ریاض الجنہ میں نوافل کا طریقہ اور شرعی آداب
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
ریاض الجنۃ میں نوافل ادا کرنے کے لیے دھکم پیل کرنا
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اسلامی بہنوں کو ریاض الجنۃ جانے کے لیے کافی دھکم پیل کا سامنا ہوتا ہے اور جو اس رش میں دھکے وغیرہ دے کر آگے نہ بڑھے، وہ ریاض الجنۃ حاضر نہیں ہوسکتی اور کبھی کسی عورت کا نمبر آجاتا ہے اور کبھی کوئی محروم رہ جاتی ہے۔ ایسی صورت حال میں مجھے نوافل پڑھنے کے لیے ریاض الجنۃ جانا ہی ہوگا یا پھر سبز گنبد کے سامنے حاضر ہو کر درود و سلام پڑھتی رہوں؟
جواب
ریاض الجنۃ میں نماز نفل کی ادائیگی بڑی فضیلت کا باعث ہے، لیکن وہاں جاکر نوافل پڑھنا لازم و ضروری نہیں اور اس کے لیے عورتوں یا مردوں کا دھکے دینا کہ جو دوسروں کی اذیت کا سبب ہو، ناجائز و گناہ ہے اور بالخصوص نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی بارگاہ عالی میں ایسا کرنا سخت بے ادبی ہے کہ یہ وہ بارگاہ ہے کہ یہاں نوری فرشتے بھی انتہائی ادب سے حاضر ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر آسانی سے میسر ہو، تو ریاض الجنۃ میں حاضر ہو کر نفل ادا کر لیجئے، ورنہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کے سبز گنبد کے سامنے درود و سلام عرض کیجئے۔
اور جہاں تک یہ بات ہے کہ دھکم پیل کے بغیر ریاض الجنۃ میں نفل پڑھنا ممکن نہیں، ایسا نہیں، بلکہ آپ بھروسہ رکھیں، ان شاء اللہ عزوجل جب نبی پاک صلی اللہ علیہ و الہ و سلم کی طرف سے اذن ہوگا، خود ہی اسباب پیدا ہو جائیں گے اور ادب کا خیال رکھتے ہوئے ریاض الجنۃ میں نوافل پڑھنا بھی نصیب ہو جائیں گے۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
فتویٰ نمبر: WAT-188
تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1443ھ / 26 اکتوبر 2021ء