کیا بچی کا نام عمرہ (Amra) رکھنا درست ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
عمرہ نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا بچی کا نام عمرہ (Amra) رکھنا درست ہے؟
جواب
بچی کا نام عَمرہ (عین کے زبر کے ساتھ) رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے کہ یہ ایک صحابیہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نام ہے۔ اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچی کے شاملِ حال ہوگی۔
الطبقات الكبری میں ہے
أسلمت عَمرة بنت رواحة و بايعت رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم
ترجمہ: حضرت عَمرہ بنت رواحہ نے اسلام قبول کیا اور رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم سے بیعت کی۔ (الطبقات الكبری، جلد 8، صفحہ 361، دار صادر، بیروت)
جامع الاصول میں ہے
عمرۃ: بفتح العین المھملۃ و سکون المیم
ترجمہ: عمرہ عین کے فتح اور میم کے سکون کے ساتھ ہے۔ (جامع الاصول، جلد 12، صفحہ 646، دار البیان)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4739
تاریخ اجراء: 25شعبان المعظم1447ھ/14فروری2026ء