logo logo
AI Search

Kisi Ghareeb Mohtaj Ki Madad Karna Afzal Hai Ya Nafli Hajj Karna ?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کسی غریب محتاج کی مدد کرنا افضل ہے یا نفلی حج کرنا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی غریب محتاج کی مدد کرنا افضل ہے یا نفلی حج کرنا؟

جواب

نفلی کاموں میں سے کونسا نفلی کام افضل ہے اس بارے میں فقہائے اسلام نے قاعدہ بیان کیا ہے کہ جس نفلی کام کی حاجت و ضرورت زیادہ ہو وہ افضل ہے، لہذا اگر کوئی شخص زیادہ حاجت مند ہے تو اس کی مدد کرنا نفلی حج سے افضل ہے ورنہ نفلی حج صدقے سے افضل ہے،

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Sar-5217
تاریخ اجراء: 08 صفر المظفر 1437ھ / 09 نومبر 2016ء