logo logo
AI Search

افنان نام کا مطلب اورافنان نام رکھنا کیسا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بچے کا نام افنان رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا بچے کا نام افنان رکھ سکتے ہیں؟

جواب

افنان کا معنی ہے: شاخیں، ٹہنیاں، حال وغیرہ قرآن پاک میں ہے

ذَوَاتَاۤ اَفْنَانٍ

ترجمہ: شاخوں والی ہیں۔ (سورہ رحمن، پ 27، آیت: 48)

تاج العروس میں ہے

(أفنانٌ) جمع فَنَنٍ محرّكة هُوَ الْغُصْن

ترجمہ: افنان فنن کی جمع ہے اس کا معنی ہے ٹہنی۔ (تاج العروس، ج 01، ص 62، دار الھدایۃ بیروت)

المنجدمیں ہے الفن: قسم۔ حال ج افنان وفنون (المنجد، ص 657، اردو بازار، لاہور)

معنی کے اعتبار سے یہ نام رکھنا اگرچہ جائز ہے، بہتر یہ ہے کہ بچے کا نام صرف محمد رکھا جائے کہ حدیث پاک میں اس کی فضیلت وترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ اور پکارنے کے لیے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ و السلام و صحابہ کرام، تابعین کرام و اولیاء عظام علیہم الرضوان کے ناموں میں سے کسی کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے امید ہے کہ نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی بچے کےشامل حال ہو گی اورحدیث پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، اس روایت پر بھی عمل ہوجائے گا۔

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

بہار شریعت میں ہے انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ ان کی برکت بچہ کے شامل حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 03، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

محمد نام رکھنے کی فضیلت:

کنز العمال میں روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:

من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي و تبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة

ترجمہ: جس کے ہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، ج 16، ص 422، مؤسسة الرسالة، بیروت)

رد المحتار میں مذکورہ حدیث کے تحت ہے

قال السيوطي: هذا أمثل حديث ورد في هذا الباب و إسناده حسن

ترجمہ: علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے فرمایا: جتنی بھی احادیث اس باب میں وارد ہوئیں، یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، کتاب الحظر و الاباحۃ، ج 9، ص 688، کوئٹہ)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-3442
تاریخ اجراء: 07 رجب المرجب1446ھ / 08جنوری2025ء