دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
میرا سوال یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے خیر الامم کا لفظ استعمال کرنا کیسا ؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَابِ
حضور نبی کریم صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کے صدقے یہ لقب ’’خیر الامم(تمام امتوں میں سب سے بہترین) خود امتِ محمدیہ (مسلمانوں) کو ملا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے لفظ ’’خیر الامم‘‘ استعمال کرنا جائز ہے اور آپ کے حق میں یہ لفظ’’خیر الانام (مخلوقات میں سب سے بہترین)‘‘کے مرادف ہے۔
فتاوی تاج الشریعہ میں ہے: ’’خیر الامم امت محمدیہ علٰی نبیہا التحیۃ والسلام کا لقب ہے اور یہ فضیلت ہمیں حضور پُر نور خیر البشر سید الانام کے وسیلہ سے ملی کہ ہم خیر الامم ہوئے یعنی سب امتوں سے بہتر تو حضور بدرجہ اولیٰ اس لقب کے مصداق ہیں کہ تمام اولین و آخرین سے افضل ہیں اور خیر الامم کا اطلاق جس طرح امت پر ہوتا ہے اسی طرح حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام پر سائغ اور ان کے حق میں خیر الانام کے مرادف ہے۔واللہ تعالی اعلم۔ ‘‘ (فتاوی تاج الشریعہ، ج1، ص 255، اکبر بک سیلرز، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
فتوی نمبر:WAT-4561
تاریخ اجراء:01 رجب المرجب1447ھ/22دسمبر2025ء