logo logo
AI Search

حیا البریۃ نام رکھنا کیسا نیز اسکا مطلب؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حیا البریۃ نام رکھنا

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا "حیا البریۃ" نام رکھ سکتے ہیں؟

جواب

یہ نام رکھ سکتے ہیں، اس کا مطلب ہے: مخلوق کی شرم و حیا وغیرہ۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ نیکوں کے ناموں میں سے کوئی نام رکھ لیں، کہ حدیث پاک میں نیکوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے۔ نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بچے کے شامل حال ہو گی۔

القاموس الوحید میں ہے الحیاء: شرم و حیا، وقار و سنجیدگی۔ (القاموس الوحید، صفحہ 401، مطبوعہ: کراچی)

القاموس الوحید میں ہے البریۃ: مخلوق (القاموس الوحید، صفحہ 163، مطبوعہ: کراچی)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے

تسموا بخياركم

ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ و السلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ 356، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4579

تاریخ اجراء: 05 رجب المرجب 1447ھ / 26 دسمبر 2025ء