logo logo
AI Search

قرض دی ہوئی رقم میں ورثاء کا حق ہوتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مرحوم کی قرض دی ہوئی رقم میں وراثت کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے بکر کو اپنی زمین بیچ کر رقم بطور قرض دی اور بکر سے کہا کہ جب تمہاری زمین بِک جائے تو میری رقم لوٹا دینا، بکر کے قرض لوٹانے سے پہلے زید کا انتقال ہوگیا، پھر بعد میں اس کے ایک بیٹے کا بھی انتقال ہو گیا، اس نے اپنے پیچھے بیٹے، بیٹی، بیوی اور والدہ چھوڑیں۔ اور بعد میں والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ شرعی رہنمائی فرمائیں کہ بکر کے قرض لوٹانے پر زید کے مرحوم بیٹے کے بیوی بچوں کا اس رقم میں سے حصہ بنے گا یا نہیں؟

جواب

صورت مسئولہ میں بکر کے قرض لوٹانے پر زید کی وفات کے وقت جو ورثا زندہ تھے، ان سب کا اس میں حصہ ہے، اب اگر بعد میں کوئی وارث فوت ہوگیا تو اس کا حصہ اس کے ورثا کو شرعی حصوں کے مطابق دیا جائے گا۔ لہذا صورت مسئولہ میں زید کے انتقال کے وقت جو بیٹا زندہ تھا، اس کا حصہ دیگرمال وراثت کے ساتھ ساتھ قرض والے مال میں ثابت ہوا اور اس کے انتقال کے وقت جو اس کے ورثا تھے یعنی بیوی، بچے اور والدہ۔ ان کا اس سارے مال وراثت میں (قرض اور اس کے علاوہ میں) حصہ ثابت ہوا۔ اور والدہ کے حصے میں جومال آیا، اس کے انتقال کے وقت جوورثازندہ تھے، اس کا حصہ، اس کے ورثا میں تقسیم ہوگا۔

اس لیے کہ قاعدہ یہ ہے کہ کسی شخص کے فوت ہونے کے وقت اس کے جو ورثا زندہ ہوں،وہ اپنے مورث کے ترکہ میں سے حصہ پاتے ہیں، اور اگر ان ورثا میں سے کوئی وارث اپنے حصے پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی فوت ہو جائے تو اس کا حصہ، اس کی موت کے وقت جو اس کے ورثازندہ ہوں، ان کی طرف منتقل ہو جاتا ہے، اگرچہ بعدمیں ان میں سے بھی کوئی ایک یاسب وفات پاجائیں۔ پھر ان فوت ہونے والوں کے ورثامیں بھی اوپرذکر کردہ تفصیل کے مطابق حصے کی منتقلی ہوگی۔

رد المحتار میں ہے ”و شروطه ثلاثة: موت مورث ۔ ۔ ۔ و وجود و ارثه عند موته حيا حقيقة أو تقديرا كالحمل والعلم بجهة إرثه“ ترجمہ: میراث کی تین شرطیں ہیں (1) مورث کا مرنا (2) مورث کی موت کے وقت وارث کا زندہ موجود ہونا، چاہے حقیقی طور پر ہو یا تقدیری طور پر جیسے حمل (3) جہت میراث کا علم ہونا۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الفرائض، ج 10، ص 525، کوئٹہ)

رد المحتار میں ہے ”المناسخة: هي مفاعلة من النسخ بمعنى النقل والتحويل والمراد بها هنا أن ينتقل نصيب بعض الورثة بموته قبل القسمة إلى من يرث منه“ ترجمہ: مناسخہ، یہ نسخ سے باب مفاعلہ کے وزن پر منتقل اور تحویل ہونے کے معنی میں ہے اور اس سے مراد یہاں یہ ہے کہ ترکہ تقسیم ہونے سے پہلے بعض ورثا کی وفات کی وجہ سے ان کا حصہ ان کے ورثا کی طرف منتقل ہو جائے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الفرائض، فصل فی المناسخۃ، ج 10، ص 589، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے بعد موت مادرزندہ تھااگرچہ ایک آن بعد مر گیا تو یہ چھ سہام بحالت حیات خود اسے، ورنہ بحسب احکام فرائض اس کی زوجہ وغیرہ ان کے ورثہ کو کہ اس کی موت کے وقت زندہ تھے، اگرچہ اب مرچکے ہوں، دے دئیے جائیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 26، ص 101، رضا فاونڈیشن، لاہور)

دین میں وراثت جاری ہونے کے حوالے سے فتاوی رضویہ کایہ جزئیہ ملاحظہ فرمائیے! مہرجبکہ کُل یابعض ذمہ شوہر واجب الادا ہو اور عورت بے ابراو معافی معتبرشرعی مرجائے تووہ مثل دیگر دیون و اموال متروکہ زن ہوتا ہے اگر شوہر بعد کو زندہ رہے تووہ خود بھی اس سے اپنا حصۂ شرعی حسب شرائط مقررئہ علم فرائض پاتاہے جبکہ عورت کاترکہ قابل تقسیم ورثہ ہو۔ (فتاوی رضویہ، ج 26، ص 167، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-576
تاریخ اجراء: 05 ربیع الثانی 1444ھ / 31 اکتوبر 2022ء