logo logo
AI Search

میرل (Meral) فاطمہ نام رکھنا اور میرل نام کا مطلب

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

میرل (Meral) فاطمہ نام رکھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرل (Meral) فاطمہ نام رکھنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

میرل (Meral) ترکی زبان کا لفظ ہے، جس کا مطلب ہے: غزال (ہرن)۔ اور فاطمہ پیارے آقا صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شہزادی کا نام ہے، اس اعتبار سے یہ نام رکھنے میں حرج نہیں ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی شہزادی سیدتنا فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کی نسبت سے بچی کا نام صرف فاطمہ رکھ لیں یا دیگر صحابیات، صالحات رضی اللہ تعالی عنہن میں سے سے کسی کے نام پر نام رکھ لیں کہ حدیثِ پاک میں اچھوں کے نام پر نام رکھنے کی ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے، نیز امید ہے کہ اس سے ان نیک ہستیوں کی برکت بھی بچی کے شامل حال ہو گی۔

میرل (Meral) کے بارے میں  لغت کی کتاب ”ترکی اردو لغت“ میں ہے ” Meral: ہرن۔ غزال۔“ (ترکی اردو لغت، صفحہ 327، مطبوعہ:  کراچی)

الفردوس بماثور الخطاب میں ہے ”تسموا بخياركم“ ترجمہ: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو۔ (الفردوس بماثور الخطاب، جلد2، صفحہ58، حدیث: 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 3، حصہ 15، صفحہ  356 ، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد فرحان افضل عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4679
تاریخ اجراء: 01 شعبان المعظم 1447 ھ/21 جنوری 2026ء