logo logo
AI Search

دوران عدت شوہر کا انتقال ہو جائے تو بیوی کو وراثت ملے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عدت کے دوران شوہر کا انتقال ہو جائے، تو بیوی وارث بنے گی؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور ابھی عورت کی عدتِ طلاق باقی ہو کہ اس کے شوہر کا انتقال ہو جائے، تو عورت اس کی وارث ہوگی یا نہیں؟

جواب

کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دے اور پھر اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے انتقال کر جائے، تو عورت کے شوہر کی وارث بننے یا نہ بننے کے اعتبار سے مختلف صورتیں بنتی ہیں جن کی تفصیل یہ ہے کہ

 (1) اگر شوہر نے اپنی بیوی کو طلاقِ رجعی دی تھی، تو عورت اس کی وارث ہوگی ۔

 (2) اور اگر طلاقِ بائن ایک یا تین طلاقیں تندرستی کی حالت میں دی تھیں، تو عورت اس کی وارث نہیں بنے گی۔

 (3) اور اگر طلاقِ بائن اپنے مرضِ موت میں اپنے اختیار سے بیوی کی رضامندی و مطالبے کے بغیر دی تھی، نہ کہ اکراہِ شرعی سے اور موت تک وہ مرض برقرار رہا، تو عورت اس کی وارث ہوگی۔

 (4) اگر مرضِ موت میں طلاقِ بائن بیوی کی رضامندی یا مطالبے پر دی تھی یا طلاق دینے پر مجبور کیا گیا تھا یعنی مار دیے جانے یا کوئی عضو کاٹ ڈالنے کی صحیح دھمکی دی گئی تھی، اس پر طلاق دی یا طلاق دینے کے بعد مرض ِ موت سے شفا یاب ہو گیا اور پھر اس کے بعد انتقال ہوا، اگرچہ صحتیابی کے بعد دوبارہ ویسا مریض ہو گیا ہو، تو ان تمام صورتوں میں عورت اس کی میراث نہیں پائے گی۔

بدائع الصنائع میں ہے: ’’منھا الارث عند الموت وجملة الكلام فيه أن المعتدة لا تخلو اما ان كانت من طلاق رجعی واما ان كانت من طلاق بائن أو ثلاث والحال لا يخلو اما ان كانت حال الصحة واما ان كانت حال المرض فان کانت العدۃ من طلاق رجعی فمات أحد الزوجین قبل انقضاء العدۃ ورثہ الآخر بلا خلاف سواء کان الطلاق فی حال المرض او فی حالۃ الصحۃ ۔۔۔۔۔ وان كانت من طلاق بائن أو ثلاث فان كان ذلك فی حال الصحة فمات أحدهما لم يرثه صاحبه سواء كان الطلاق برضاها أو بغير رضاها، وان كان فی حال المرض فان كان برضاها لا ترث بالاجماع، وان كان بغير رضاها فانها ترث من زوجها عندنا‘‘

ترجمہ: اسی میں سے موت کے وقت وراثت کے احکام ہیں اور خلاصہ کلام یہ ہے کہ معتدہ یا تو طلاقِ رجعی کی عدت میں ہوگی یا طلاقِ بائن یا تین طلاق کی عدت میں ہوگی، اور جس حالت میں طلاق دی گئی وہ بھی دو حال سے خالی نہیں کہ یا تو حالتِ صحت میں طلاق دی ہوگی یا حالتِ مرض میں طلاق دی ہوگی۔ اگر عدت طلاقِ رجعی کی ہو اور میاں بیوی میں سے کوئی ایک عدت ختم ہونے سے پہلے انتقال کر جائے، تو دوسرا بلا اختلاف اس کا وارث بنے گا، خواہ طلاق حالتِ مرض میں دی تھی یا حالتِ صحت میں ۔ ۔۔۔۔ اور اگر طلاقِ بائن یا تین طلاق کی عدت میں ہو، تو اگر یہ طلاق حالتِ صحت میں دی تھی، تو اس صورت میں میاں بیوی میں سے کسی ایک کے انتقال سے دوسرا اُس کا وارث نہیں بنے گا، خواہ طلاق عورت کی رضا مندی سے تھی یا بغیر رضا مندی، اور اگر مرضِ (موت) کی حالت میں طلاق دی تھی، تو اگر عورت کی رضامندی سے دی تھی، تو وہ بالاجماع وارث نہیں بنے گی اور اگر عورت کی رضامندی کے بغیر دی تھی، تو ہمارے نزدیک وہ اپنے شوہر کی وارث بنے گی (ملتقطاً) ۔‘‘ (بدائع الصنائع، کتاب الطلاق، جلد 4، صفحہ 496، ملتقطاً، دار الکتب العلمیہ، بیروت)

