logo logo
AI Search

والد کی زمین پر مدرسہ تعمیر کروانے پر وہ جگہ کس کی ہوگی؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

والد کی جگہ پر بیٹے نے مدرسے کے لیے تعمیرات کروائیں تو وہ کس کی ملکیت ہوں گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ والد صاحب کی خریدی گئی جگہ پر والد صاحب کی زندگی میں ہی ایک بھائی اپنی ذاتی رقم سے تعمیرات کروائے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ نیچے مدرسہ بنانا ہے، پھر والد صاحب کا انتقال ہو گیا۔ اب اس جگہ کو بیچ کر سب اپنے اپنے حصے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ یہ ارشاد فرمائیں کہ جس بیٹے نے اپنی ذاتی رقم سے تعمیرات کیں، وہ اپنی خرچ شدہ رقم کا تقاضا کر سکتا ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں اس جگہ میں جس بیٹے نے اپنی ذاتی رقم سے تعمیرات کی تھیں، ان تعمیرات کی رقم بھی مرحوم والد کی وراثت میں شمار ہوگی اور بشمول اس بیٹے کے تمام ورثاء میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوگی ۔

مسئلے کی تفصیل جاننے کے لیے یہ دو اصول ذہن نشین کر لیجیے کہ

(1) اگر کوئی شخص اپنی ذاتی جگہ پر اس ارادے اور قصد سے تعمیر شروع کرے کہ اس کے اوپر اپنی رہائش اور نیچے مدرسہ بنائے گا، تو فقط اس تعمیر کی شروعات سے وہ جگہ وقف اور مدرسہ نہیں ہوجائے گی، کیونکہ وقف درست ہونے کے لیے اس جگہ کا بندوں کے ہر طرح کے حقوق سے خالی ہونا ضروری ہوتا ہے ۔

(2) اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی زمین میں اس کی اجازت سے تعمیرات کرے، تو وہ تعمیرات مالکِ زمین کے لیے ہوتی ہیں، الّا یہ کہ تعمیر کرنے والا شخص اپنے لیے بنانے کی صراحت کرے، یعنی اگر تعمیرات کرنے والے شخص نے اپنے لیے بنانے کی صراحت کی ہو تو اس کے اپنے لیے وہ تعمیرات ہوں گی اور اگر مالکِ زمین کے لیے صراحت کی تو مالکِ زمین کے لیے وہ تعمیرات ہوں گی اور اگر کسی کے لیے بھی صراحت نہیں کی، تو پھر بھی وہ تعمیرات مالکِ زمین کی ملکیت شمار ہوتی ہیں۔

ان دونوں اصولوں سے ہمارے سوال کا جواب واضح ہو گیا کہ اولاً وہ جگہ وقف ہی نہیں ہوئی تھی، کیونکہ ابھی تک اس جگہ کو مدرسہ کے لیے وقف نہیں کیا تھا، بلکہ تعمیرات مکمل کرنے کے بعد نیچے والے حصے کو مدرسہ کے لیے وقف کرنا تھا، جبکہ فی الواقع ایسا کچھ نہیں ہوا، جس وجہ سے وہ جگہ وقف نہیں ہوئی، بلکہ والد کی ملکیت میں شمار ہوگی، لہٰذا اس جگہ کے مالِ وراثت ہونے میں تو کسی طرح کا کلام نہیں ہے۔ پھر جب وہ جگہ وقف نہیں ہوئی، تو اب اس جگہ میں بیٹے نے جو مدرسہ کے لیے تعمیرات کروائی تھیں، تو بیٹے نے چونکہ بناتے وقت اپنے لیے صراحت نہیں کی تھی، تو وہ تعمیرات بیٹے کے لیے نہیں ہوں گی، البتہ وہ تعمیرات والد کی جگہ پر ہیں، تو والد کی ملکیت میں ہی شمار ہوں گی اور وراثت میں شمار ہوں گی۔

