logo logo
AI Search

Haiz Wali Aurat Wuzu Karke Soye to Kya Usay Sawab Milega?

حیض والی عورت وضو کر کے سوئے تو اسے ثواب ملے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلے میں کہ ایک اسلامی بہن کی عادت ہے کہ وہ وضو کرکے سوتی ہیں، لیکن حیض کے دنوں میں چونکہ پاک نہیں ہوتیں تو وہ وضو نہیں کرتیں، اگر وہ حیض کے دنوں میں بھی سونے سے قبل وضو کرلیا کریں، تو کیا ثواب حاصل ہو گا یا حیض کی وجہ سے یہ عمل بے فائدہ ہے؟

جواب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

جس اسلامی بہن کی سونے سے قبل وضو کرنے کی عادت ہو، وہ حیض کے ایام میں سونے سے پہلے اس عادت کو برقرار رکھنے کے لیے وضو کرتی ہے تو یہ بہت عمدہ و مستحب عمل ہے اور اللہ کے فضل سے اجر و ثواب کی امید ہے۔

تفصیل یہ ہے کہ فقہائے کرام نے بیان فرمایا ہے: حیض والی کے لیے مستحب ہے کہ پنج گانہ نمازوں کے وقت بلکہ اگر وہ نوافل مثلاً: تہجد و چاشت کی عادی ہے، تو ان وقتوں میں بھی وضو کرکے مصلے پر بیٹھ کر  ذکرکرے، تاکہ اس کی مذکورہ عبادات کی عادت برقرار رہے یعنی ان عبادات کے اوقات میں متوجہ الی اللہ ہونے اور ذکر خدا کرنے کا معمول کلیتاً ترک نہ ہو، بلکہ من وجہٍ اِس کا اہتمام جاری رہے۔ حائضہ کا یہ عمل مستحب اور باعثِ  اجر و ثواب ہے۔ یہی معاملہ سونے سے پہلے وضو کرنے کا ہے کہ سونے سے قبل وضو کرنا عبادت ہے اور ایامِ حیض میں وضو اگرچہ حصولِ طہارت کا فائدہ نہ دینے کی وجہ سے عمومی وضو نہیں ہے لیکن ایامِ حیض کے علاوہ میں جو مستحب وضو ہے، یہ اس کی عادت برقرار رکھنے کی صورت ہے، لہذا حیض والی اگر اس عبادت کی عادت برقرار رکھنے کی غرض سے حیض کے دنوں  میں بھی سونے سے پہلے وضو کرتی ہے، تو اللہ کے فضل سے اسے ثواب حاصل ہوگا۔

باوضو سونا مستحب ہے، اس کے متعلق صحىح بخاری شریف میں ہے:

عن البراء بن عازب، قال: قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: إذا أتيت مضجعك، فتوضأ وضوءك للصلاة، ثم اضطجع على شقك الأيمن، ثم قل: اللهم أسلمت وجهي إليك، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، رغبة ورهبة إليك، لا ملجأ ولا منجا منك إلا إليك، اللهم آمنت بكتابك الذي أنزلت، وبنبيك الذي أرسلت، فإن مت من ليلتك، فأنت على  الفطرة، واجعلهن آخر ما تتكلم به

ترجمہ: حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنے بستر پر جاؤ  تو نماز  کے جیسا وضو کرو پھر اپنی سیدھی کروٹ پر لیٹ جاؤ، پھر کہو

اللّٰهُمَّ أَسْلَمْتُ وَجْهِي إِلَيْكَ، وَفَوَّضْتُ أَمْرِي إِلَيْكَ، وَأَلْجَأْتُ ظَهْرِي إِلَيْكَ، رَغْبَةً وَرَهْبَةً إِلَيْكَ، لاَ مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ، اللّٰهُمَّ آمَنْتُ بِكِتَابِكَ الَّذِي أَنْزَلْتَ، وَبِنَبِيِّكَ الَّذِي أَرْسَلْتَ

تو اگر تمہارا اسی رات انتقال ہوگیا تو تم فطرت پر مروگے اور ان کلمات کو اپنا آخری کلام بناؤ۔ (صحیح البخاری، ج 01، ص 58، دار طوق النجاۃ)

بلکہ نماز و تلاوت وغیرہ کے معمول کو برقرار رکھنے کے لیے جو وضو کیا جاتا ہے اس سے بڑھ کر سونے سے قبل وضو کرنا احادیث سے ثابت ہے کیونکہ جنبی کے لیے تو صریح حدیث ہے کہ وہ سونے سے پہلے وضو کرلے اور یہ بات واضح ہے کہ جنبی کے فقہی احکام پاکی و ناپاکی کے اعتبار سے حیض والی کے مشابہ ہیں، پھر بھی اس کے  لیے حکم ہے کہ سوتے وقت  وضو کرلے، حالانکہ اس وضو سے وہ پاک نہ ہوگا، نہ اس سے نماز جائز ہوگی۔ اس کے متعلق حدیث پاک، صحیح ابن حبان میں ہے:

