بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سینہ چاک ہونے سے کیا مراد ہے؟ اور اس واقعہ کی حقیقت کیا ہے؟ تفصیل سے بتائیں۔
سرکارِ دوعالَم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ایک عظیمُ الشّان فضیلت یہ ہے کہ چار مرتبہ آپ کا شَقِّ صَدْر ہوا، یعنی حضرت سیّدُنا جبریلِ امین علیہ الصلاۃو السّلام نے مبارک سینے کو چاک (کھول) کر کے مقدس دل باہر نکالا، سونے کے طَشْت میں آبِ زَمزم سے غسل دیا، اور نور و حکمت سے بھر کر اس کی جگہ واپس رکھ دیا۔ یہ واقعہ شق صدر کے نام سے معروف و مشہور ہے، یہ واقعہ روحانی طور پر یا خواب میں نہیں ہوا، بلکہ یہ واقعہ حِسّی، حقیقی اور اَمرِ واقعی ہے، جس کا ثبوت قرآن پاک و حدیث سے ہے، قلبِ اطہر کا زم زم سے دھویا جانا کسی آلائش اور گندگی کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سید الطیبین و الطاہرین یعنی صاف ستھرے اور پاکیزہ لوگوں کے سردارہیں ، بلکہ قلبِ اقدس کا زم زم سے دھویا جانا، محض اس حکمت پر مبنی تھا کہ زم زم کے پانی کو وہ شَرَف بخشا جائے جو دنیا کے کسی پانی کو حاصل نہیں، بلکہ قلبِ اطہر کے ساتھ ماءِ زم زم کو مَسْ (Touch) فرما کر وہ فضیلت عطا فرمائی گئی جو کوثر و تَسْنِیم کے پانی کو بھی حاصل نہیں۔
اللہ کریم کا فرمانِ عظیم ہے
اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
ترجمۂ کنز الایمان: کیا ہم نے تمہارے لیے سینہ کشادہ نہ کیا۔ (پارہ 30، سورۃ الانشراح، آیت: 01)
حکیمُ الْاُمّت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہِ علیہ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں: سینہ کشادہ کرنے سے مراد یا سینہ چاک کرنا ہے یا سینہ کھولنا یا وسیع فرمانا۔ اگر پہلے معنی مراد ہوں تو خیال رہے کہ حُضور ( صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم) کا سینہ مبارک 3 یا 4 بار چاک کرکے قلبِ مبارک دھویا گیا۔ اوّل: بی بی حلیمہ دائی کے ہاں تاکہ دل میں کھیل کود کی رغبت نہ ہو، پھر شروعِ شباب میں تاکہ جوانی کی غفلت نہ آنے پائے، پھر عطاءِ نبوت کے قریب تاکہ دل بارِ نبوت کو برداشت کرسکے، پھر معراج کی رات تاکہ عالَمِ مَلَکُوت کے نظارہ اور دیدارِ الٰہی کا تَحَمُّل ہوسکے، یہ ظاہری شَرْحِ صَدْر ہے۔ (تفسیر نور العرفان ، صفحہ 893، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
تفسیر صراط الجنان میں ہے بعض مفسرین کے نزدیک اس آیت میں ظاہری طور پر سینۂ مبارک کا کھلنا مراد ہے۔ اَحادیث میں مذکور ہے کہ ظاہری طور پر نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہ وَ سَلَّمَ کے سینۂ مبارک کا کھلنا بھی بارہا ہوا، جیسے عمر مبارک کی ابتداء میں سینۂ اَقدس کھلا، نزولِ وحی کی ابتداء کے وقت اور شبِ معراج سینہ مبارک کھلا اور اس کی شکل یہ تھی کہ حضرت جبریل امین عَلَیْہِ السَّلَام نے سینۂ پاک کو چاک کرکے قلب مبارک نکالا اور زریں طَشت میں آبِ زمزم سے غسل دیا اور نور و حکمت سے بھر کر اس کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ (صراط الجنان، جلد 10، صفحہ 739، مکتبۃ المدینہ)
صحیح مسلم میں ہے:
عن أنس بن مالك أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم أتاه جبريل صلى اللہ عليه و سلم و هو يلعب مع الغلمان، فأخذه فصرعه، فشق عن قلبه، فاستخرج القلب، فاستخرج منه علقة، فقال: هذا حظ الشيطان منك، ثم غسله في طست من ذهب بماء زمزم، ثم لأمه، ثم أعاده في مكانه، و جاء الغلمان يسعون إلى أمه - يعني ظئره - فقالوا: إن محمدا قد قتل، فاستقبلوه و هو منتقع اللون، قال أنس: و قد كنت أرى أثر ذلك المخيط في صدره
ترجمہ: حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم بچّوں کے ساتھ موجود تھے کہ جبریلِ امین علیہ السّلام آئے، آپ کو پکڑ کر لٹایا، سینہ چیر کر اس میں سے دل نکالا اور دل میں سے جما ہوا خون (خون کا لوتھڑا) نکال کر کہا: آپ کے اندر یہ شیطان کا حصہ تھا۔ اس کے بعد جبریلِ امین علیہ السّلام نے مبارک دل کو سونے کے طَشْت میں آبِ زم زم سے دھویا اور سی کر دوبارہ اس کی جگہ رکھ دیا۔ (یہ منظر دیکھ کر) بچّے دوڑ کر حُضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی رضاعی والدہ (حضرت حلیمہ سعدیہ رضی اللہ عنہا) کے پاس پہنچے اور کہا: محمد (صلَّی اللہ علیہ و اٰلہٖ و سلَّم) کو قتل کردیا گیا ہے۔ یہ سُن کر لوگ جلدی جلدی آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے پاس پہنچے تو دیکھا کہ (مبارک چہرے کا) رنگ بدلا ہوا تھا۔ حضرت سیّدُنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک سینے پر اس سلائی کے نشان دیکھا کرتا تھا۔ (صحیح مسلم، صفحہ 80، الحدیث: 260، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مرآۃ المناجیح میں اس حدیث پاک کی شرح میں مذکور ہے: اگر یہ حصہ تمہارے دل میں رہتا تو شیطان اس پر اپنا اثر کیا کرتا ہم وہ چیز آپ کے دل میں رہنے دیں گے ہی نہیں جس پر شیطان اثر جماتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ حضور صلی الله علیہ و سلم گناہ کرسکتے ہی نہ تھے کیونکہ گناہ یا تو نفس امارہ کراتا ہے یا شیطان، حضور کا نفس امارہ نہیں بلکہ نفس مطمئنہ ہے، شیطان کی حضور انور کے دل تک گزر نہیں پھر گناہ کون کرائے۔ خیال رہے کہ اولًا دل میں یہ گوشت کا ٹکڑا پیدا کیا جانا پھر اس کا نکالا جانا ایسا ہے جیسے جسم اقدس پر بالوں ناخنوں کا ہونا پھر ان کا کٹوایا جانا یہ بات نبوت کی شان کے خلاف نہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ اس واقعہ کا نام شرح صدربھی ہے، شق صدر بھی۔ یہ واقعہ عمر شریف میں کئی بار ہوا ہے یہ پہلا موقعہ ہے، رب فرماتاہے:
اَلَمْ نَشْرَحْ لَکَ صَدْرَکَ
اس آیت میں ان ہی واقعات کی طرف اشارہ ہے،دوسری بار دس سال کی عمر شریف میں،پھر غارِ حرا میں اعتکاف کے زمانہ میں،پھر شبِ معراج میں،ان تین بار میں زیادتی نور زیادتی شرح کے لیے ہوا۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 08، صفحہ 114، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
غزالیِ زماں علّامہ سیّد احمد سعید کاظمی رحمۃُ اللہِ علیہ اس روایت کے تحت فرماتے ہیں: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شَقِّ صَدْر مبارک کے متعلق روحانی، کَشْفی، مَنامی وغیرہ کی تمام تاویلات قطعاً باطل ہیں بلکہ یہ شَق اور چاک کیا جانا حِسّی، حقیقی اور اَمرِ واقعی ہے کیونکہ سینۂ اَقدس میں سوئی سے سیئے جانے کا نشان چمکتا ہوا نظر آتا تھا۔۔۔ قلبِ اطہر کا زمزم سے دھویا جانا کسی آلائش کی وجہ سے نہ تھا کیونکہ حُضور سَیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ و آلہ و سلَّم سید الطیبین و الطاہرین ہیں، ایسے طَیِّب و طاہر کہ ولادتِ باسعادت کے بعد بھی حُضور سَیِّدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ وآلہ وسلَّم کو غسل نہیں دیا گیا، لہٰذا قلبِ اقدس کا زمزم سے دھویا جانا محض اس حکمت پر مبنی تھا کہ زمزم کے پانی کو وہ شَرَف بخشا جائے جو دنیا کے کسی پانی کو حاصل نہیں، بلکہ قلبِ اطہر کے ساتھ ماءِ زمزم کو مَس فرما کر وہ فضیلت عطا فرمائی گئی جو کوثر و تَسْنِیم کے پانی کو بھی حاصل نہیں۔(مقالات کاظمی، جلد 01، صفحہ 210، 211،کاظمی پبلی کیشنز، ملتان)
علامہ عبد المصطفیٰ اعظمی علیہ الرحمۃ سیرت مصطفی میں ذکر کرتے ہیں: حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سورۂ ''الم نشرح'' کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ چار مرتبہ آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کا مقدس سینہ چاک کیا گیا اور اس میں نور و حکمت کا خزینہ بھرا گیا۔پہلی مرتبہ جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم حضرت حلیمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے گھر تھے جس کا ذکر ہو چکا۔ اس کی حکمت یہ تھی کہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ان وسوسوں اور خیالات سے محفوظ رہیں جن میں بچے مبتلا ہو کر کھیل کود اور شرارتوں کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ دوسری بار دس برس کی عمر میں ہوا تاکہ جوانی کی پر آشوب شہوتوں کے خطرات سے آپ بے خوف ہو جائیں۔ تیسری بار غارِ حرا میں شق صدر ہوا اور آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلب میں نور سکینہ بھر دیا گیا تا کہ آپ وحی الٰہی کے عظیم اور گراں بار بوجھ کوبرداشت کر سکیں۔ چوتھی مرتبہ شب معراج میں آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم کا مبارک سینہ چاک کرکے نور و حکمت کے خزانوں سے معمور کیا گیا، تا کہ آپ کے قلب مبارک میں اتنی وسعت اور صلاحیت پیدا ہو جائے کہ آپ دیدار الٰہی عزوجل کی تجلیوں، اور کلام ربانی کی ہیبتوں اور عظمتوں کے متحمل ہو سکیں۔ (سیرت مصطفی، صفحہ 79، 80، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4590
تاریخ اجراء: 10 رجب المرجب 1447ھ / 31 دسمبر 2025ء