وقف ہونے کے لیے لازم ہے کہ موقوفہ زمین بندوں کے تمام حقوق سے خالی ہو، چنانچہ شیخ الاسلام و المسلمین امام اہلسنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”مسجد ہونے کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنی شش جہت میں جمیع حقوق عباد سے منزہ ہو۔ اگر اس کے کسی حصہ میں بھی ملک عبد باقی ہے تو مسجد نہ ہوگی۔ ہدایہ میں ہے: من جعل مسجدا تحتہ سرداب، او فوقہ بیت وجعل باب المسجدالی الطریق وعزلہ عن ملکہ، فلہ ان یبیعہ وان مات یورث عنہ لانھالم یخلص للہ تعالٰی لبقاء حق العبد متعلقابہ جس شخص نے مسجد بنائی جس کے نیچے تہ خانہ یا اوپر کوئی مکان ہے اور مسجد کا دروازہ اس نے بڑے راستہ کی طرف کردیا اور اس کو اپنی ملک سے الگ کردیا تو اس کو اختیار ہے کہ وہ اسے بیچ دے اور اس کے مرنے کے بعد اس میں میراث جاری ہوگی کیونکہ وہ خالص ا تعالیٰ کے لئے نہیں ہوئی، اس سے حق عبد متعلق ہونے کی وجہ سے ۔ “ (فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 447، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )

مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: ”ان من شرطہ انقطاع حقوق العباد عن جمیع جوانبہ فضلا عن نفسہ کما فی الھدایۃ وغیرھا“ کیونکہ شرائط وقف میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ اس کی تمام جوانب حقوق العباد سے منقطع ہو چہ جائیکہ خود وقف جیسا کہ ہدایہ وغیرہ میں ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 16، صفحہ 407، رضا فاؤنڈیشن، لاھور )

دوسرے کی زمین پر مالک کی اجازت سے تعمیرات کرنے کی صورت میں کب مالک کی اور کب تعمیرات کرنے والے کی ملکیت ثابت ہوتی ہے ؟ اس کے متعلق علامہ ابن نجیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”كل من بنى في أرض غيره بأمره فالبناء لمالكها“ ترجمہ: جس شخص نے دوسرے کی زمین پر مالک کی اجازت سے کچھ تعمیر کیا، تو وہ تعمیرات زمین کے مالک کی ہوں گی۔

اس کے تحت علامہ حموی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”هذا إذا أطلق أو عينه للمالك، فلو عينه لنفسه فهو له“ ترجمہ: یہ اس وقت ہے کہ جب مطلق رکھا (یعنی کسی کے لیے بھی صراحت نہیں کی، یا مالک کے لیے صراحت کی (تو ان دونوں صورتوں میں مالک کی ملکیت شمار ہوں گی) اور اگر اپنے لیے صراحت کی، تو تعمیرات کرنے والے شخص کی ہی ملکیت شمار ہوگی۔ (غمز عیون البصائر شرح الاشباہ والنظائر، جلد 2، صفحہ 220، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

اسی اصول کے مطابق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ’’اگر زید (غیر کی زمین میں باغ لگانے والے) نے تعیین کی تھی کہ یہ باغ میں اپنے واسطے لگاتا ہوں یا اس کی والدہ نے اس سے کہا تھا کہ تو اپنے لئے باغ لگالے تو درختوں کا مالک زید ہی ہے نہ دیگر ورثہ۔ اور اگر نہ اس نے اپنے لئے تعین کی، نہ مورثہ کے کلام میں خاص اس کے لئے اجازت تھی بلکہ صرف باغ لگانے کی رضامندی ظاہر کی تو وہ باغ بھی مادرِزید (یعنی زمین کی مالکہ) کی ملک ٹھہر کر اس کے سب وارثوں پر حسب فرائض منقسم ہوجائیں گے ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 26، صفحہ 129، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: Aqs-2992

تاریخ اجراء: یکم ربیع الاول 1448 ھ/15 اگست 2026ء