logo logo
AI Search

محمد عبداللّٰہ نام رکھنے سے محمد نام کی فضیلت ملے گی؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

محمد عبد اللہ، محمد عبد الرحمن وغیرہ نام رکھنے سے محمد نام رکھنے کی فضیلت حاصل ہوگی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ کوئی مسلمان اپنے بچے کا نام محمد عبد اللہ یا محمد عبد الرحمٰن رکھے، تو اسے محمد نام رکھنے کی جو فضیلت ہے، وہ بھی حاصل ہوگی؟ یا محمد نام کی فضیلت صرف محمد نام رکھنے ہی سے حاصل ہو گی؟

سائل: سید عبد اللہ الفت (گلشنِ اقبال، کراچی)

جواب

احادیثِ کریمہ میں اپنے بچوں کا نام محمدرکھنے کے فضائل اور ترغیب ارشاد فرمائی گئی ہے اور ظاہر یہی ہے کہ یہ فضیلت تنہا نام محمد رکھنے کی ہے، لہٰذا بہتر یہ ہے کہ اولاً بیٹے کا نام صرف ”محمد“ رکھیں اور پھر بچے کو پکارنے کے لیے ”محمد“ نام کے ساتھ عبد اللہ یا عبد الرحمٰن ملا لیں یا انبیائے کِرام علیہم السلام یا صحابہ و اولیا رضی اللہ عنہم کے ناموں کی نسبت سے کوئی نام رکھ لیں۔ نیز بچیوں کے نام بھی امہات المؤمنین یا دیگر صحابیات رضی اللہ عنہن یا بزرگ خواتین رحمۃ اللہ علیہن کے نام پر رکھنے چاہئیں کہ حدیثِ پاک میں اچھے لوگوں کے نام پرنام رکھنے کی ترغیب ارشادفرمائی گئی ہے، اس حدیث پر عمل ہو گا اور شریعتِ مُطہَّرہ نے نام رکھنے کا اصول یہی بیان کیا ہے کہ نام اچھا اور بامعنی ہونا چاہیے ، اولاد کا حق ہے کہ اس کا نام اچھا رکھا جائے۔ ایسا کرنے سے امیدہے کہ اچھے نام اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی اولاد کےشاملِ حال ہو گی۔

تنبیہ : جس کا نام عبد الرحمٰن ہو ، اسے صرف رحمٰن پکارنا یا لکھنا حرام ہے، کیونکہ رحمٰن اللّٰہ کریم کا خاص صفاتی نام ہے ، کسی بندے کےلیے بولا یا لکھا نہیں جا سکتا۔ رحمٰن اُس ہستی کو کہتے ہیں، جس کی رحمت ہر ایک پر عام ہو، جو حقیقی انعام فرمانے والا ہو اور ایسی ذات صرف اور صرف اللہ پاک کی ہے۔ اِسی وجہ سے اجلہ فقہاء ومحدثین نے رحمٰن نام کا اللہ پاک کے ساتھ خاص ہونا بیان کیا ہے اور اللہ کریم کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا، لکھنا حرام قرار دیا ہے۔ لہٰذاجب بھی یہ نام رکھا جائے، تو عبد کی اضافت کے ساتھ عبد الرحمٰن رکھا جائے اور یہی بولا جائے۔

بیٹے کا نام محمد رکھنے کے متعلق حدیث شریف میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

من ولد له مولود ذكر فسماه محمدا حبا لي وتبركا باسمي كان هو و مولوده في الجنة

ترجمہ:جس کے یہاں بیٹا پیدا ہو اور وہ میری محبت اور میرے نام سے برکت حاصل کرنے کے لئے اس کا نام محمد رکھے ، تو وہ اور اس کا بیٹا دونوں جنت میں جائیں گے۔ (کنز العمال، جلد 16، صفحہ 422، مطبوعہ مؤسسة الرسالة، بیروت)

اس حدیث پاک کے تحت رد المحتار میں ہے:

قال السيوطی: هذا أمثل حديث ورد فی هذا الباب و إسناده حسن

ترجمہ: امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اِس باب میں جتنی بھی احادیث وارد ہوئیں،یہ حدیث ان سب میں بہتر ہے اور اس کی سند حسن ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 9، ص688، مطبوعہ کوئٹہ)

امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بہتریہ ہے کہ صرف محمد یا احمد نام رکھے ، اس کے ساتھ جان وغیرہ اورکوئی لفظ نہ ملائے کہ فضائل تنہااِنہیں اَسمائے مبارَکہ کے واردہوئے ہیں۔  (فتاوی رضویہ، ج 24، ص 691، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اچھے ناموں کے متعلق حضرت ابو دَرداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاک صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:

انکم تدعون یوم القیامۃ باسماءکم واسماء اباءکم فاحسنوا اسماء کم

یعنی قیامت کے دن تم اپنے اور اپنے آباء کے ناموں سے پکارے جاؤ گے، لہٰذا اپنے اچھے نام رکھا کرو۔ (سنن ابی داوٗد، کتاب الادب، باب فی تغییر الاسماء، ج 4، ص 374، الحدیث: 4948، مطبوعہ دار احیاء التراث)

الفردوس بماثور الخطاب میں حدیث شریف ہے:

تسموا بِخِيارِکُم

ترجمہ: اچھوں کے نام پر نام رکھو۔(الفردوس بماثور الخطاب، جلد 2، صفحہ 58، حدیث 2328، دار الكتب العلمية، بيروت)

رحمٰن نام کے متعلق حضرت علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

كان معنى الرحمن هو المنعم الحقيقي تام الرحمة عميم الإحسان، ولذلك لا يطلق على غيره تعالىٰ

ترجمہ: رحمن کا معنی ہے وہ منعم حقیقی جس کی رحمت تام اور احسان عام ہو، اسی لیے اس کا اطلاق اللہ پاک کے علاوہ کسی اور پر نہیں کیا جا سکتا۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 4، صفحہ 1564، مطبوعہ دار الفکر، بیروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: بچہ کا اچھا نام رکھا جائے۔ ہندوستان میں بہت لوگوں کے ایسے نام ہیں، جن کے کچھ معنی نہیں یا اون کے برے معنی ہیں، ایسے ناموں سے احتراز کریں۔ انبیائے کرام علیہم الصلاۃ والسلام کے اسمائے طیبہ اور صحابہ و تابعین و بزرگان دِین کے نام پر نام رکھنا بہتر ہے، امید ہے کہ اون کی برکت بچہ کے شاملِ حال ہو۔ عبد اللہ وعبد الرحمٰن بہت اچھے نام ہیں مگر اس زمانہ میں یہ اکثر دیکھا جاتا ہے کہ بجائے عبد الرحمن اوس شخص کو بہت سے لوگ رحمن کہتے ہیں اور غیرِ خدا کو رحمن کہنا حرام ہے۔ (بہار شریعت، حصہ 15، جلد 3، صفحہ 356، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)

نوٹ: ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے مکتبۃ المدینہ کی کتاب ”نام رکھنے کے احکام“ پڑھیں۔ اس میں بچوں اور بچیوں کے بہت سے اسلامی نام دیے گئے ہیں۔ اس میں سے یونیک نام بھی دیکھے جا سکتے ہیں اور وہاں سے دیکھ کر کوئی سا بھی اچھا نام رکھا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب دعوت اسلامی کی ویب سائٹ سے اور دیے گئے لنک سے ڈاؤن لوڈ بھی کی جاسکتی ہے

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2881
تاریخ اجراء: 16 رجب 1447ھ /06 جنوری 2026ء