کنز الدقائق میں ہے: ’’طلقھا رجعیاً أو بائناً فی مرض موتہ ومات فی عدتھا ورثت وبعدھا لا وان أبانھا بأمرھا أو اختلعت منہ أو اختارت نفسھا بتفویضہ لم ترث‘‘ ترجمہ: (شوہر نے) بیوی کو طلاق رجعی دی یا اپنے مرضِ موت میں بائن طلاق دی اور عورت کی عدت کے دوران انتقال کر گیا، تو عورت (اس کی) وارث ہوگی اور اگر عدت کے بعد انتقال ہوا تو وارث نہیں، اور اگر عورت کے کہنے سے اسے بائنہ کیا یا عورت نے شوہر سے خلع لی یا اسے طلاق تفویض کی تھی اور اس نے اپنے نفس کو اختیار کیا تو وارث نہیں ہوگی۔‘‘

اس کے تحت البحر الرائق میں ہے: ’’أراد به المرض الذی اتصل به الموت لأن حقها لا يتعلق بماله الا به فلو طلقها فی مرضه ثم صح ثم مات، وھی فی العدة لا ترث منه كما سيأتی، ولو طلقها فی مرضه ثم قتل أو مات من غير ذلك المرض غير أنه لم يبرأ فلها الميراث لأنه قد اتصل الموت بمرضه كذا فی الظهيرية‘‘ ترجمہ: مصنف نے اس سے ایسا مرضِ (موت) مراد لیا ہے جس سے موت متصل ہو، کیونکہ اِسی سے عورت کا حق اُس کے مال سے متعلق ہوتا ہے، تو اگر مرضِ موت میں طلاق دی، پھر تندرست ہو گیا، پھر انتقال ہوا اور عورت عدت میں ہو، تو وہ اس شخص کی وارث نہیں ہوگی، جیسا کہ عنقریب آئے گا، اور اگر مرضِ موت میں طلاق دی، پھر قتل کیا گیا یا اس بیماری کے علاوہ کسی اور سبب سے انتقال ہوا، مگر اس بیماری سے شفا بھی نہیں ہوئی تھی، تو عورت وارث بنے گی، کیونکہ موت اس کے مرض سے متصل ہوگئی، اسی طرح ظہیریہ میں ہے۔ (البحر الرائق، کتاب الطلاق، باب طلاق المریض، جلد 4، صفحہ 70-71، کوئٹہ)

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جد الممتار میں فرماتے ہیں: ’’واعلم أن الصور ثمان، لأن الطلاق فی المرض أو الصحۃ رجعی أو بائن، وموتہ فی العدۃ أو بعدھا، فلو بعدھا لم ترث مطلقاً، ولو فیھا ترث فی الرجعی مطلقاً، وفی البائن لو فی المرض، وإلا لا‘‘ ترجمہ: جان لو کہ صورتیں آٹھ ہیں، کیونکہ طلاق مرضِ موت یا تندرستی کی حالت میں رجعی دی ہو گی یا بائن، اور انتقال عدت میں ہوا ہو گا یا بعد میں، تو اگر انتقال عدت کے بعد ہو تو عورت مطلقاً وارث نہیں ہوگی، اور اگر عدت کے اندر فوت ہو تو طلاق رجعی میں عورت مطلقاً وارث ہوگی، اور طلاق بائن اگر مرض موت میں دی تھی تو وارث ہوگی ورنہ وارث نہیں ہوگی۔ (جد الممتار علی رد المحتار، جلد 5، صفحہ 143، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے: ’’عورت کو طلاق رجعی دی اور عدت کے اندر مر گیا، تو مطلقاً عورت وارث ہے صحت میں طلاق دی ہو یا مرض میں، عورت کی رضامندی سے دی ہو یا بغیر رضا۔۔۔۔۔ اگر مرض الموت میں عورت کو بائن طلاق دی ایک دی ہو یا زیادہ اور اسی مرض میں عدت کے اندر مر گیا خواہ اُسی مرض سے مرا یا کسی اور سبب سے مثلاً قتل کر ڈالا گیا، تو عورت وارث ہے، جبکہ با ختیار خود اور عورت کی بغیر رضا مندی کے طلاق دی ہو ۔۔۔۔اور اگر عدت گزرنے کے بعد مرایا اُس مرض سے اچھا ہو گيا، پھر مر گیا خواہ اُسی مرض میں پھر مبتلا ہو کر مرا یا کسی اور سبب سے یا طلاق دینے پر مجبور کیا گیا یعنی مار ڈالنے یا عضو کاٹنے کی صحیح دھمکی دی گئی ہو یا عورت کی رضا سے طلاق دی تو وارث نہ ہوگی۔‘‘ (ملتقطاً از بھار شریعت، جلد 2، صفحہ 163، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

