Aurat Ke Sar Se Juda Hone Wale Balon Ka Hukum
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عورتوں کے سر سے اترنے والے بالوں کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عورتوں کے کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال سر سے جُدا ہو جائیں، ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کا کیا حکم ہے؟
جواب
عورتوں کے کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال سر سے جُدا ہو جائیں، ان کے بارے میں شریعت مطہرہ کا حکم یہ ہے کہ عورت ان بالوں کو چھپا دے یا دفن کر دے تاکہ ان پر کسی اجنبی (غیر محرم) کی نظر نہ پڑے، کیونکہ عورت کے بال ستر میں داخل ہیں، جس کی طرف نظر کرنا، ناجائز ہے اور جس عضو کی طرف نظر کرنا، ناجائز ہو، اس کے بدن سے جدا ہونے کے بعد بھی انہیں دیکھنا، جائز نہیں۔
عورت کے زینت والے اعضاء کو ظاہر نہ کرنے کے متعلق اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتا ہے: ﴿وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ﴾ترجمہ کنزالعرفان: اور اپنی زینت نہ دکھائیں۔ (القرآن الکریم ، پارہ 18، سورۃ النور، آیت 31)
مذکورہ آیت کے تحت امام ابو البرکات عبد اللہ بن احمد نَسَفِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 710ھ/1310ء) لکھتے ہیں:
”والمعنى ولا يظهرن مواضع الزينة۔۔۔ ومواضعها الراس والاذن والعنق والصدور والعضدان والذراع والساق“
یعنی آیت کا معنی یہ ہے کہ مسلمان عورتیں اپنے بدن کے ان اعضاء کو ظاہر نہ کریں جہاں زینت کرتی ہیں جیسے سر، کان، گردن، سینہ، بازو، کہنیاں، اور پنڈلیاں۔ (تفسیر نسفی، جلد 2، صفحہ 500، مطبوعہ دارالکلم الطیب، بیروت)
عورت کا تمام بدن عورت یعنی چھپانے کی چیز ہے، جیسا کہ علامہ ملّا احمد جیون رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1130ھ/1718ء)لکھتے ہیں:
”کل بدن الحرۃ عورۃ لایحل لغیر الزوج والمحرم النظر الی شی منھا الا للضرورۃ“
ترجمہ: آزاد عورت کا تمام بدن عورت یعنی چھپانے کی چیز ہے، شوہر اور محرم کے سوا کسی اور کے لئے اس کے کسی حصہ کو بےضرورت دیکھنا جائز نہیں۔ (تفسیرات احمدیہ، صفحہ 562، مطبوعہ کوئٹہ)
حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا: ”المراة عورة فاذا خرجت استشرفها الشيطان“ ترجمہ: عورت چھپانے کی چیز ہے، جب نکلتی ہے، شیطان اس کی طرف جھانکتا ہے۔ (سنن ترمذی، جلد 2، صفحہ 463، مطبوعہ دار الغرب الإسلامی، بيروت)
عورت کے بال ستر میں داخل ہیں، جس کی طرف نظر کرنا، ناجائز ہے، جیسا کہ موسوعہ فقہیہ کویتیہ میں ہے:
”اتفق الفقهاء على عدم جواز النظر إلى شعر المراة الاجنبية كما لا يجوز لها ابداوه للاجانب عنها“
یعنی فقہائے کرام کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اجنبیہ عورت کے بالوں کی طرف نظر کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ عورت کا اپنے بالوں کو اجنبی مَردوں کے لیے ظاہر کرنا جائز نہیں ہے۔ (الموسوعة الفقهية الكويتية، جلد 26، صفحہ 107، مطبوعہ دار السلاسل، کویت)
اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”عورت کے بال عورت(یعنی چھپانے کی چیز) ہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 7، صفحہ 298، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
جس عضو کی طرف نظر کرنا، ناجائز ہو، اس کے بدن سے جدا ہونے کے بعد بھی انہیں دیکھنا، جائز نہیں، جیسا کہ علامہ شیخی زادہ رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1078ھ/1667ء) لکھتے ہیں:
”كل عضو لا يجوز النظر اليه قبل الانفصال لا يجوز بعده وهو الاصح كشعر راسها“
ترجمہ: ہر وہ عضو جس کی طرف جدا ہونے سے پہلے نظر کرنا جائز نہیں، تو جدا ہونے کے بعد بھی اس کی طرف نظر کرنا جائز نہیں ہے اور یہی اصح قول ہے، جیسا کہ عورت کے سر کے بال۔ (مجمع الانھر، جلد 2، صفحہ 539، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی)
علامہ علاؤالدین حَصْکَفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں:
”كل عضو لا يجوز النظر اليه قبل الانفصال لا يجوز بعده كشعر عانته وشعر راسها“
ترجمہ: ہر وہ عضو جس کی طرف جدا ہونے سے پہلے نظر کرنا جائز نہیں، تو جدا ہونے کے بعد بھی اس کی طرف نظر کرنا جائز نہیں ہے، جیسا کہ موئے زیر ناف اور عورت کے سر کے بال۔ (حاشیۃ ابن عابدین، جلد 2، صفحہ 100، مطبوعہ کوئٹہ)
عورتوں کے کنگھا کرنے یا سر دھونے میں جو بال سر سے جُدا ہو جائیں، تو عورت ان بالوں کو چھپا دے یا دفن کر دے، جیسا کہ علامہ ابن نجیم مصری حنفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں:
”يدفن اربعة الظفر والشعر وخرقة الحيض والدم“
ترجمہ: چار چیزوں کو دفن کیا جائے: ناخن، بال، حیض آلود کپڑے کا ٹکڑا اور خون۔ (بحر الرائق، کتاب الزکوٰۃ، جلد 8، صفحہ 233، مطبوعہ دار الکتاب الاسلامی)
بہار شریعت میں ہے: ”عورتوں کو بھی لازم ہے کہ کنگھا کرنے میں یا سر دھونے میں جو بال نکلیں انہیں کہیں چھپا دیں کہ ان پر اجنبی کی نظر نہ پڑے۔“ (بہار شریعت، جلد 03، صفحہ 448، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0226
تاریخ اجراء: 24 ربيع الآخر 1445ھ/09 نومبر 2023ء