logo logo
AI Search

والد کو پیسے دینے والے بیٹے کا وراثت میں زیادہ حصہ ہوگا؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

باپ کی زندگی میں اسے رقم دینے والے بیٹوں کا وراثت میں زیادہ حصہ ہوگا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص کا انتقال ہو گیا ہے، ان کے والد صاحب کا انتقال ان کی زندگی ہی میں ہو گیا تھا، ان کے ورثاء میں والدہ، ایک زوجہ، چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے، ان کی وراثت مذکورہ ورثاء میں کس طرح تقسیم ہو گی؟ نیز مرحوم کے دو بیٹوں نے مکان بنانے میں کافی زیادہ رقم شامل کی تھی، وہ ہر ماہ یا جب ضرورت ہوتی، کثیر رقم والد صاحب کو دے دیتے تھے اور اس رقم کا مالک والد صاحب کو بنا دیتے تھے، رقم واپس لینے کی کوئی نیت نہیں ہوتی تھی، اب والد کے مکان کی تقسیم کے وقت ان کو زیادہ حصہ ملے گا یا باقی بھائیوں کے برابر ہی حصہ ملے گا؟

جواب

سائل کا بیان حقیقتِ حال کے مطابق ہونے کی صورت میں حکم شرعی یہ ہے، کہ بعد از امور متقدمہ علی الارث (یعنی کفن دفن کے خرچے پھر میت کے ذمے جو قرض ہے، اس کی ادائیگی کے بعد جو مال بچ جائے، اس میں سے ایک تہائی جائز وصیت کی ادائیگی کے بعد) میت کی کل جائیداد منقولہ (رقم، زیورات، گھریلو سامان وغیرہ) و غیر منقولہ (پلاٹ، مکان اور دکان وغیرہ) کے کل 216 حصے کیے جائیں گے، جن میں سے میت کی والدہ کو 36 حصے، اس کی زوجہ کو 27 حصے، اس کے بیٹوں میں سے ہر ایک کو 34 حصے، جب کہ اس کی بیٹی کو17 حصے ملیں گے۔

والد صاحب کا مکان تمام وارثوں میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا، جن بیٹوں نے والد کی زندگی میں ان کو رقم زیادہ دی ہے، وہ والد کے ترکے میں سے زیادہ حصے کا مطالبہ نہیں کر سکتے، کیونکہ زندگی میں جو رقم انہوں نے والد کو ہبہ اور تحفہ کے طور پر دی، والد نے جب اس رقم پر قبضہ کر لیا تو وہ والد کی ملک میں ہو گئی، اب اس کے بعد اس رقم سے والد نے جو مکان اپنے لیے بنایا وہ والد کا ہی رہا، اب والد کی وفات کے بعد وہ تمام ورثاء میں ان کے شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہو گا۔

تنویر الأبصار و در مختار میں ہے: ”و تتم الھبۃ بالقبض الکامل فی محوز مفرغ مقسوم“ ترجمہ: کامل قبضے کے ساتھ ہبہ ایسی چیز میں مکمل ہو جاتا ہے جو علیحدہ کی گئی ہو، تقسیم کی گئی ہو۔ (تنویر الأبصار مع رد المحتار ج 8، ص 493، مطبوعہ ملتان)

بیٹے، بیٹیوں کے حصوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد پاک ہے: ﴿یُوْصِیْكُمُ اللّٰهُ فِیْۤ اَوْلَادِكُمْۗ-لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ﴾ ترجمۂ کنز الایمان: ”اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں، بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں کے برابر ہے۔“ (پارہ: 4، سورۃ النساء:4، آیت:11)

والدین کے حصے کے بارے میں اللہ کریم کا ارشاد پاک ہے: ﴿ وَ لِاَبَوَیْہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنْ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ترجمۂ کنز الایمان: ”اور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا، اگر میت کے اولاد ہو۔“ (پارہ: 4، سورۃ النساء: 4، آیت: 11)

میت کی اولاد کی موجودگی میں زوجہ کے حصے کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے: ﴿ فَاِنْ کَانَ لَکُمْ وَلَدٌ فَلَہُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَکْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ وَصِیَّۃٍ تُوْصُوْنَ بِہَاۤ اَوْدَیْنٍ ترجمۂ کنز الایمان: ”پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں، جو وصیت تم کر جاؤ اور دین نکال کر۔“ (پارہ: 4 سورۃ النساء:4 آیت: 12)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی

فتوی نمبر: Pin-7164

تاریخ اجراء: 17 رجب المرجب 1444ھ/ 09 فروری 2023ء