دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے سنا ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فارسی زبان میں نماز پڑھتے تھے، کیا یہ بات درست ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
آپ سے سننے میں غلطی ہوئی ہے، در اصل بات یوں ہے کہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے نماز میں فارسی زبان میں قراءت کی اجازت منقول تھی، جس کی تفصیل یہ ہے کہ پہلے امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مؤقف یہ تھا کہ چاہے عربی میں قراءت آتی ہویا نہیں، بہرصورت نماز میں فارسی زبان میں قراءت کی اجازت ہوگی، جبکہ آپ کے دونوں شاگرد یعنی امام ابو یوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما کا مؤقف یہ تھا کہ اگر عربی میں قراءت سے عاجز ہو، تو اس صورت میں فارسی زبان میں قراءت کرنے کی اجازت ہوگی، ورنہ نہیں۔ یہی قول مفتیٰ بہ(یعنی اسی پر فتوی دیا جاتا) ہے اور بعد میں خود امام اعظم ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اس مسئلے میں اپنے مؤقف سے رجوع کرکےصاحبین رحمۃ اللہ علیہما کے مؤقف کو اختیار فرمالیا تھا۔
تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق میں ہے:
و أما القراءة بالفارسية فجائزة في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف و محمد لا تجوز إذا كان يحسن العربية؛۔۔۔ و يروى رجوعه إلى قولهما و عليه الاعتماد
ترجمہ: اور جہاں تک فارسی میں قراءت (یعنی تلاوت) کا تعلق ہے تو وہ امام ابوحنیفہ کے قول کے مطابق جائز ہے، اور امام ابویوسف اور امام محمد رحمۃ اللہ علیہما نے فرمایا کہ اگر کوئی شخص عربی اچھی طرح پڑھ سکتا ہو تو اس کے لیے (فارسی میں قراءت) جائز نہیں۔ اور مروی ہے کہ امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے اس قول سے رجوع فرما لیا تھا، اور اسی (رجوع والے قول) پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ (تبیین الحقائق، جلد 1، صفحہ 110، 111، مطبوعہ قاھرۃ)
تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:
(قرء بھا عاجزا) فجائز اجماعاً ، قید القراءۃ بالعجز لان الأصح رجوعہ الی قولھما و علیہ الفتوی
ترجمہ: عربی سے عاجز شخص نے نماز میں غیر عربی میں قراءت کی ،تو اجماعاً جائز ہے، (غیر عربی میں) قراءت کے جواز کو (عربی میں قراءت کے) عجز سے مقید کیا، کیونکہ اصح یہ ہے کہ امام اعظم رحمۃ اللہ علیہ نےصاحبین کے قول کی طرف رجوع فرمالیا تھا اور اسی پر فتوی ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 224، دار المعرفۃ، بیروت)
صاحبین کے مفتیٰ بہ قول کے مطابق نما زمیں عربی قراءت لازم ہے، بغیر عجز غیر عربی میں نماز درست نہیں ہوگی، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاوی رضویہ میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’قراءتِ قرآن فرض ہے اور وہ خاص عربی ہے غیر عربی میں ادا نہ ہوگی اور نماز نادرست ہوگی اور اِس کے ماورا(یعنی تلاوت کے علاوہ تکبیر تحریمہ و دیگر اذکار نماز غیر عربی میں پڑھنے کی صورت) میں گنہگاری ہے، ہاں جو عاجز محض ہو، تو مجبوری کی بات جُدا ہے‘‘۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 323، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-965
تاریخ اجراء: 06جمادی الاولی1447ھ /29اکتوبر 2025ء