logo logo
AI Search

نور ایمن یا نور ایمن فاطمہ نام رکھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچی کا نام نور ایمن یا نور ایمن فاطمہ رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

بچی کا نام نور ایمن یا نور ایمن فاطمہ رکھنے کا کیا حکم ہے ؟

جواب

نور کا مطلب ہے: روشنی۔ ایمن کا مطلب ہے: با برکت۔ اور فاطمہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پیاری بیٹی کا نام ہے۔ اس اعتبار سے نور ایمن یا نور ایمن فاطمہ نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی پیاری شہزادی، حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے نام پر فقط فاطمہ یا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کو دودھ پلانے اور آپ کی خدمت کرنے والی عظیم الشان صحابیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی کنیت پر فقط ام ایمن نام رکھ لیں، کہ بچی کا نام نیک خواتین مثلاً اُمّہات المؤمنین، صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہن اور اللہ پاک کی دیگر نیک بندیوں کے ناموں پر رکھنا بہتر ہے، کیونکہ حدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ نیک لوگوں کے نام پر نام رکھنے سے بچے یا بچی کو بھی ان مقدس ہستیوں سے برکت ملے گی۔

 فیروز اللغات میں ہے ”نور: روشنی۔“ (فیروز اللغات، صفحہ 1452، فیروز سنز، کراچی)

 فیروز اللغات میں ہے ”ایمن: ۔۔۔مبارک۔“ (فیروز اللغات، صفحہ 159، فیروز سنز، کراچی)

ایمن کے معنی اور حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے متعلق امام اہل سنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: ”مرضعہِ حضو ر اقد س صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کا نام برکت اور ام ایمن کنیت کہ یہ بھی یُمن و برکت و راستی و قوت، یہ اجلہ صحابیات سے ہوئیں رضی اللہ تعالٰی عنہن، سید عالم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم انہیں فرماتے: انت امی بعد امی۔ تم میری ماں کے بعد میری ماں ہو۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 30، صفحہ 296، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

دو ناموں کو ملا کر رکھنے کے متعلق فتاوی رضویہ میں ہے ” کنیز و نذر و خادم کے ساتھ نام رکھنے میں بھی حرج نہیں، زمانہ سلف میں رواج نہ ہونا مستلزم ممانعت نہیں دو دو تین تین ناموں پرمشتمل نام رکھنا جیسے محمد علی حسین اس کا بھی رواج سلف کبھی نہ تھا سادے ایک لفظ کے نام ہوتے تھے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 24، صفحہ 669، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

 صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4723
تاریخ اجراء: 18 شعبان المعظم 1447ھ/07 فروری 2026ء