logo logo
AI Search

تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تنعیم سے عمرہ کرنا کیسا؟ کیا جعرانہ سے عمرہ افضل ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) کیا تنعیم سے عمرہ کرنے کا حکم حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھا؟ بعض لوگوں کو کہتے سنا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ان کے عذر کی وجہ سے وہاں سے عمرے کا احرام باندھنے کی اجازت دی ہے، لہذا یہ معاملہ ان کے ساتھ خاص تھا، یا اب بھی خاص عذر والی عورتوں کیلئے اجازت ہے کہ وہ ایام سے فارغ ہوکر وہاں سے عمرے کا احرام باندھ سکتی ہیں۔ کیا یہ درست ہے؟

(2) نیز بعض لوگ تنعیم کے مقابلے میں جعرانہ سے عمرہ کرنے کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ جعرانہ سے عمرہ کرنا افضل ہے، کیونکہ بذاتِ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ و ا ٓلہ و سلم نے جعرانہ کے مقام سے عمرے کااحرام باندھا ہے؟

جواب

(1) مقامِ تنعیم جہاں اس وقت مسجدِ عائشہ (رضی اللہ عنہا) واقع ہے، وہاں سے عمرے کا احرام باندھنا صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، یا کسی عذر والی عورت کے ساتھ خاص نہیں، بلکہ یہ حکم عام ہے یعنی حرمِ مکہ میں موجود ہر شخص جو عمرے کا ارادہ رکھتا ہو، خواہ وہاں مقیم ہو، یا کسی غرض سے آیا ہو، اور چاہے مرد ہو یا عورت، اس کے لیے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں۔

اس پر چند دلائل ملاحظہ ہوں:

اولاً: جس حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنے کا حکم ارشاد فرمایا، اس میں کہیں یہ تصریح موجود نہیں کہ یہ حکم صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، یا عذر والی خواتین کے ساتھ خاص ہے۔ لہٰذا حدیث کو بلا دلیل مخصوص کرنا درست نہیں۔

ثانیاً: جو شخص حدودِ حرم کے اندر ہو اور عمرہ کرنا چاہے، اس پر لازم ہے کہ وہ حرم سے باہر حِل میں سے کسی بھی جگہ سے احرام باندھے۔ خاص مقامِ تنعیم ہی ضروری نہیں، بلکہ جعرانہ، حدیبیہ یا دیگر مقاماتِ حِل سے بھی احرام باندھا جاسکتا ہے۔ البتہ تنعیم چونکہ حرم سے سب سے قریب ترین حد ہے، وہاں جاکر احرام باندھ کر واپس آنے میں سہولت زیادہ ہے، اسی لئے اکثر لوگ وہیں سے احرام باندھتے ہیں۔ فقہائے کرام فرماتے ہیں: عین ممکن ہے کہ یہی قرب اور سہولت حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنے کے حکم دینے کی اصل وجہ بنی ہو۔

ثالثاً: صحابۂ کرام و تابعینِ عظام کے زمانے سے لے کر آج تک حدود حرم میں موجود لوگ عمرے کیلئے تنعیم سے احرام باندھتے چلے آرہے ہیں اور کسی نے اسے صرف حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا، یا عذر والی عورتوں کے ساتھ خاص قرار نہیں دیا۔ امت کا مسلسل تعامل بھی اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حدود حرم میں موجود ہر شخص عمرے کیلئے یہاں سے احرام باندھ سکتا ہے۔ نیز خود صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بارے میں صریح روایت موجود ہے کہ آپ نے بھی تنعیم کے مقام سے عمرے کا احرام باندھا۔ ان کا یہ عمل بھی اس خصوصیت کی نفی کرتا ہے۔

