اخنس نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اخنس نام رکھنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا اخنس نام رکھنا درست ہے؟
جواب
اَخْنَس نام رکھنا نہ صرف درست بلکہ بہتر ہے، کہ یہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے ایک صحابی رضی اللہ تعالی عنہ کا نام ہے، اور ہمیں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ ان کے نام پر نام رکھنے سے ان کی برکت بھی بچے کے شاملِ حال ہو گی۔
اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ میں ہے
الاخنس بن خباب السلمی لہ صحبۃ
ترجمہ: اخنس بن خباب سلمی رضی اللہ تعالی عنہ رتبہ صحابیت سے مشرف ہیں۔ (اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، جلد 1، صفحہ 183، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
جامع الاصول میں ہے
الاخنس: بفتح الھمزۃ وسکون الخاء المعجمۃ و فتح النون
ترجمہ: اخنس، ہمزہ (یعنی الف) کے زبر، خاء کے سکون اور نون زبر کے ساتھ ہے۔ (جامع الاصول، جلد 12، صفحہ 186، دار البیان)
الفردوس بماثور الخطاب میں ہے
تسموا بخياركم
ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4851
تاریخ اجراء: 01 رمضان المبارک 1447ھ / 19 فروری 2026ء