logo logo
AI Search

نبی کریم ﷺ نے کس سال کو عام الحزن فرمایا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے کسی سال کو عام الحزن فرمایا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے کسی سال کو عام الحزن فرمایا؟ سیرت مصطفی کتاب جو ہمیں درس نظامی میں پڑھائی جاتی ہے، اس میں یہ واقعہ موجود ہے۔ براہِ کرم اس کے متعلق رہنمائی فرمائیں کہ یہ واقعہ پڑھنا، سننا درست ہے یا نہیں؟

جواب

کُتبِ احادیث اور تاریخ و سِیَر کی عربی اور اُردو، دونوں طرح کی معتبر کتابوں میں یہ بات موجود ہے، کہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے اپنے چچا ابو طالب اور اپنی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کے وفات والے سال یعنی اعلانِ نبوت کے دسویں سال کو عام الحزن (یعنی غم کے سال) کا نام دیا۔ لہذا یہ بات درست ہے اور اسے پڑھنا، سننا اور بیان کرنا بھی درست ہے۔

علامہ بدر الدین عینی حنفی رحمۃ اللہ علیہ عمدة القاری میں فرماتے ہیں:

فكانَ النَّبِي صلی اللہ علیہ و سلم يُسَمِّي ذَلِك الْعَام عَام الْحزن

ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم اس سال کو عام الحزن کے نام کےساتھ یادفرماتے تھے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 8، صفحہ 180، دار إحياء التراث العربي، بیروت)

شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ لمعات التنقیح میں لکھتے ہیں:

و مات أبو طالب و خديجة، فحزن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، و يسمى ذلك العام عام الحزن

ترجمہ: ابو طالب اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کی وفات ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غمگین ہوگئے، اور اس سال کوعام الحزن کا نام دیا جانے لگا۔ (لمعات التنقيح في شرح مشكاة المصابيح، جلد 9، صفحہ 346، دار النوادر، دمشق)

فقہ السيرة النبویۃ مع موجز لتاريخ الخلافۃالراشدة میں ہے

أما بعد وفاته، فقد سدت في وجهه تلك المجالات، فمهما حاول وجد صدا و عدوانا، و حيثما ذهب وجد السبل مغلقة في وجهه، فيعود بدعوته كما ذهب بها؛ لم يسمعها أحد و لم يؤمن بها أحد، بل الكل ما بين مستهزئ و معتد، ومتهكم به، فيحزنه أن يعود وهو لم يأت من الوظيفة التي كلفه اللہ بها بنتيجة، فمن أجله سمى ذلك العام عام الحزن

ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے چچا (ابو طالب) کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے لیے دعوت کے تمام راستے بند ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جہاں بھی کوشش کی، مخالفت اور دشمنی کا سامنا کرنا پڑا، جس طرف بھی گئے، دروازے بند ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسے دعوت لے کرجاتے ویسے ہی اسےواپس لے آتے، نہ کسی نےدعوت سنی ہوتی، اور نہ کسی نے قبول کی ہوتی، بلکہ سب آپ کا مذاق اڑاتے، دشمنی کرتے، اور آپ کی توہین کرتے، یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بہت دکھ دیتی کہ آپ اللہ کی دی ہوئی ذمہ داری کے ساتھ گئے لیکن کوئی مثبت نتیجہ حاصل نہ ہوا، اسی لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اُس سال کو عام الحزن کا نام دیا۔ (فقه السيرة النبوية، صفحہ99، مطبوعہ: دمشق)

شرح الزرقانی على المواہب اللدنیۃمیں ہے

ثم بعد ذلك بثلاثة أيام - وقيل: بخمسة-۔۔۔ في رمضان بعد البعث بعشر سنين، على الصحيح۔۔۔ ماتت الصدیقۃ الطاھرۃ خديجة رضي اللہ عنها. و كان عليه الصلاة و السلام يسمى ذلك العام عام الحزن

ترجمہ: پھر اس کے تین دن اور ایک قول کے مطابق پانچ دن بعد رمضان کے مہینے میں نبوت کے دسویں سال صحیح قول کے مطابق، صدیقہ طاھرہ خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا کا وصال ہوا، تو نبی پاک علیہ الصلوۃ و السلام اس سال کو عام الحزن کے نام کے ساتھ یادفرماتے تھے۔ (شرح الزرقاني على المواهب اللدنية بالمنح المحمدية للقسطلاني، جلد 2، صفحہ 48 - 49، دار الكتب العلمية، بيروت)

عربی لغت کی معتبر کتاب لسان العرب میں ہے

و عام الحزن: العام الذي ماتت فيه خديجة رضي اللہ عنها، و أبو طالب فسماه رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم، عام الحزن؛ حكى ذلك ثعلب عن ابن الأعرابي، قال: و ماتا قبل الهجرة بثلاث سنين

ترجمہ: عام الحزن: اس سال کو کہتے ہیں جس میں حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا اور ابو طالب کی وفات ہوئی۔ تو نبی پاک علیہ الصلوۃ و السلام نے اسے سال کو عام الحزن کا نام دیا۔ اس بات کو ثعلب نے ابن اعرابی سے راویت کیا۔ اور کہا کہ ان دونوں نے ہجرتِ مدینہ سے تین سال پہلے وفات پائی۔ (لسان العرب، جلد 13، صفحہ 112، دار صادر - بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4609

تاریخ اجراء: 16 رجب المرجب1447ھ/06 جنوری2026ء