عبد الرفیع نام کا مطلب نیز یہ نام رکھنا کیسا؟
عبد الرفیع نام رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
عبد الرفیع نام رکھنا کیسا؟
جواب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
"رفیع" اللہ تبارک و تعالی کے اسمائے حسنی میں سے ایک نام ہے، یوں عبد الرفیع کا مفہوم ہوا "اللہ پاک کا بندہ" لہذا یہ نام رکھنا درست ہے۔
حضرت انس رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے اپنی حیات ظاہری میں جو آخری کلام فرمایا، وہ یہ تھا:
جلال ربی الرفیع فقد بلغت
یعنی میرے رفیع رب کے جلال کی قسم، بے شک میں نے تبلیغ کافریضہ سرانجام دے دیا۔(المستدرک علی الصحیحین، جلد 3، صفحہ 58، حدیث: 4387، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
علامہ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ فتح الباری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں:
و قد تتبعت ما بقي من الأسماء مما ورد في القرآن بصيغة الاسم مما لم يذكر في رواية الترمذي و هي الرب الإله المحيط القدير الكافي الشاكر الشديد القائم الحاكم الفاطر الغافر القاهر المولى النصير الغالب الخالق الرفيع
ترجمہ: اور میں نے ان باقی ناموں کا تتبّع کیا ہے جو قرآنِ کریم میں اسم کے صیغے کے ساتھ وارد ہوئے ہیں جن کا ذکر امام ترمذی کی روایت میں نہیں آیا۔ اور وہ یہ ہیں: الرَّب، الإلٰه، المحيط، القدير، الكافي، الشاكر، الشديد، القائم، الحاكم، الفاطر، الغافر، القاهر، المولى، النصير، الغالب، الخالق، الرفيع۔" (فتح الباری، جلد 11، صفحہ349، دار المعرفۃ، بیروت)
البتہ! بہتر یہ ہے کہ اولا بیٹے کا نام صرف "محمد" رکھیں کیونکہ حدیث پاک میں نام محمد رکھنے کی فضیلت اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہ ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے۔ اور پھر پکارنے کے لیے "عبد الرفیع" نام رکھ لیں۔
محمد نام رکھنے کی فضیلت:
کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة
ترجمہ:جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال،جلد 16،صفحہ 422، حدیث: 45223، مؤسسة الرسالة، بیروت)
رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے
قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب وإسناده حسن
ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمہ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر والاباحۃ،جلد 9، صفحہ 688، مطبوعہ کوئٹہ)
فتاوی رضویہ میں ہے ”بہتر یہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے اس کے ساتھ جان وغیرہ اور کوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہا انھیں اسمائے مبارَکہ کے وارِد ہوئے ہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24،صفحہ 691، رضا فاؤنڈیشن لاھور)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-4532
تاریخ اجراء: 20 جمادی الاخریٰ 1447ھ / 12 دسمبر 2025ء