أن عمر بن الخطاب سأل رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أيرقد أحدنا و هو جنب فقال: صلى اللہ عليه و سلم: نعم إذا توضأ۔۔ عن عائشة أن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم كان إذا أراد أن ينام و هو جنب توضأ وضوءه للصلاة قبل أن ينام

ترجمہ: حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے سوال کیا: کیا ہم میں سے کوئی شخص جنابت کی حالت میں سو سکتا ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: جی ہاں، جب وہ وضو کر لے۔۔۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب جنابت کی حالت میں سونے کا ارادہ کرتے تو سونے سے پہلے نماز کے مثل وضو فرماتے۔ (صحیح ابن حبان ، ج 4، ص 16 تا 19، طبع بیروت)

علامہ شامی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

قال في النهر: قالوا بوضوء الحائض يصير مستعملا؛ لأنه يستحب لها الوضوء لكل فريضة و أن تجلس في مصلاها قدرها كي لا تنسى عادتها، و مقتضى كلامهم اختصاص ذلك بالفريضة، و ينبغي أنها لو توضأت لتهجد عادي أو صلاة ضحى و جلست في مصلاها أن يصير مستعملا، و لم أره لهم اهـ و أقره الرملي وغيره، و وجهه ظاهر فلذا جزم به الشارح، فأطلق العبادة تبعا لجامع الفتاوى

ترجمہ: نہر میں کہا: فقہاء نے فرمایا حیض والی کے وضو کرنے سے پانی مستعمل ہوجاتا ہے، کیونکہ اس کے لیے مستحب ہے کہ ہر فرض نماز کے وقت نماز کی قدر اپنے مصلے پر بیٹھے (اور ذکر کرے) تاکہ اپنی عادت نہ بھولے، اور فقہاء کے اس کلام کا تقاضا یہ ہے کہ یہ صرف فرض نمازوں کے ساتھ خاص ہے حالانکہ چاہیے کہ اگر وہ عادی تہجد یا چاشت کے لیے وضو کرے اور مصلے پر بیٹھے تو اس کےلیے وضو کرنے سے بھی پانی مستعمل ہوجائے، میں نےائمہ  کا اس بارے میں کلام ملاحظہ نہیں کیا۔ اور رملی وغیرہ نے نہر کے اس کلام کو برقرار رکھا، اور اس کی وجہ ظاہر ہے، اسی وجہ سے شارح نے اس پر جزم کیا اور عبادت کو جامع الفتاوی کی اتباع میں مطلق رکھا۔ (در مختار مع رد المحتار، ج 1، ص 198، دار الفکر، بیروت)

صاحب در مختار علامہ حصکفی نے اپنی عبارت میں عبادت کے لیے وضو کا جو حکم بیان کیا ہے، اس میں عبادت کی تخصیص نہیں کی کہ صرف فرض عبادت کے لیے وضو کا یہ حکم ہے، بلکہ عبادت کو مطلق رکھا کہ کسی بھی طرح کی عبادت کے لیے وضو کرنے کا یہی حکم ہوگا، لہٰذا سونے سے قبل وضو کرنا بھی اس میں شامل ہے کہ یہ سونےسے قبل وضو کرنا عبادت  ہے، جیسا کہ اوپر احادیث میں گزر چکا اور صرف عبادت نہیں بلکہ عبادت مقصودہ سے بہت قریبی مشابہت ہے۔ چنانچہ امام اہل سنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”عبادت غیر مقصودہ بالذات ہونے پر اتفاق سے یہ لازم نہیں کہ وہ وسیلہ ہی ہو کر جائز ہو بلکہ فی نفسہ بھی ایك نوع مقصودیت سے حظ رکھتا ہے ولہٰذا اجماع ہے کہ ہر وقت باوضو رہنا ہرحدث کے بعد معًا وضو کرنا مستحب ہے۔۔۔ صرف وسیلہ ہی ہوکر مشروع ہوتا تو ایك بار کوئی فعل مقصود کرلینے کے بعد بھی تجدید مکروہ ہی رہتی کہ پہلا وضو جب تك باقی ہے وسیلہ باقی ہے، تو دوبارہ کرنا تحصیل حاصل و بیکار و اسراف ہے۔۔۔ حل یہ ہے کہ جو وضو فرض ہے وہ وسیلہ ہے کہ شرط صحت یا جواز ہے اور شروط وسائل ہوتے ہیں مگر جو وضو مستحب ہے وہ صرف ترتبِ ثواب کے لیے مقرر فرمایا جاتا ہے تو قصد ذاتی سے خالی نہیں۔۔۔ ولہذا ہمارے ائمہ تصریح فرماتے ہیں کہ وضوئے بے نیت پر ثواب نہیں۔۔۔۔ اور مستحب پر ثواب ہے تو وضوئے مستحب محتاج نیت ہوا اور وسائل محضہ محتاج نیت نہیں ہوتے تو ثابت ہوا کہ وضوئے مستحب وسیلہ نہیں وھو المقصود والحمدلله الودود۔“ (فتاوی رضویہ، ج 1، حصہ 2، ص 944 تا 952، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب:مفتی محمد قاسم عطاری
فتوی نمبر:
HAB-0485
تاریخ اجراء:
21جمادی الاخری 1446ھ/24دسمبر2024ء