logo logo
AI Search

Kiya 65 Sal Ki Bewa Bhi Baghair Mehram Ke Umre Par Nahi Ja Sakti?

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا 65 سال کی بیوہ بھی بغیر محرم کے عمرے پر نہیں جاسکتی؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میری بڑی بہن (بیوہ) جن کی عمر تقریباً 65 سال ہے وہ بغیر کسی محرم کے عمرے کی ادائیگی کے لئے جارہی ہیں۔ میری بہن کو یہ کہا گیا ہے کہ اس عمر میں محرم کی پاپندی نہیں ہے۔ ان کے ساتھ ان کی دیورانی اور کچھ خواتین اور ان کے ایک عزیز اپنی بیوی کے ہمراہ جارہے ہیں۔ کیا اس طرح میری بہن بغیر محرم شرعی سفر کر کے عمرے کی ادائیگی کے لئے جاسکتی ہیں؟

جواب

جس عورت کو عمرہ یا کسی اور کام کے لئے شرعی سفر کرنا پڑے (شرعی سفر سے مراد تین دن کی راہ یعنی تقریباً 92 کلومیٹر یا اس سے زائد سفر کرنا پڑے بلکہ خوف فتنہ کی وجہ سے تو علماء ایک دن کی راہ جانے سے بھی منع کرتے ہیں) تواس کے ہمراہ شوہر یا محرم ہونا شرط ہے، اس کے بغیر سفر کرنا ناجائز حرام ہے خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی، لہذا آپ کی بہن کا بغیر محرم کے عمرے کے لئے جانا جائز نہیں۔ اگر گئیں تو گنہگار ہوں گی اور ان کے ہر قدم پر گناہ لکھا جائے گا۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد سعید عطاری مدنی
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتویٰ نمبر: Kan-11954
تاریخ اجراء: 02 محرم الحرام 1438ھ / 04 اکتوبر 2016ء