دائم نام رکھنا اور دائم نام کا مطلب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دائم نام رکھنے کا حکم
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
دائم نام رکھنا کیسا ہے؟
جواب
دائم کا مجازی معنی: "ساکن(ٹھہرا ہوا)پابند وغیرہ " آتے ہیں، لہذا ان معانی کے لحاظ سے یہ نام رکھ سکتے ہیں۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام انبیائے کرام علیہم السلام، صحابہ کرام و اولیائے کرام علیہم الرضوان میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کےنام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے: ﴿الَّذِیْنَ هُمْ عَلٰى صَلَاتِهِمْ دَآىٕمُوْنَ﴾ ترجمہ کنز الایمان: جو اپنی نماز کے پابند ہیں۔ (پارہ 29، سورۃ المعارج، آیت 23)
تاج العروس میں ہے
”الدائم من دام الشيء يدوم إذا طال زمانه، أ و من دام الشيء إذا سكن، ومنه: الماء الدائم، والظل الدائم، وصفوهما بالمصدر، وهو مجاز. ومنه الحديث: " نهى أن يبال في الماء الدائم، ثم يتوضأ منه " وهو الماء الراكد الساكن“
ترجمہ: کسی کودائم اس وقت کہا جاتا ہے، جب وہ طویل مدت تک رہے۔، یا جب کوئی چیز ساکن ہو جائے۔اور اسی سے "الماء الدائم" (ٹھہرا ہوا پانی) اور "الظل الدائم" (ٹھہرا ہوا سایہ) کہا جاتا ہے، ان دونوں کو مصدر کے ساتھ موصوف کیا گیا ہے، اور یہ مجاز ہے، اور اسی سے حدیث ہے کہ: اس سے منع کیا گیا ہے کہ کوئی ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب کرے، پھر اس سے وضو کرے "اس سے مراد ساکن، رکا ہوا پانی ہے۔ (تاج العروس، ج 32، ص 180، دار الهداية)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد3 ، حصہ 15، صفحہ356 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4680
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1447 ھ/21 جنوری 2026ء