وارث کے لئے وصیت کرنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
وارث کے لئے وصیت کرنے کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا وارث کے حق میں وصیت کی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں، تو کن شرائط پر؟
جواب
وارث کے لئے وصیت کرنا شرعاً معتبر نہیں، لہذا اگر کسی نے وارث کے حق میں وصیت کر دی، تو وہ نافذ نہیں کی جائے گی، ہاں اگر بقیہ ورثاء عاقل بالغ ہوں اور وہ اجازت دیدیں، تو نافذ کر دی جائے گی کہ اب بقیہ ورثاء نے اپنا حق خود ساقط کر دیا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص تنہا وارث بن رہا ہو، تو اس کے لئے وصیت کرنا درست ہے کہ اس میں غیر کی حق تلفی نہیں ہے۔
سنن ابن ماجہ میں ہے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’ان اللہ قسم لکل وارث نصیبہ من المیراث، فلا تجوز لوارث وصیۃ‘‘ ترجمہ: بے شک اللہ عزوجل نے ہر وارث کے لئے ترکے میں اس کا حصہ مقرر فرما دیا، پس وارث کے لئے وصیت کرنا، جائز نہیں ہے۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الوصایا، صفحہ 194، مطبوعہ کراچی)
سنن ابی داؤد، سنن دار قطنی و کنز العمال میں ہے: واللفظ للثانی: ’’لا وصیۃ لوارث الا ان یجیز الورثۃ‘‘ یعنی کسی وارث کے لئے وصیت نہیں مگر یہ کہ ورثاء اسے جائز کر دیں۔ (سنن دار قطنی، کتاب الوصایا، جلد 5، صفحہ 267، مطبوعہ بیروت)
بدائع الصنائع میں ہے: ’’(ومنها) ان لا يكون وارث الموصي وقت موت الموصي، فان كان لا تصح الوصية لما روي عن ابي قلابة رضي اللہ عنه ۔۔۔ ولانا لو جوزنا الوصية للورثة لكان للموصي ان يؤثر بعض الورثة وفيه ايذاء البعض وايحاشهم، فيؤدي الى قطع الرحم وانه حرام وما افضى الى الحرام، فهو حرام، ۔۔۔
لو اوصى لبعض ورثته، فاجاز الباقون جازت الوصية، لان امتناع الجواز كان لحقهم لما يلحقهم من الاذى والوحشة بايثار البعض ولا يوجد ذلك عند الاجازة‘‘ ترجمہ: وصیت درست ہونے کی شرائط میں سے ایک یہ ہے کہ موصٰی (جس کے لئے وصیت کی جا رہی ہے) وصیت کرنے والے کی موت کے وقت اس کا وارث نہ بنتا ہو، پس اگر ایسا ہوا، تو وصیت درست نہیں ہو گی، حضرت سیدنا ابی قلابہ رضی اللہ عنہ والی حدیث کی وجہ سے (پھر ذکر کردہ پہلی حدیث نقل فرمائی)، ۔۔۔ اور اس وجہ سے بھی کہ اگر ہم وارث کے لئے وصیت کو جائز قرار دیں، تو وصیت کرنے والے کو اختیار ہو گا کہ وہ بعض ورثاء کو ترجیح دے، حالانکہ اس میں بقیہ بعض کو ایذاء دینا اور محروم کرنا ہے اور یہ معاملہ قطع رحمی کی طرف لے جانے والا ہے، جبکہ قطع رحمی حرام ہے اور حرام کی طرف لے جانے والی چیز بھی حرام ہوتی ہے،
اگر کسی نے بعض ورثاء کے لئے وصیت کی اور بقیہ نے اسے جائز کر دیا، تو یہ وصیت درست ہو گی، کیونکہ اس کا ناجائز ہونا ورثاء کے حق کی وجہ سے تھا، کہ بعض کو ترجیح دینا دیگر کے لئے ایذاء و محرومی کا سبب تھا اور (عدمِ جواز کی) یہ وجہ ورثاء کی اجازت کے وقت نہیں پائی جائے گی۔ (بدائع الصنائع، کتاب الوصایا، جلد 6، صفحہ 433 تا 434، مطبوعہ کوئٹہ)
در مختار میں ہے: ’’(لا لوارثہ۔۔ الا باجازۃ ورثتہ) لقولہ علیہ الصلوۃ والسلام: لا وصیۃ لوارث الا ان یجیزھا الورثۃ یعنی عند وجود وارث آخر کما یفیدہ آخر الحدیث وسنحققہ (وھم کبار۔۔ او لم یکن لہ وارث سواہ) کما فی الخانیۃ ای سوی الموصی لہ القاتل او الوارث، حتی لو اوصی لزوجتہ او ھی لہ لم یکن ثمۃ وارث آخر تصح الوصیۃ‘‘ ترجمہ: بالغ ورثاء کی اجازت کے بغیر وارث کے لئے وصیت جائز نہیں ہے، حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے فرمان کی وجہ سے کہ وارث کے لئے وصیت جائز نہیں، مگر یہ کہ ورثاء اسے جائز کر دیں، یعنی کسی اور وارث کی موجودگی میں (وصیت جائز نہیں ہے) جیسا کہ حدیث کے آخر سے مستفاد ہے اور عنقریب اسے ہم ثابت کریں گے، ۔۔ یا پھر اس وارث کے علاوہ کوئی اور وارث نہ ہو (تو اس کے حق میں وصیت جائز ہے) جیسا کہ خانیہ میں ہے، اب چاہے موصی لہ اپنے موصی کا قاتل ہو یا اس کا وارث، حتی کہ اگر کسی نے اپنی زوجہ کے لئے وصیت کی یا زوجہ نے اپنے شوہر کے لئے اور وہاں کوئی اور وارث نہیں، تو یہ وصیت درست ہے۔ (در مختار، کتاب الوصایا، جلد 10، صفحہ 365 تا 366، مطبوعہ پشاور)
فتاوی رضویہ میں ہے: ’’رہی وصیتِ وارث وہ بے اجازت ورثہ مطلقاً نافذ نہیں اور اگر تنہا وہی وارث ہو تو اس کے لئے وصیت صحیح ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 626، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد علی عطاری مدنی
فتوی نمبر: Pin-6668
تاریخ اجراء: 20 جمادی الثانی 1442ھ/03 فروری 2021ء