تنبیہ: مرضِ موت سے مراد ایسی بیماری ہے جس میں اس بات کا اندیشہ غالب و قوی ہو کہ یہ مریض اب زندہ نہیں رہ سکے گا اور پھر اسی غالب اندیشۂ موت کی حالت میں انتقال ہو جائے، اگرچہ کسی اور سبب سے مرے، لیکن اگر مرض میں کمی ہو کر اندیشہ موت غالب نہ رہا یا مرض ایک سال پرانا ہو کر ایک حالت پر قائم ہو گیا کہ اس عرصہ میں بیماری میں شدت نہ ہوئی تو اب وہ مرض موت نہ رہا اگرچہ اسی مرض سے انتقال ہو۔ ہاں اگر دوبارہ مرض نے شدت اختیار کی کہ پھر سے ہلاکت و موت کا اندیشہ غالب ہو گیا، تو اگرچہ بیماری کی طوالت کے بعد ایسا ہو، تب بھی یہ مرض، مرضِ موت شمار ہوگا۔

سیدی اعلیٰ حضرت امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فتاویٰ رضویہ میں کسی بیماری کے مرضِ موت ہونے سے متعلق جامع کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’شرعاً کسی مرض کے مرض الموت ہونے کے لئے دوباتیں درکارہیں کہ وہ دونوں جمع ہوں تو مرض الموت ہے اور ان میں ایک بھی کم ہو تو نہیں۔ (1) اس مرض میں خوف ہلاک و اندیشہ موت قوت وغلبہ کے ساتھ ہو، اگراصلاً خوف موت نہیں یا ہے تو ضعیف و مغلوب ہے، تو مرض موت نہیں، اگرچہ اتفاقاً موت واقع ہو جائے۔ (2) اس غلبہ خوف کی حالت میں اس کے ساتھ موت متصل ہو، اگرچہ اس مرض سے نہ مرے موت کا سبب کوئی اور ہو جائے، مثلاً زید کو ہیضہ یا طاعون ہو اور ابھی اسے انحطاط کافی نہ ہوا تھا خوف ہلاک غالب تھا کہ سانپ نے کاٹا مر گیا یا کسی نے قتل کر دیا، تو اس مرض میں جو تصرفات کئے وہ مرض الموت میں تھے، اگرچہ موت اس مرض سے نہ ہوئی اور اگر انحطاط کافی ہو گیا تھا کہ غلبہ خوف ہلاک جاتا رہا اور اب اتفاقاً اسی مرض خواہ دوسرے سبب سے مر گیا، تو وہ تصرفات مرض کے نہ تھے اگرچہ حال اشتداد ہی میں کئے ہوں کہ انحطاط مرض و زوال خوف نے اسے مرض الموت نہ رکھا یوں ہی اگر بحال انحطاط و عدم خوف تصرفات کئے اور ان کے بعد پھر اشتداد ہو کر خوف غالب اور ہلاک واقع ہوا، تو یہ تصرفات حالت مرض کے نہ ہوں گے کہ بحال غلبہ خوف نہ تھے، اگرچہ ان سے قبل وبعد غلبہ تھا۔“

