ہے کہ (1) مرحوم کا ترکہ مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گا؟ (2) اگر کوئی اپنا حصہ معاف کرنا چاہے تو اس کی کیا صورت ہو سکتی ہے؟
جواب
(1) سائل کا بیان حقیقتِ حال کے مطابق ہونے کی صورت میں حکم شرعی یہ ہے، کہ بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے، اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے، اس میں سے ایک تہائی جائز وصیت کی ادائیگی کے بعد) میت کی کل جائیداد منقولہ (رقم، زیورات، گھریلو سامان وغیرہ) و غیر منقولہ (پلاٹ، مکان اور دکان وغیرہ) کے کل 80 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے میت کی زوجہ کو 10 حصے، اس کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو 14 حصے، جب کہ اس کی بیٹیوں میں سے ہر ایک کو 7 حصے ملیں گے۔
بیٹے، بیٹیوں کے حصوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے:﴿یُوْصِیْکُمُ اللّٰہُ فِیْ اَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الاُنْثَیَیْنِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ (پارہ 4، سورۃ النساء 4، آیت11)
میت کی اولاد کی موجودگی میں زوجہ کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:﴿فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَاۤ اَوْدَیْنٍ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں، جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔ (پارہ 4، سورۃ النساء 4، آیت 12)
صورت مسئلہ اس طرح ہو گی:

(2) میت کے ترکے میں سے اگر کوئی وارث اپنا حصہ نہیں لینا چاہتا، بلکہ معاف کرنا چاہتا ہے تو وہ اپنا مکمل حصہ یا ترکے میں سے کچھ وصول کیے بغیر معاف نہیں کر سکتا، کیونکہ ارث جبری ہے، یعنی بہرصورت وارث کو ملے گی، جس کی وجہ سے اگر وارث معاف کرنا چاہے تو بھی معاف نہیں کر سکتا، البتہ اس کی ایک یہ صورت ہو سکتی ہے کہ وہ اپنا مکمل حصہ وصول کرنے کے بعد جس کو چاہے دے دے۔
اور دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے کہ وہ اپنے والد کے ترکے میں سے کوئی ایک چیز لے لے اگرچہ بہت کم قیمت کی ہو اور کہہ دے کہ اپنے حصے کے بدلے میں یہ چیز میں نے لے لی ہے اور باقی ترکے میں سے کچھ نہیں لوں گا اور باقی ورثاء بھی اس پر راضی ہوں تواب باقی ترکہ دوسرے ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کر دیا جائے گا۔
سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں: ”ارث جبری ہے کہ موت مورث پر ہر وارث خواہ مخواہ اپنے حصہ ٔ شرعی کا مالک ہو تا ہے، مانگے خواہ نہ مانگے، لے یا نہ لے، دینے کا عرف ہو یا نہ ہو، اگرچہ کتنی ہی مدت ترک کو گزر جائے، کتنے ہی اشتراک دراشتراک کی نوبت آئے، اصلا کوئی بات میراث ثابت کو ساقط نہ کرے گی، نہ کوئی عرف فرائض اللہ کو تغیر کر سکتا ہے، یہاں تک کہ نہ مانگنا در کنار، اگر وارث صراحۃ کہہ دے کہ میں نے اپنا حصہ چھوڑدیا، جب بھی اس کی ملک زائل نہ ہو گی۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 26، ص 113، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
سراجی کی شرح شریفیہ میں تخارج کے بارے میں ہے: ”والمراد بہ ھٰھنا أن یتصالح الورثۃ علی إخراج بعضھم عن المیراث بشیٔ معلوم من الترکۃ و ھو جائز عند التراضی، نقلہ محمد فی کتاب الصلح عن ابن عباس و ذکر عن عمرو بن دینار أن عبد الرحمٰن بن عوف طلق امرأتہ تماضر الکلبیۃ فی مرض موتہ ثم مات و ھی فی العدۃ فورثھا عثمان مع ثلٰث نسوۃ أخر فصالحوھا عن ربع ثمنھا علیٰ ثلٰثۃ و ثمانین الفاً، فقیل ھی دنانیر و قیل دراھم۔
من صالح من الورثۃ علی شیٔ معلوم من الترکۃ فاطرح سھامہ من التصحیح ثم اقسم باقی الترکۃ علی سھام الباقین“ تخارج سے مراد یہ ہے کہ ورثاء میت کے ترکہ میں سے کوئی معلوم چیز کسی وارث کو دے کر اس کو باقی میراث سے نکالنے پر صلح کر لیں، یہ فریقین کی رضامندی سے جائز ہے، اس کو امام محمد نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے کتاب الصلح کے اندر ذکر کیا ہے، اور حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے یہ روایت ذکر کی ہے کہ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی مرض موت میں اپنی زوجہ تماضر الکلبیہ کو طلاق دے دی، پھر آپ فوت ہو گئے اور یہ عورت عدت میں تھی تو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے باقی تین بیویوں کے ساتھ اس کو بھی وارث ٹھہرایا تو ان تینوں نے اس عورت کے ساتھ چوتھائی ثمن یعنی تراسی ہزار (83000) پر صلح کر لی، ایک قول کے مطابق یہ دینار تھے اور دوسرے قول کے مطابق درہم تھے۔
جس شخص نے ترکہ میں سے کسی معلوم چیز کے لینے پر باقی ورثاء کے ساتھ صلح کر لی تو تصحیح میں سے اس کے سہام کو نکال لیا جائے گا پھر باقی ترکہ باقی سہام پر تقسیم کر دیا جائے گا۔ (شریفیہ شرح السراجیہ، ص 73-74، مطبوعہ پشاور)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ القوی فرماتے ہیں: ”بعض مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک وارث بالمقطع اپنا کچھ حصہ لے کر ترکہ سے نکل جاتا ہے کہ اب وہ کچھ نہیں لے گا اس کو تخارج کہتے ہیں، یہ بھی ایک قسم کی صلح ہے۔
ترکہ عقار یعنی جائداد غیر منقولہ ہے یا عرض ہے، یعنی نقود کے علاوہ دوسری چیزیں اور جس وارث کو نکالا، اس کو کچھ مال دیدیا، اگرچہ جتنا دیا ہے وہ اس کے حصہ کی قیمت سے کم یا زیادہ ہے یا ترکہ سونا ہے اور اس کو چاندی دی یا ترکہ چاندی ہے، اس کو سونا دیا یا ترکہ میں دونوں چیزیں ہیں اور اس کو بھی دونوں چیزیں دیں، یہ سب صورتیں جائز ہیں اور اس کو مبادلہ پر محمول کیا جائے گا اور جنس کو غیر جنس سے بدلنا قرار دیا جائے گا۔ اس کو جو کچھ دیا ہے وہ اس کے حق سے کم ہے یا زیادہ، دونوں صورتیں جائز ہیں۔“ (بھار شریعت، جلد 2، حصہ 13، ص 1150، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-7169
تاریخ اجراء: 24 رجب المرجب 1444ھ/16 فروری 2023ء