حالت احرام میں چادر سے ہاتھ پاؤں چھپانے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
احرام کی حالت میں چادر سے ہاتھ پاؤں چھپ گئے تو حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ہم میاں بیوی عمرے پر گئے ہیں، وہاں حالتِ احرام میں (شوہر) نے سوتے وقت چادر یا کمبل سے اپنے پاؤں ڈھانپ لیے۔ تو کیا اس میں کوئی حرج ہے؟ اور اسی طرح اگر وہ احرام کی چادر کے اندر ہاتھ لے جا کر خود کو مکمل طور پر لپیٹ لے، تو اس کا کیا حکم ہوگا؟ برائے کرم رہنمائی فرما دیں۔
جواب
اگر ہاتھ یا پاؤں سونے والی چادر وغیرہ سے ڈھک جائیں، تو اس پر کچھ کفارہ لازم نہیں ہے، کیونکہ حالتِ احرام میں مرد کو دستانے پہننا ممنوع و ناجائز ہے، مگر چادر وغیرہ سے چھپ گئے تو کچھ حرج نہیں اور اسی طرح منع وہ شے ہے، جو پاؤں کی ابھری ہوئی ہڈی یا اس کے اوپر والے حصے کو کسی پہنے جانے والی چیز (جیسے جوتے یا موزے) سے چھپا دے۔ لہٰذا اگر یہ حصہ کسی اوڑھنے والی چیز سے پوشیدہ ہو جائے، تو اس پر کوئی ممانعت یا کفارہ لازم نہیں آتا۔
فتاوی شامی میں اس کی صراحت کچھ یوں ہے: ”قوله ولا باس بتغطیه اذنیه وقفاه وکذا بقیة البدن الا الکفین والقدمین للمنع من لبس القفازین والجوربین“ ترجمہ: محُرم کے لیے اپنے کانوں اور گدی (گردن کے پچھلے حصے) کو ڈھانپنا جائز ہے، اسی طرح باقی جسم کو بھی ڈھانپ سکتا ہے، البتہ ہاتھوں اور پاؤں کو نہیں ڈھانپے گا، کیونکہ دستانے اور موزے پہننے سے منع کیا گیا ہے (ممانعت ہاتھوں اور پاؤں سے متصل پہننے والی اشیاء کی ہے، نہ کہ اوڑھنے والی)۔ (ردالمحتار، باب الجنایات فی الحج، ج 02، ص 549، دار الفکر، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: محمد ساجد عطاری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر:NRL-0518
تاریخ اجراء: 11 ذیقعدۃ الحرام 1447ھ / 30 اپریل 2026 ء