دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
ذروہ بتول نام رکھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ذروہ (ذال کی زیر یا پیش کے ساتھ) بلندی کے معنی میں آتا ہے اور بتول کے معنی ہیں: "منقطع ہونا، کٹ جانا" اور یہ لفظ خاتونِ جنت حضرت سیدتنا فاطمہ رضی اللہ عنہا کا لقب ہے۔ سیدتنا فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے الگ تھیں، اس لیے بتول لقب ہوا۔ لہٰذا ذروہ بتول نام رکھنا جائز ہے۔ البتہ! بہتر یہ ہے کہ بچی کا نام نبی پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کی ازواج مطہرات، بیٹیوں، نانیوں، دادیوں، صحابیات رضی اللہ عنہن اور نیک خواتین کے نام پر رکھا جائے کہ اس کی وجہ سے نام کی برکت اور ان بزرگ ہستیوں کی برکت بھی شامل حال ہوگی۔
اچھوں کے ناموں پر نام رکھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے چنانچہ حدیث پاک میں ہے:
تسموا بخياركم واطلبوا حوائجكم عند حسان الوجوه
یعنی: اپنے اچھوں کے نام پر نام رکھو اور اپنی حاجتیں اچھے چہرہ والوں سے طلب کرو۔ (مسند الفردوس، جلد 2، صفحہ 58، دار الكتب العلمية، بيروت)
عربی لغت کی مشہور کتاب "المنجد" میں ذروہ کا معنی ہے: "چوٹی، ہر چیز کا بلند حصہ اور اونچی جگہ وغیرہ۔" (المنجد، صفحہ 352، کتب خانہ دار الاشاعت، کراچی)
مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”چونکہ اللہ تعالیٰ نے جنابِ فاطمہ، ان کی اولاد، ان کے محبین کو دوزخ کی آگ سے دور کیا ہے اس لیے آپ کا نام فاطمہ ہوا۔ (مرقات)۔ آپ کا لقب ہے بتول اور زہرا۔ بتول کے معنی ہیں: منقطع ہونا، کٹ جانا
وَ تَبَتَّلْ اِلَیْهِ تَبْتِیْلًا
چونکہ آپ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے الگ تھیں لہذا بتول لقب ہوا۔ زہرا بمعنی کلی آپ جنت کی کلی تھیں حتی کہ آپ کو کبھی حیض نہیں آیا۔ (مدارج)۔ آپ کے جسم سے جنت کی خوشبو آتی تھی جسے حضور سونگھا کرتے تھے (مبسوط سرخسی)، اس لیے آپ کا لقب زہرا ہوا رضی اللہ عنہا۔“ (مراۃ المناجیح، جلد 8، صفحہ 452 ۔ 453، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
اور ناموں کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’نام رکھنے کے احکام‘‘ کا مطالعہ کیجئے ۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب:مولانا اعظم عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-3452
تاریخ اجراء:08رجب المرجب1446ھ/09جنوری 2025ء