(2) دوسرے سوال کے جواب کا دار و مدار اس اصول پر ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول (فرمان) اور فعل (عمل) میں سے کس کو ترجیح ہوگی۔ احناف کے نزدیک اگر دونوں میں فرق ہو تو قولی دلیل کو فعلی دلیل پر ترجیح حاصل ہوتی ہے، کیونکہ قول زیادہ واضح ہوتا ہے جبکہ فعل کسی خاص موقع، حالت یا عادت کے مطابق بھی ہو سکتا ہے۔ اب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جعرانہ کے مقام سے عمرے کا احرام باندھنے کو دیکھا جائے تو یہ ایک فعلی دلیل ہے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم کے مقام سے عمرے کے احرام باندھنے کا جو حکم دیا تو وہ ایک قولی دلیل ہے۔ لہذا قولی دلیل کی فعلی دلیل پر ترجیح کی بنیاد پر احناف کے نزدیک تنعیم سے عمرہ کرنا افضل قرار پائے گا۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھنے سے متعلق صحیح بخاری شریف کی حدیث پاک ہے: عن عائشة رضي اللہ عنها زوج النبي صلى اللہ عليه وسلم قالت: خرجنا مع النبي صلى اللہ عليه وسلم في حجة الوداع فأهللنا بعمرة، ثم قال النبي صلى اللہ عليه وسلم: من كان معه هدي فليهل بالحج مع العمرة، ثم لا يحل حتى يحل منهما جميعا، فقدمت مكة وأنا حائض، و لم أطف بالبيت، ولا بين الصفا و المروة، فشكوت ذلك إلى النبي صلى اللہ عليه وسلم فقال: انقضي رأسك، و امتشطي، و أهلي بالحج، و دعي العمرة ففعلت، فلما قضينا الحج، أرسلني النبي صلى اللہ عليه و سلم مع عبد الرحمن بن أبي بكر إلى التنعيم فاعتمرت، فقال: هذه مكان عمرتك‘‘ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، فرماتی ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع میں نکلے تو ہم نے عمرے کا احرام باندھا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: جس کے ساتھ قربانی کا جانور ہو، وہ حج کو عمرے کے ساتھ ملا لے، پھر وہ اس وقت تک حلال نہ ہو جب تک کہ دونوں سے ایک ساتھ فارغ نہ ہوجائے۔ (فرماتی ہیں کہ)میں مکہ مکرمہ پہنچی تو میں ایام سے تھی، اس لیے نہ میں بیت اللہ کا طواف کرسکی اور نہ صفا و مروہ کے درمیان سعی۔ میں نے اس بات کی شکایت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کی تو آپ نے فرمایا: اپنے سر کے بال کھول دو، کنگھی کرو، حج کا احرام باندھ لو اور عمرہ چھوڑ دو۔ چنانچہ میں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب ہم حج سے فارغ ہوگئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھے (میرے بھائی) عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تنعیم بھیجا، تو میں نے وہاں سے عمرہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ (عمرہ) تمہارے اُس (فوت ہونے والے) عمرے کے بدلے میں ہے۔ (صحیح البخاری، جلد 2، صفحہ 394، 395، رقم الحدیث: 1569، دار التاصیل، قاھرۃ)

حرمِ مکہ والوں کیلئے عمرے کی میقات حل ہے، چاہے حِل میں کہیں سے بھی ہو۔ البتہ تنعیم حدود حرم میں سب سے قریب ترین حرم کی حد ہے۔ ممکن ہے اسی وجہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نےبھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہاں سے عمرے کا احرام باندھنے کا حکم فرمایا ہو۔ چنانچہ علامہ محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ علیہ عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری میں فرماتے ہیں: وقال جمهور العلماء من التابعين و غيرهم، منهم أبو حنيفة و أصحابه و مالك والشافعي و أحمد و إسحاق و أبو ثور و آخرون: وقت العمرة لمن كان بمكة الحل، و هو خارج الحرم: فمن أي الحل أحرموا بها جاز، سواء ذلك التنعيم أو غيره من الحل. و قال الطحاوي: إنه قد يجوز أن يكون النبي صلى الله عليه و سلم قصد إلى التنعيم لأنه كان أقرب المحل منها، لأن غيره من الحل ليس هو في ذلك كهو‘‘ ترجمہ: اور تابعین وغیرہ میں سے جمہور علماء، جن میں امام ابو حنیفہ اور آپ کے اصحاب، امام مالک، امام شافعی، امام احمد، امام اسحاق، امام ابو ثور اور دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ مکہ میں رہنے والے کے لیے عمرے کا میقات حِل ہے، یعنی حدودِ حرم سے باہر کا علاقہ۔ پس وہ حِل کے جس مقام سے بھی عمرے کا احرام باندھیں جائز ہے، خواہ تنعیم ہو یا حِل کا کوئی اور مقام۔ اور امام طحاوی رحمہ اللہ نے فرمایا: ممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے تنعیم کا قصد اس لیے فرمایا ہو کہ وہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے لیے حِل کے مقامات میں سب سے قریب تھا، کیونکہ حِل کے دوسرے مقامات اس کے برابر قریب نہ تھے۔ (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری، جلد 9، صفحہ 132، دار إحياء التراث العربي)

صحابی رسول حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے بھی تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا، چنانچہ موطأ امام مالك میں ہے: عن هشام بن عروة، أنه أخبره أنه رأى عبد اللہ بن الزبير أحرم بعمرة من التنعيم‘‘ ترجمہ: حضرت ہشام بن عروہ سے روایت ہے کہ انہوں نے خبر دی کہ انہوں نے حضرت عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے تنعیم سے عمرے کا احرام باندھا۔ (مؤطا امام مالک، جلد 1، صفحہ 498، رقم الحدیث: 1285، مؤسسة الرسالة، بيروت)

احناف کے نزدیک جعرانہ کے مقابلے میں تنعیم سے احرام باندھنا افضل ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع در المختار میں ہے: (و) الميقات (لمن بمكة) يعني من بداخل الحرم (للحج الحرم وللعمرة الحل)؛ ليتحقق نوع سفر، والتنعيم أفضل‘‘ ترجمہ: اور جو شخص مکہ مکرمہ میں ہو، یعنی جو حدودِ حرم کے اندر موجود ہو، اس کے لیے حج کا میقات حرم ہے اور عمرے کا میقات حِل (حرم سے باہر) ہے، تاکہ سفر کی ایک صورت پائی جائے اور تنعیم (ان مقاماتِ حل میں سے) افضل ہے۔

اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار علی الدرالمختار میں فرماتے ہیں: (قوله و التنعيم أفضله) هو موضع قريب من مكة عند مسجد عائشة، و هو أقرب موضع من الحل ط أي الإحرام منه للعمرة أفضل من الإحرام لها من الجعرانة، و غيرها من الحل عندنا و إن كان صلى اللہ عليه وسلم أحرم منها لأمره عليه الصلاة و السلام عبد الرحمن بأن يذهب بأخته عائشة إلى التنعيم لتحرم منه و الدليل القولي مقدم عندنا على الفعلي و عند الشافعي بالعكس‘‘ ترجمہ: اور ان کا قول کہ تنعیم اس کا افضل مقام ہے۔ تنعیم مکہ مکرمہ کے قریب ایک مقام ہے جہاں مسجدِ عائشہ واقع ہے، اور یہ حِل (حرم سے باہر) کے مقامات میں سب سے قریب ترین جگہ ہے۔ یعنی ہمارے نزدیک عمرے کا احرام تنعیم سے باندھنا جعرانہ اور دیگر مقاماتِ حل کے مقابلے میں زیادہ افضل ہے، اگرچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عبد الرحمن رضی اللہ عنہ کو حکم فرمایا تھا کہ وہ اپنی بہن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو تنعیم لے جائیں تاکہ وہ وہاں سے عمرے کا احرام باندھیں۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک قولی دلیل (زبانی حکم) فعلی دلیل (عمل) پر مقدم ہوتی ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے برعکس ہوتا ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختارو رد المحتار، جلد 3، مطلب فی المواقیت، صفحہ 554، دار المعرفۃ، بیروت)

علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط میں فرماتے ہیں: ثم احرام المکی من التنعیم افضل عندنا للعمرۃ، و من الجعرانۃ عند الشافعی، بناء علی ان الدلیل القولی اقوی و ھو مذھبنا، أو الدلیل الفعلی و ھو مذھبہ‘‘ ترجمہ: پھر مکی شخص کا عمرہ کے لیے تنعیم سے احرام باندھنا ہمارے (احناف کے) نزدیک افضل ہے، اور امام شافعی کے نزدیک جعرانہ سے افضل ہے، اس بنیاد پر کہ قولی دلیل (فعلی دلیل سے) زیادہ قوی ہے اور یہی ہمارا مذہب ہے، یا فعلی دلیل (قولی دلیل سے) زیادہ قوی ہے اور وہ ان (امام شافعی) کا مذہب ہے۔ (المسلک المتقسط فی المنسک المتوسط، باب المواقیت، صفحہ 117، مطبوعہ مکۃ المکرمۃ)

علامہ ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ شرح الشفا للقاضی عیاض میں فرماتے ہیں: (تقديم الفعل) من الأدلة (على القول إذا تعارضا) وجهل المتأخر منهما و هم أصحاب الشافعي فأما عندنا فيرجح القول على الفعل لأنه أدل على كونه للقربة لاحتمال أن الفعل وقع وفق العادة أو بحسب ما يناسب تلك الحالة و لذا قال اصحابنا إن الاعتمار من التنعيم أفضل منه من الجعرانة خلافا للشافعية مع أن عمرة عائشة كانت متأخرة حيث وقعت عام حجة الوداع و عمرة الجعرانة كانت سنة الفتح‘‘ ترجمہ: دلائل میں سے قول و فعل جب متعارض ہوجائیں اور ان میں سے آخری معلوم نہ ہو، تو فعل کو قول پرترجیح ہوگی اور یہ امام شافعی کے اصحاب کا موقف ہے۔ جبکہ ہمارے (احناف کے) نزدیک قول کو فعل پر ترجیح دی جائے گی، کیونکہ قول زیادہ واضح طور پر قربت (عبادت ہونے) پر دلالت کرتا ہے، اس لیے کہ فعل میں احتمال ہوتا ہے کہ وہ عادت کے مطابق صادر ہوا ہو، یا کسی خاص حالت کی مناسبت سے واقع ہوا ہو۔ اسی وجہ سے ہمارے فقہاءِ (احناف) نے فرمایا ہے کہ تنعیم سے عمرہ کرنا، جعرانہ سے افضل ہے، برخلاف شافعیہ کے۔ حالانکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمرہ بعد میں تھا، اس طرح کہ وہ حجۃ الوداع کے سال واقع ہوا تھا، جبکہ جعرانہ کا عمرہ فتحِ مکہ کے سال ہوا تھا۔ (شرح الشفا للقاضی عیاض، جلد 2، صفحہ 261،دار الكتب العلمية، بيروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر:FAM-1192
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 14مئی 2026ء