کیا بغیر وضو کے طواف کرنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
بغیر وضو طوافِ کعبہ کے بعض چکر لگا لئے تو کیا حکم ہے
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
اگر کسی نے بغیر وضو طواف خانہ کعبہ کے کچھ چکر لگا لئے تو کیا حکم ہے؟ اور کفارہ لازم ہونے کی صورت میں کیا اعادہ سے کفارہ ساقط ہو جاتا ہے؟
جواب
اگر طوافِ زیارت کل یا اکثر یعنی چار پھیرے بے وضو کئے تو دَم واجب ہوجائے گا۔ مکۂ مکرمہ میں ہوتے ہوئے ایسے طواف کا اِعادہ مستحب ہے، اِعادہ کرنے پر دَم ساقط ہو جائے گا۔ طوافِ زیارت کے تین یا اس سے کم پھیرے وضو کے بغیر کئے، تو ہر پھیرے کے بدلے ایک صدقہ دینا ہوگا، اِعادہ کرنے پر صدقہ ساقط ہو جائے گا۔
اگر عمرے کے طواف میں کسی نے تمام يا اكثر پھیرے بےوضو کئے، تو اِعادہ کرنا مستحب ہے۔ اِعادہ نہ کیا، تو ایک دَم دینا لازم ہوگا۔ اگر کسی نے طوافِ عمرہ کا اَقَل حصہ یعنی ایک یا دو یا تین پھیرے بے وضو کئے، تو بھی دَم ہی ہوگا۔ اگر مکۂ مکرمہ میں رہتے ہوئے یا واپس آکر اِعادہ کر لیتا ہے، تو دَم ساقط ہو جائے گا۔ بے وضو عمرہ کا طواف کرنے میں اعادے سے جو کفارہ ساقط ہوتا ہے، اس میں قارن کے الگ احکام ہیں۔
اگر کسی نے طوافِ وَداع، طوافِ قُدوم یا کوئی نفلی طواف مکمل یا اس کا اکثر حصہ یا اَقَل حصہ بے وضو کیا۔ ان تمام صورتوں میں ہرچکر کے بدلے ایک صدقۂ فطر دینا ہوگا۔ مکۂ مکرمہ میں رہتے ہوئے ایسے طواف کا اِعادہ مستحب ہے اگر اِعادہ کرلیا، تو صدقہ ساقط ہو جائے گا۔ (27 واجبات حج، ملخصا، صفحہ 149 - 153، مکتبۃ المدینہ)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد کفیل رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-399
تاریخ اجراء: 23 ذو الحجۃ الحرام 1443ھ / 23 جولائی 2022ء