رد المحتار میں ہے: ”فی نورالعین، قال ابواللیث کونہ صاحب فراش لیس بشرط لکونہ مریضا مرض الموت بل العبرۃ للغلبۃ والغالب من ھذا المرض فھو مرض الموت وان کان یخرج من البیت وبہ کان یفتی الصدر الشھید ثم نقل عن صاحب المحیط انہ ذکر محمد رضی اللہ تعالٰی عنہ فی الاصل مسائل تدل ان الشرط خوف الھلاک غالبا لاکونہ صاحب فراش اھ ۔“ نورالعین میں ہے: ابواللیث نے کہا کہ مریض کا صاحب فراش ہونا اس کے مرض الموت کے مریض ہونے کے لئے شرط نہیں، بلکہ اعتبار غلبہ کا ہے، اور اس کا بیماری سے غالب گمان موت کا ہو، تو وہ مرض الموت ہوگی، اگرچہ وہ گھر سے نکلتا ہو، اور اسی کے ساتھ صدر الشہید فتوی دیتے تھے۔ پھر صاحب محیط سے منقول ہے کہ بیشک امام محمد رضی اﷲ تعالیٰ عنہ نے اصل میں کچھ ایسے مسائل ذکر فرمائے ہیں، جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں اس بیماری میں ہلاکت کے خوف کا غالب ہونا شرط ہے، نہ کہ مریض کا صاحب فراش ہونا اھ (ت)

تبیین الحقائق میں ہے: ”ان صار صاحب فرش بعد التطاول فھو کمرض حادث حتی تعتبر تصرفاتہ من الثلث اھ۔“ اگر وہ بیماری کے لمبا ہونے کے بعد صاحب فراش ہوا، تو وہ نوپید بیماری مثل ہے، یہاں تک کہ تہائی مال میں اس کے تصرفات معتبرہوں گے اھ (ت)

رد المحتار میں ہے: ”حاصلہ انہ ان صار قدیما بان تطاول سنۃ ولم یحصل فیہ ازدیاد فھو صحیح، اما لو مات حالۃ الازدیاد الواقع قبل التطاول او بعدہ فھو مریض“ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اگر بیماری پرانی ہو گئی بایں صورت کہ سال کومحیط ہو گئی اور اس میں بیماری کی شدت حاصل نہیں ہوئی، تو وہ صحت مند ہوگا۔ لیکن اگر وہ بیماری کی شدت کی حالت میں مرگیا، چاہے وہ شدت بیماری کی طوالت سے پہلے واقع ہوئی یا اس کے بعد تو وہ مریض قرارپائے گا۔ (ت)

در مختار میں ہے: ”مات فیہ بذٰلک السبب او بغیرہ کان یقتل المریض او یموت لجھۃ اخری“ وہ اس بیماری میں مرا اسی بیماری کے سبب سے یا کسی اور سبب سے، مثلاً: اس مریض کو قتل کر دیا وہ کسی اور وجہ سے مر جائے۔ (ت) (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 459، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بہار شریعت میں طلاقِ مریض کے بیان میں ہے:  ’’مریض سے مراد وہ شخص ہے جس کی نسبت غالب گمان ہو کہ اس مرض سے ہلاک ہو جائے گا کہ مرض نے اُسے اتنا لاغر کر دیا ہے کہ گھر سے باہر کے کام کے ليے نہیں جا سکتا، مثلاً: نماز کے ليے مسجد کو نہ جا سکتا ہو یا تاجر اپنی دوکان تک نہ جاسکتا ہو اور یہ اکثر کے لحاظ سے ہے، ورنہ اصل حکم یہ ہے کہ اُس مرض میں غالب گمان موت ہو اگرچہ ابتداءً جبکہ شدت نہ ہوئی ہو باہر جا سکتا ہو، مثلاً: ہیضہ وغیرہا امراض مہلکہ میں بعض لوگ گھر سے باہر کے بھی کام کر لیتے ہیں مگر ایسے امراض میں غالب گمان ہلاکت ہے۔ یوہیں یہاں مریض کے ليے صاحب فراش ہونا بھی ضروری نہیں اور امراض مزمنہ مثلاً سِلْ، فالج اگر روز بروز زیادتی پر ہوں تو یہ بھی مرض الموت ہیں اور اگر ایک حالت پر قائم ہوگئے اور پُرانے ہو گئے یعنی ایک سال کا زمانہ گزر گیا تو اب اُس شخص کے تصرفات تندرست کی مثل نافذ ہونگے۔‘‘ (بھار شریعت، جلد 2، صفحہ 162، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Kan-19104
تاریخ اجراء: 15 محرم الحرام 1448ھ/01 جولائی 2026ء