logo logo
AI Search

کیا تجہیز و تکفین کا خرچ ترکے سے واپس لیا جا سکتا ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحیم

وفات پر خرچ کی گئی رقم واپس لینا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بیٹے نے اگر والد کی وفات پر اپنی طرف سے تجہیز و تکفین وغیرہ رقم خرچ کردی تو کیا ترکہ سے لے سکتا ہے؟

جواب

وارث نے اگر اپنی ذاتی رقم سے سنت طریقے کے مطابق میت کی تجہیز و تکفین پر خرچ کیا، تو شریعت ِ مطہرہ نے اس وارث کو میت کے ترکے سے وہ مال واپس لینے کا اختیار دیا ہے اگرچہ یہ مال واپس لینا طے نہ ہوا ہو لہٰذا پوچھی گئی صورت میں جس بیٹے نے میت کی تجہیز و تکفین میں اپنی جیب سے مال خرچ کیا اسے وراثت سے خرچ شدہ مال واپس لینے کا اختیار حاصل ہے ۔

وارث نے اگر اپنے ذاتی مال سے بطریقِ سنت کفن دیا تو اسے ترکہ سے لینے کا اختیار حاصل ہے جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: ”کفن الوارث المیت او قضی دینہ(من مال نفسہ) فانہ یرجع ولا یکون متطوعا“ ترجمہ:وارث نے میت کو کفن دیا یا اس کا قرض اتار دیا اپنے مال سے تو اسے ترکے میں رجوع کا اختیار حاصل ہوگا کہ وہ تبرعاً خرچ کرنے والا نہیں کہلائے گا۔( تنویر الابصار مع الدر المختار، کتاب الوصایا، جلد10، صفحہ434، دار الکتب العلمیۃ)

امامِ اہلسنت شاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ نے اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا : ’’ اگر کفن ودفن بطریق سنت اس نے اپنے مالِ خاص سے کیا ہو توبیشک بقدرِقیمت کفن وخرچ قبرترکہ سے واپس لے سکتی ہے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ،جلد26، صفحہ125،رضا فاؤنڈیشن ، لاھور)

بہارِ شریعت میں ہے: ”ورثہ میں سے کسی نے میت کو کفن دیا اگر ویسا ہی کفن ہے جیسا دینا چاہیے توترکہ میں سے اُس کا صرفہ(خرچہ)لے سکتا ہے اور اُس سے بیش (زیادہ)ہے تو جو کچھ زیادتی ہے وہ نہیں ملے گی۔“ (بہارِ شریعت، جلد 02، صفحہ813، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: خرچہ لینے کا مطلب یہ ہے کہ میت کے کفن دفن پر جو خرچہ ہوا صرف وہ لے سکتا ہے اس کے علاوہ جو تیجہ اور جو مہمان آتے ہیں ان کو کھانا کھلانے کا خر چہ وغیرہ اس میں شامل نہیں ۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا سید مسعود علی عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2477

تاریخ اجرا: 28صفرالمظفر1447ھ/23اگست2025ء