logo logo
AI Search

کیا انبیاء اور فرشتے معصوم ہیں؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

انبیائے کرام اور فرشتوں علیہم الصلوۃ و السلام کے معصوم ہونے کا قرآن مجید سے ثبوت

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہمارا عقیدہ ہے کہ انبیائے کرام اور فرشتے علیہم الصلوۃ و السلام معصوم ہیں، کیا یہ عقیدہ قرآن سے ثابت ہے؟

جواب

جی ہاں! بے شک یہ عقیدہ قرآن مجید سے ثابت ہے۔، تفسیر صراط الجنان سے چند دلائل ذکر کئے جا رہے ہیں

صراط الجنان میں ہے انبیاء علیھم الصلوۃ و السلام کی عصمت کا بیان:۔۔۔ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام معصوم ہوتے ہیں اور ان سے کوئی گناہ سرزد نہیں ہوتا، ان کے معصوم ہونے پر بیسیوں دلائل ہیں۔ یہاں پر صرف 3 دلائل درج کئے جاتے ہیں۔ (1)… انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام اللہ تعالیٰ کے چنے ہوئے اور مخلص بندے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب علیھم الصلوۃ والسلام کے بارے میں واضح طور پر ارشاد فرمایا:

اِنَّاۤ اَخْلَصْنٰہُمْ بِخَالِصَۃٍ ذِکْرَی الدَّارِ (ص: 46)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک ہم نے انہیں ایک کھری بات سے چن لیا وہ اس (آخرت کے) گھر کی یاد ہے۔ اور حضرت یوسف علیہ الصلوۃ والسلام کے بارے میں ارشاد فرمایا:

اِنَّہٗ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِیْنَ (یوسف: 24)

ترجمۂ کنز العرفان: بیشک وہ ہمارے چنے ہوئے بندوں میں سے ہے۔ اور جو اللہ تعالیٰ کے مخلص بندے ہیں شیطان انہیں گمراہ نہیں کر سکتا، جیسا کہ اس کا یہ اعتراف خود قرآن مجید میں موجود ہے:

قَالَ فَبِعِزَّتِکَ لَاُغْوِیَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ(82) اِلَّا عِبَادَکَ مِنْہُمُ الْمُخْلَصِیْنَ (ص:  83)

ترجمۂ کنز العرفان: اس نے کہا: تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کر دوں گا۔ مگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام پر شیطان کا داؤ نہیں چلتا کہ وہ ان سے گناہ یا کفر کرا دے۔ (2)… گناہ کرنے والا مذمت کئے جانے کے لائق ہے، جبکہ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے مطلقاً ارشاد فرما دیاکہ

وَ اِنَّہُمْ عِنْدَنَا لَمِنَ الْمُصْطَفَیْنَ الْاَخْیَارِ (ص:47)

ترجمۂ کنز العرفان: اور بیشک وہ ہمارے نزدیک بہترین چُنے ہوئے بندوں میں سے ہیں۔ (3)… انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام فرشتوں سے افضل ہیں اور جب فرشتوں سے گناہ صادر نہیں ہوتا تو ضروری ہے کہ انبیاء کرام علیھم الصلوۃ والسلام سے بھی گناہ صادر نہ ہو کیونکہ ا گر انبیاء کرام علیھم الصلوۃ و السلام سے بھی گناہ صادر ہو تو وہ فرشتوں سے افضل نہیں رہیں گے۔ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 116- 117، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صراط الجنان میں ہے فرشتوں کی عصمت کا بیان: فرشتوں کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ یہ گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَاۤ اَمَرَھُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ (تحریم: 6)

ترجمۂ کنز العرفان: وہ (فرشتے) اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ اور ارشاد فرمایا:

وَ ھُمْ لَا یَسْتَکْبِرُوْنَ (49) یَخَافُوْنَ رَبَّہُمْ مِّنْ فَوْقِہِمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ(50)

ترجمۂ کنز العرفان: اور فرشتے غرور نہیں کرتے۔ وہ اپنے اوپر اپنے رب کا خوف کرتے ہیں اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: اس آیت سے ثابت ہوا کہ فرشتے تمام گناہوں سے معصوم ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا کہ وہ غرور نہیں کرتے ا س بات کی دلیل ہے کہ فرشتے اپنے پیدا کرنے والے اور بنانے والے کے اطاعت گزار ہیں اور وہ کسی بات اور کسی کام میں بھی اللہ تعالیٰ کی مخالفت نہیں کرتے۔ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 200، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: نبی کا معصوم ہونا ضروری ہے اور یہ عصمت نبی اور مَلَک (فرشتے) کا خاصہ ہے، کہ نبی اور فرشتہ کے سوا کوئی معصوم نہیں۔ اماموں کو انبیا کی طرح معصوم سمجھنا گمراہی و بد دینی ہے۔ عصمتِ انبیا کے یہ معنی ہیں کہ اُن کے لیے حفظِ الٰہی کا وعدہ ہو لیا، جس کے سبب اُن سے صدورِ گناہ شرعاً محال ہے۔۔۔ انبیا علیھم السلام شرک و کفر اور ہر ایسے امر سے جو خلق کے لیے باعثِ نفرت ہو، جیسے کذب و خیانت و جہل وغیرہا صفاتِ ذمیمہ سے، نیز ایسے افعال سے جو وجاہت اور مُروّت کے خلاف ہیں قبلِ نبوت اور بعد نبوت بالاجماع معصوم ہیں اور کبائر سے بھی مطلقاً معصوم ہیں اور حق یہ ہے کہ تعمّدِ صغائر سے بھی قبلِ نبوّت اور بعدِ نبوّت معصوم ہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 1، صفحہ 38، 39، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد ابوبکر عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: WAT-4604

تاریخ اجراء: 13 رجب المرجب 1447ھ / 03 جنوری 2025ء